پرویز مشرف کیس کا فیصلہ: کیا آئینی جمہوریت کا راستہ ہموار ہوگیا؟

سپریم کورٹ  نے  سابق صدر پرویز مشرف  کے خلاف  فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت کی حیثیت اور فیصلہ بحال کرکے ملک میں آئینی جمہوریت کا راستہ ہموار کرنے  لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ تاہم  اس  ایک فیصلہ سے  ملک میں جمہوریت کا مشکل سفر آسان نہیں ہوجائے گا اور نہ ہی اس پر  وار کرنے والوں کے ارادوں کو ناکام بنایا جاسکے گا۔

ضروری ہوگا کہ اب عدالتیں ہی نہیں بلکہ سیاسی پارٹیاں اور متعلقہ ادارے بھی ہوش کے ناخن لیں اور یہ تفہیم عام کی جائے کہ آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ہی ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔ اسی راستے پر چلتے ہوئے ملکی مسائل  و بحران کا کوئی قابل عمل حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔  چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے سنگین غداری  کیس میں خصوصی عدالت کی طرف سے پرویز مشرف کو سنائی گئی سزا ئے موت کو درست قرار دیا۔ اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم  کر دیا۔ بنچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان، اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔

 آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کے تحت  قائم کیے گئے سنگین غداری کے مقدمے کی  سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے  دسمبر 2019 میں  سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو  3 نومبر 2007 کو ملک کا آئین توڑنے کی پاداش میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا ۔ بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اسے  کالعدم قرار دے دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے  جسٹس مظاہر علی نقوی کی سربراہی میں بننے والے فل بنچ نے 13 جنوری 2020 کو خصوصی عدالت کے قیام کو ہی غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ خصوصی عدالت کے قیام کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد اس عدالت کی  دی گئی سزا بھی کالعدم ہو گئی تھی۔

پرویز مشرف کے خلاف آئین کی شق 6 کے تحت مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نومبر 2013 میں قائم کی گئی تھی۔ اس عدالت نے  6 سال کی کارروائی کے بعد بالآخر پرویز مشرف کو آئین شکنی کا مرتکب پایا اور سزائے موت سنائی ۔ لیکن  17 دسمبر 2019 کو سنایا جانے والا یہ فیصلہ  ایک ماہ سے بھی کم مدت میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ  نے مسترد کردیا ۔  13 جنوری 2020 کو اس خصوصی عدالت کوہی غیر آئینی قرار دیا گیا جسے حکومت وقت کے مشورے پر سپریم کورٹ نے مقرر کیا تھا۔ اس خصوصی عدالت کے سربراہ ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور  دو  مختلف صوبوں  کی ہائی کورٹس کے جج  رکن کے طور پر شامل تھے۔ البتہ لاہور ہائی کورٹ کو  یہ  فیصلہ جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی اتنی جلدی تھی کہ  خصوصی عدالت کے فیصلہ کو کسی میرٹ پر  پرکھنے کی بجائے یا  اپنے دائرہ اختیار کا جائزہ لینے کی بجائے ، اس تین رکنی بنچ نے  خصوصی عدالت کوہی غیر آئینی قرار دے کر معاملہ ختم  کردیا ۔ گویا نہ  ہو گابانس نہ بجے  گی بانسری ۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ  کے بعد ملک میں سناٹا چھا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت  نے  خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کی کردار کشی کی ہرممکن  کوشش کی  اور ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کی باتیں بھی سنائی دیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا   کہ ’ جنرل پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے ۔ خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے‘۔  آئی ایس پی آر کی اس ٹوئٹ کے بعد لاہور ہائی  کورٹ میں دیکھی جانے والی سرگرمی  وعجلت  اور 6 سال تک کام کرنے والی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے کی کارروائی   ’قابل فہم ‘ دکھائی دینے لگی۔  سب جانتے تھے کہ لاہور ہائی کورٹ کو کیوں ایسا فیصلہ  صادر کرنے  کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جو صریحاً اس کے دائرہ اختیار  سے باہر تھا۔ 

تاہم اس سے بھی زیادہ حیران کن  امر یہ تھا کہ  جنوری 2020   سے ستمبر2023 کے دوران میں چار  معزز و فاضل جج حضرات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طورپر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ان میں  میاں ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ، گلزار احمد اور عمر عطا بندیال شامل ہیں۔ یہ سب  چیف جسٹس اپنے اپنے طور پر ملک میں ’انقلاب‘ برپا کرنے کے دعوے دار تھے۔ ثاقب نثار  نے دیگر معرکتہ الآرا  کارناموں کے علاوہ ڈیم فنڈ کے نام سے  چندہ جمع کرنے کی مہم کا آغاز کیا اور  اپنے عدالتی اختیار کو اس فنڈ میں اضافہ کے لیے استعمال کیا ۔ کسی نے یہ سوال  نہیں اٹھایا کہ اربوں  ڈالر کے منصوبے کسی چیف  جسٹس کے قائم کیے ہوئے فنڈ  یا حکومت وقت  کی اعانت سے ہونے والی تشہیر  سے کیسے مکمل ہوسکیں گے؟ نہ ہی یہ پوچھا گیا کہ ملک میں انصاف  عام کرنے کے ذمہ دار عہدیدار کو ایک اہم معاشی و انتظامی معاملہ میں اقدام کی اجازت آئین کی کسی شق کے تحت حاصل  تھی۔ کیوں   کہ ملک میں یہ ماحول بنا دیا گیا ہے کہ  چیف  جسٹس حرف آخر ہے ۔ اس کا فرمایا ہؤا  ہی آئین ہے اور اسے کسی صورت رد نہیں کیا جاسکتا۔ 

اگلے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فوجداری قانون میں اپنی تمام مہارت نواز شریف کو کسی مافیا گروہ کا سربراہ ثابت کرنے میں صرف کردی۔ انہیں بھی ایک  ایسی اپیل پر غور کرنے کی فرصت نہیں ملی  جس میں اہم آئینی نکتہ کا جواب  تلاش کرنا ضروری تھا تاکہ سپریم کورٹ یہ طے کرے کہ اس کی قائم کی گئی خصوصی  عدالت کو ایک  صوبے کی ہائی کورٹ کا بنچ کیسے غیر آئینی قرار دے کر ختم کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔   ان کے بعد آنے والے جسٹس گلزار احمد کو  تو اپنے عہدے کی مدت میں کراچی کی تجاوزات گرانے اور غیر قانونی عمارتیں ڈھانے کا  حکم دینے کے سوا کوئی دوسرا کام کرنا نصیب ہی نہیں ہؤا۔   گزشتہ سال ستمبر میں ریٹائر ہونے والے عمر عطا بندیال نے  اہم معاملات پر غور کرتے ہوئے ایسے فیصلے تو کیے جن  میں  ملکی پارلیمنٹ کے اختیار کو  پرکھا گیا یا اور آئین کی تشریح  کے نام پر  ایسی بدعت کی بنیاد رکھی جس نے ملکی سیاست   کی پیچدگیوں  میں اضافہ  کیا ۔لیکن انہیں بھی  چیف جسٹس کے طور پر اپنی پونے دو سال کی مدت میں  پرویز مشرف کو ملنے والی سزا اور خصوصی عدالت  کی قانونی حیثیت کے بارے میں    لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف  اپیلوں  پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا ۔

اب اس اہم آئینی معاملہ کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ سزا کے خلاف پرویز مشرف کی اپیل ان کے انتقال اور اہل خاندان کی طرف سے اس معاملہ کی پیروی نہ کرنے کی بنا پر غیر مؤثر ہوگئی  ۔ البتہ چار رکنی بنچ نے اتفاق رائے سے  لاہور ہائی کورٹ  کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور خصوصی عدالت کا فیصلہ بحال کردیا۔  یہ فیصلہ ابھی صرف مختصر حکم کی صورت میں  ہی سامنے آیا ہے۔ مکمل عدالتی فیصلہ  جاری ہونے کے بعد فاضل ججوں کے دلائل سے آگاہی ہوگی  اور یہ تعین  ہوسکے گا کہ  کس بنیاد پر لاہور  ہائی کورٹ کا حکم ناقابل عمل قرار پایا ہے۔ البتہ اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ یہ معاملہ چار سال کی طویل مدت کے بعد طے ہوسکا ہے۔ اس دوران میں پرویز مشرف اس جہان فانی سے کوچ کرگئے ہیں اور سپریم کورٹ کے علاوہ   فوج میں بھی نئی قیادت سامنے آئی ہے۔ اس فیصلہ سے یہ افسوسناک حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ملک میں انصاف کی فراہمی   آئین و قانون کی  پابند نہیں ہے بلکہ اس پر عمل درآمد  کاتعلق  اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ  کسی خاص وقت میں سپریم کورٹ  اور فوج کا سربراہ کون ہے اور وہ  ملکی  قانون پر کس طرح عمل  ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔

ملک میں وسیع سیاسی تقسیم اور تحریک انصاف کی  ملکی نظام اور اداروں سے شدید ناراضی کی وجہ  سے اس وقت  فوج اور سپریم کورٹ کے سربراہان  کے خلاف ہمہ قسم  بدگمانیاں  سننے میں آرہی ہیں۔ البتہ اس بات کا کریڈٹ تو موجودہ چیف جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ کو دینا پڑے گا کہ انہوں نے     پرویز مشرف کیس کے علاوہ، ذوالفقار  علی بھٹو  کی سزا کے خلاف صدارتی ریفرنس اور فیض آباد دھرناکیس  جیسے معاملات کو دوبارہ زندہ کیا اور ان پر فیصلے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔  پرویز مشرف کیس کا فیصلہ اس جانب  ایک مثبت، صحت مندانہ اور  آئین کی بالادستی کے  لیے ایک خوشگوار پیش رفت ہے۔ پاک فوج بھی اگر اسے خوش دلی سے قبول کرے گی تو اسے  آئینی بالادستی کے لیے اداروں کی کمٹمنٹ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

آئینی بالادستی کی بحث کرتے ہوئے یہ اہم نہیں ہے کہ کس کو کیا سزا دی جاتی ہے۔ البتہ  یہ طے ہونا ضروری ہے  کہ کسی بھی معاملہ میں درست اور غلط کا تعین ہو سکے  تاکہ مستقبل کا منظر نامہ واضح ہو اور ایسی روایت قائم ہوسکے جس میں سب اداروں کو معلوم ہو کہ صرف قانونی راستہ اختیار کرنا ہی مناسب  طریقہ ہے ۔ غیر آئینی اقدامات کے لیے ملک میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ملک کے پیچیدہ نظام حکومت اور  تکلیف دہ  سیاسی منظر نامہ  کی وجہ سے البتہ  کسی ایک  فیصلہ سے یہ طے ہونا مشکل ہے کہ ملک  کا آئینی سفر سہل ہوگیا ہے۔    ایک چیف جسٹس یا آرمی چیف بدلنے سے   تصویر تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں آئین کو بالادست رکھنے کی جو کاوش کی ہے، وہ اسی صورت میں  کسی مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکے گی اگر ملکی سیاست دان بھی یہ عزم کریں کہ اب غیر آئینی طریقوں اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کو سیاسی ضرورت کے نام پر جائز نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ مناسب قانون سازی اور آئینی ترامیم کے  ذریعے ایسا انتظام کیا جائے کہ  مستقبل میں پھر کسی کو پرویز  مشرف بننے کا حوصلہ نہ ہو۔

8 فروری کو ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ سپریم کورٹ اس وقت تک اس فیصلہ کی پشت پر کھڑی ہے۔ اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ یہ انتخابات تمام تر رکاوٹوں  کے باوجود عمل پزیر ہوں گے تاکہ ملک   میں مشکوک  نگران حکومتوں کا دورانیہ ختم ہو۔ اور جمہوری طور سے منتخب ہونے والے عوامی نمائیندے  حکومت قائم  کریں۔  تاہم سیاست دانوں کی ذمہ داری صرف انتخابات میں حصہ لینے اور اس میں  ’کامیاب‘ ہونے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ حکومت سازی کے بعد مناسب اور شفاف نظام حکمرانی کی طرف پیشقدمی ضروری ہوگی۔ یہ بھی بے حد اہم ہے کہ تمام تر اختلافات اور شکر رنجیوں کے باوجود انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کو  فیصلہ سازی کا مرکز بنایا جائے اور ملک  میں کسی تبدیلی کے لیے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا  نیا سلسلہ نہ شروع کیا جائے۔ تب ہی   ملک میں آئینی جمہوریت اور  عوامی حکمرانی کے بنیاد اصول  کا بول بالا ہوسکے گا۔