ڈاکٹر فرزانہ ارشد کی دانائی
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 10 / جنوری / 2024
ہماری معروف و باصلاحیت اینکر پرسن ڈاکٹر فرزانہ ارشد کی تاریخ ولادت 12مارچ ہے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم فیصل آباد میں ہوئی اور وہیں سے گریجویشن کرنے کے بعد فیملی کے ساتھ لاہور شفٹ ہوگئیں۔ آپ نے ہسٹری میں ماسٹر ڈگری اور ایم فل گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے کیے۔
ڈاکٹر فرزانہ ارشد نے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی تاریخ کے شعبے میں مکمل کی۔ اسی دوران انہوں نے انٹرنیشنل ریسرچ ایوارڈ حاصل کیا اور ریسرچ کے لیے ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی امریکہ گئیں اور وہیں اپنی ریسرچ مکمل کی۔ بعد ازاں واپس آ کراسی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں اسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے تاریخ کا مضمون پڑھانا شروع کردیا جہاں سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ تعلیم و تدریس کے ساتھ آپ نے صحافتی میدان میں بھی قدم جمائے رکھے۔ میڈیا پرسن کی حیثیت سے ڈاکٹر فرزانہ ارشد صاحبہ نے بطور تجزیہ کار اور اینکر پرسن پی ٹی وی کے علاوہ دن نیوز، کوہ ِ نور نیو ز، نیو نیوز، اور چینل 24میں 2013 سے لے کر پیہم خدمات سرانجام دیں۔
ڈاکٹر فرزانہ ارشدکی خصوصی پہچان میڈیا میں ان کی مدلل، شعوری بولڈ آواز ہے وہ اسٹیبلیشمنٹ یا ڈکٹیٹر شپ کے بالمقابل ہمیشہ جمہوریت اور سویلین بالادستی کیلئے سرگرم رہی ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بلند ہونے والی یہ آواز میڈیا کے ذریعے پاکستان کے کمزور طبقات کا سہارا بنی رہی ہے۔ خواہ خواتین اور اقلیتوں کے ایشوز ہوں یا اس ملک بدنصیب کا کوئی بھی مظلوم طبقہ بلوچستان کے مسنگ پرسنز ہوں یا مزدور اور محنت کش غریب لوگ، ڈاکٹر فرزانہ اپنا فرض سمجھتی ہیں کہ ہرجگہ ان کے حقوق و مطالبات کا سوال اٹھائیں۔ جمہوریت کے ثمرات، پاکستان کے پیچھے رہ جانے کی وجوہات، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل، خواتین کی معاشرتی غیر منصفانہ و غیر مساویانہ پوزیشن، مذہبی انتہا پسندی کا عروج، انسانی حقوق اور آزادیاں یہ سبھی ڈاکٹر فرزانہ کی دلچسپی اور لگن کے موضوعات ہیں ان ساری خرابیوں کے پیچھے کون سی قوتیں کار فرما ہیں ڈاکٹر فرزانہ عقلمندی و باریک بینی سے ان کا کھُر ا ڈھونڈ نکالتی ہیں۔
یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی غلط کار ہو، دھوکے باز ہو یا مختلف النوع لبادے پہن کر عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے کوشاں ہو لیکن میڈیم فرزانہ کی نظروں سے اوجھل رہ جائے۔ یہ اس کی خوب گوشمالی اور پوسٹ مارٹم کرتی دکھائی دیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تاریخ کو
مسخ کرکے پڑھانے کا چلن ہے ہماری نوجوان نسل کو پاکستان کی حقیقی تاریخ سے دور رکھا گیا ہے۔ بالخصوص ہمارے سلیبس میں انڈیا دشمنی کوٹ کوٹ کر بھر ی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستانی قوم مضبوط ہمسائے کے سامنے خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کرنے لگی۔ جسے طاقتور فوجی سہاروں کی اشد ضرورت ہو۔ اسی سوچ کے زیر اثر یہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بے جا حمایت کا تصور ابھرا اور مابعد مضبوط ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے بچپن کی یادوں میں وہ مناظر ہیں جب فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق کا جنازہ گزر رہا تھا اور لوگ دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ اب ان لوگوں کو اس شخص کی اصلیت کا علم ہی نہیں تھا۔ انہیں یہ تک نہیں بتایا یا سمجھایا گیا تھا کہ اس ڈکٹیٹر نے نہ صرف یہ کہ آئین توڑتے ہوئے پارلیمنٹ اور جمہوریت کا گلا گھونٹا بلکہ گیارہ برس سے بھی طویل عرصے تک ملک و قوم پر ناجائز قبضہ جمائے رکھا۔ یہ شخص افغان جہاد اور مذہبی منافرت کے نام پر اس ملک میں ایسی بارودی سرنگیں بچھا گیا جو پوری قوم کو آج بھی لہولہان کررہی ہیں۔
یہ تھی وہ اصل وجہ جس کے باعث میں نے ہسٹری کے مضمون کو منتخب کیا۔ اسے خوب پڑھا اور بطور پروفیشن پڑھانے کا انتخاب کیا تاکہ اپنے نونہالوں کو سچائی بتائی جاسکے۔ آج ہمارا ملک جس بدتر صورت حال سے گزر رہا ہے، معاشی لحاظ سے جس طرح ایک بھکاری کی پہچان پوری دنیا میں کروا رہا ہے تو یہ سب یونہی راتوں رات نہیں ہوگیا۔ اس کے پیچھے بربادی اور جبرو غنڈہ گردی کی ایک طویل داستان ہے۔ مسئلہ محض کرپشن کا نہیں ہے۔ ہمارے یہاں خواہ مخواہ مخصوص مقاصد و مفادات کے تحت کرپشن کا واویلا ایسے کیا جاتا ہے جیسے یہی ہماری بربادی کی جڑ ہے۔ بلاشبہ کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے لیکن ہماری بربادی کی جڑ محض یہ بیماری نہیں ہے۔ کرپشن تو انڈیا اور بنگلا دیش سمیت ہمارے خطے کے بہت سے ممالک میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔ مگر یہ برائی ان کی ترقی کو روک نہیں سکی، نہ اس نے انہیں ہماری طرح بھکاری بنایا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ ارشد کا استدلال ہے کہ ہماری قومی بربادی میں جس چیز نے سب سے بڑھ کر ستم ڈھایا ہے، وہ آئین، قانون اور جمہوریت سے روگردانی ہے۔ سویلین اتھارٹی کو دبا کر یہاں اسٹیبلیشمنٹ کو بے لگام طاقت بنادیا گیا ہے۔ کبھی کسی منتخب جمہوری وزیر اعظم کو آج تک یہاں اپنی معیاد پوری نہیں کرنے دی گئی۔ اسٹیبلیشمنٹ انہیں اپنا کٹھ پتلی بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔ اور اپنا ایک طرح کا ہائبرڈ سسٹم لاگو کیے ہوئے ہے۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو ہماری بربادی کی بنیاد یہی سوچ اور اپروچ ہے جسے قائم دائم رکھنے کیلئے یہاں کبھی آزادی اظہار کا گلا دبایا جاتا ہے اور کبھی مذہب کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے عوامی جمہوری آوازوں کو کچلا جاتا ہے۔ کسی کو بھی مطعون کرنا ہوتو اس پر بلا سوچے سمجھے کرپشن کا الزام عائد کردیا جاتا ہے۔ آج پاکستان کے لوگ اپنے حالات سے اس قدر نا امید و مایوس ہوچکے ہیں کہ اگر موقع ملے تو شاید سارا پاکستان یہ ملک چھو ڑ کر یورپ اورامریکا چلا جائے۔
یہ 2018کی بات ہے جب بھی اس درویش کو ڈاکٹر فرزانہ صاحبہ کے ٹی وی پروگرام میں شرکت اور بحث مباحثے کا موقع ملتا رہا، تب وہ ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ آئین جمہوریت اور انسانی حقوق کی لگن اور کمٹ منٹ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پایا۔ ان دنوں ہماری ملٹری اسٹیبلیشمنٹ جس طرح ایک کھلاڑی کو اپنا مہرہ بنا کر ملک و قوم پر مسلط کرنے جارہی تھی ڈاکٹر فرزانہ ارشد اس کے خوب لتے لیتی پائی جاتیں۔ سویلین اتھارٹی اور جمہوری سر بلندی کیلئے ان کی یہی وہ سچی تڑپ تھی جو ان سے اس قریبی تعلق کی بنیاد بنی جو آج تک استوار ہے۔
وہ کئی مواقع پر ہمارے لبرل ہیومن فورم کے پروگراموں کی بھی رونق بنیں اور نئی جوان نسل کی فکری کجی و الجھاؤ کو دور کرنے کیلئے نہ صرف مدلل تقاریر کیں بلکہ ہر نوع کے سوالات کو اس خوش اسلوبی سے سلجھایا کہ آج بھی ہمارے لبرل ہیومن فورم کے دوستوں کا اصرار ہوتا ہے کہ میڈیم فرزانہ جی کو بدلے ہوئے حالات میں فکری رہنمائی کیلئے اپنے اجلاسوں میں بلایا جائے۔ مگر اب وہ اپنی فیملی سمیت امریکا تشریف لے جاچکی ہیں۔ لیکن ہم نے اس کا حل یہ نکال لیا ہے کہ انٹرنیٹ پر انٹرویوز کے ذریعے پاکستان کے الجھے مسائل پر ان سے عقل و شعور اور دانائی کی باتیں سنتے رہیں گے۔