سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن بھی مستعفی ہوگئے

  • جمعرات 11 / جنوری / 2024

جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دیا ہے۔

صدر کو بھیجے گئے استعفے میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’میں اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر کام نہیں کرنا چاہتا‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 206 (1) کے تحت استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ خط میں استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن، سپریم کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے سینئر ترین جج تھے اور انہیں رواں سال اکتوبر میں اگلا چیف جسٹس بننا تھا۔ سنیارٹی لسٹ کے دوسرے سینئر ترین جج جسٹس سردار طارق مسعود 10 مارچ 2024 کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن مستعفی ہونے والے جسٹس مظاہر نقوی کو جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کے مخالف تھے۔ اور سپریم جوڈیشل کونسل کی آج کی کارروائی میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن، شریف خاندان کےخلاف نیب ریفرنسز میں نگران جج بھی تھے۔ وہ شہریوں کا ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دینے والے 5 رکنی بینچ کے سربراہ رہے جبکہ شاہ زیب قتل کیس کے ملزمان کو بری کرنے والے بینچ کے سربراہ بھی تھے۔

جسٹس اعجاز کے استعفے کے بعد جسٹس منصور  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنیں گے۔ قاضی فائز عیسیٰ کی 25 اکتوبر 2024 کو ریٹائر ہوں گے۔

جسٹس اعجاز کے استعفیٰ کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ سپریم جوڈیشل کونسل جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن کا حصہ بن گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی ’مس کنڈکٹ‘ کی شکایات کا سامنے کرنے والے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ صدر عارف علوی نے آج ان کا استعفیٰ قبول کرلیا تھا۔