انتخابات اور قومی مسائل

انتخابات کا بنیادی نکتہ قومی مسائل کا بہتر حل تلاش کرناہوتا ہے۔ کیونکہ ووٹرز کی ایک ہی سوچ اور خواہش ہوتی ہے کہ آنے والی حکومت ان کے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے ۔ لیکن پاکستان کی سیاست کی کہانی دنیا کے دیگر جمہوری ممالک سے مختلف ہے۔

یہاں انتخابات نہ تو مسائل کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں اور نہ ہی انتخابی منشور کو اولیت دی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انتخابات کا عمل ہوتا تو ضرور ہے مگر ان انتخابات کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ پاکستان کے اس وقت پانچ مسائل سرفہرست ہیں۔ ان میں اول سیاست اور جمہورکی حکمرانی یا سیاسی استحکام، دوئم معیشت کی بدحالی ، سوئم سیکیورٹی سے جڑے مسائل، چہارم گورننس کا بحران، پنجم ادارہ جاتی خود مختاری اور شفافیت کے سوالات اور سول ملٹری تعلقات شامل ہیں ۔

ان پانچوں مسائل میں ایک عمومی رائے یہ ہی ہے کہ ان مسائل کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنی قومی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے اور جو بھی ترقی اور استحکام کا روڈ میپ ہو، وہ ان ہی مسائل کو بنیاد بنا کر تیار کیا جائے ۔ کیونکہ ہم نے قومی ترجیحات کے تعین میں بڑی کمزوری دکھائی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور ہوں ، سیاسی تقرریں ہوں، جذباتیت پر مبنی نعرے یا گفتگو یا دعوے ہوں، سب میں ایک ہی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے کہ یہ سب کچھ زمینی حقائق سے مختلف ہوتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہل سیاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ان مسائل کو اور زیادہ خرابی کی طرف لے کر جاتی ہے۔

اس وقت بھی جو عام انتخابات کا سیاسی منظر سجا ہوا ہے جس میں ہمیں انتخابی مہم اور قومی مسائل کی تشہیر یا ان کی بہتری کے لیے پیش کرد ہ خاکے سے زیادہ طاقت ور طبقات اور سیاسی فریقوں میں جوڑ توڑ اور اقتدار کی بندربانٹ کا کھیل عروج پر ہے۔ اس کھیل میں سب کچھ غالب نظر آتا ہے مگر جو چیز دیکھنے کو نہیں مل رہی، وہ عوامی مفادات اور ان مسائل کے حل کی کمٹمنٹ ہے۔ جب اہل دانش کی سطح پر اس طرزعمل، سیاسی جماعتوں ، قیادت اور ان کے رویہ پر تنقید کی جاتی ہے توہمیں یہ دلیل سننے کو ملتی ہے کہ انتخابی سیاست ایسے ہی ہوتی ہے۔ اس میں جذباتیت اور جھوٹ پر مبنی نعروں یا مخالفین کے خلاف کردار کشی یا جھوٹ پر مبنی نعرے نہ ہوں تو مہم ووٹروں کو متاثر نہیں کرتی۔ یہ منطق بھی دی جاتی ہے انتخابی مہم میں جو سیاست دان جھوٹ بولتے ہیں یا یوٹرن لیتے ہیں اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ یہ سب کچھ انتخابی مہم کا حصہ ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنی انتخابی مہم میں سنجیدگی نہیں پیدا کرنی ، سنجیدہ سوالات اور سنجیدہ مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل نہیں پیش کرنا تو پھر اس طرز کی سیاست اور انتخابی مہم یا انتخابات سے کیسے ہم حالات کی درستی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر تو ہمیں اپنی انتخابی سیاست کی شفافیت اور مسائل کے حل کے لیے مجموعی طور پر پورے سیاسی ، انتخابی، قانونی اور ادارہ جاتی نظام کی سطح پر مضبوط اصلاحات درکار ہیں۔ کیونکہ اصلاحات کے بغیر شفاف انتخابی نظام بھی ممکن نہیں اور نہ ہی ہمیں انتخابی نظام کو سیاسی تنہائی میں دیکھنا چاہیے ۔

سیاست ، جمہوریت ، آئین، قانون اور انتخابات سمیت ادارہ جاتی عمل مکمل پیکیج ہے اورسب کے تانے بانے کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی ایک ادارہ دوسرے ادارے کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا تو جمہوری عمل کی مضبوطی کا عمل کمزور یا ٹکراؤ کی صورت میں ہی رہے گا۔

سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور قومی سیاست میں کبھی بھی ایک بڑی بحث کا حصہ نہیں بن سکے۔ ماسوائے جماعت اسلامی کے کسی بھی جماعت نے وقت سے قبل نہ تو اپنا انتخابی منشور تیار کیا، نہ عوام کے سامنے پیش کیا۔ نہ اس پر قومی سطح پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا۔ جماعت اسلامی کی سیاست سے لاکھ اختلاف کریں اور ان پر تنقید کریں لیکن منشور کی تیاری اور پیش کرنے میں پہل کرنا اچھا عمل ہے۔

جماعت اسلامی نے اس منشور پر صوبائی سطح پر مکالمہ کا اہتمام کیا اور لوگوں کے سامنے اس پر نہ صرف بحث کی بلکہ دیگر لوگوں کے نقطہ نظر یا اس پر ہونے والی تنقید کو بھی خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔ جب کہ ا ن کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑی سیاسی جماعتیں کہلانے والی پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے منشور کی تیاری کی، نہ عوام کے سامنے پیش کیا اور نہ اپنے منشور پر مکالمے کا اہتمام کیا ۔

ہمارے میڈیا پر جاری انتخابی مہم میں بھی انتخابی منشور کے مقابلے میں الزامات کی سیاست کو بالادستی حاصل  ہے۔ کچھ میڈیا پر منشور کی بنیاد پر پروگرامز چلتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ ماہرین کو بلا کر  انتخابی منشور کا تجزیہ کم اور ان ہی جماعتوں کو دعوت دے کر اس کی تشہیر کا زیادہ انتظام کیا جاتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں سب ہی سیاسی جماعتیں اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے حصول میں سرگرداں نظر آتی ہیں۔ آپ سیاسی قیادت کو بٹھائیں اوران سے پوچھیں کہ پانچ بڑے مسائل کا حل ان کے پاس کیا ہے تو ہمیں کوئی معقول بحث سننے کو نہیں ملے گی۔

یہ سوچ اور فکر کہ ہماری سیاسی جماعتوں یا سیاسی قیادت کے پاس مسائل کا حل نہیں یا یہ ان کی ترجیحات کا حصہ نہیں اور اس کے مقابلے میں ان کے ذاتی مفادات کی اہمیت زیادہ ہے ، پریشان کن صورتحال کی عکاسی کرتی ہے ۔ کیونکہ سیاسی اور جمہوری نظام کی ساکھ ہی عام آدمی کے مفادات سے جڑی ہوتی ہے ۔

تعلیم ، صحت، بجلی ، گیس، مہنگائی، مقامی انصاف، سیکیورٹی، خوراک کا بحران ، پٹرول ، ڈیزل، تیل اور بنیادی اشیا کی فراہمی میں مسائل یا بڑھتی ہوئی قیمت یا قیمتوں کو کنٹرول کرنے والے اداروں کی ناکامی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور روزگار کا عدم تحفظ سمیت مسائل پر ہماری سیاست اور جمہوریت یا حکمرانی کا نظام لوگوں کو کچھ نہیں دے رہا ۔ اس کے مقابلے میں حالات کی غیر یقینی یا عدم تحفظ کا احساس لوگوں میں بڑھ رہا ہے۔ یہ عمل جہاں لوگوں میں مایوسی پیدا کررہا ہے، وہیں ہماری سیاست اور جمہوریت سمیت انتخابی نظام پر بھی بنیادی سوالات اٹھارہا ہے ۔ یہ نظام جس انداز سے چلایا جارہا ہے، اس سے اس کو چلانے یا اس پر بضد رہنے کا مطلب یہ ہی ہے کہ ہم نے طے کرلیا ہے کہ ہم روائتی اور فرسودہ خیالات سے ہی آگے بڑھیں گے ۔

اس لیے پاکستانی ووٹرز کو اس نظام کو چیلنج کرنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں سمیت سیاسی قیادت پر دباؤ بڑھانا ہوگا کہ وہ اپنے طرز عمل کو ہر صورت تبدیل کریں کیونکہ ان کا طرز عمل عام آدمی سمیت مجموعی طور پر ریاست اورعوام کے مفادات کے برعکس ہے  ۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ہی ممکن ہوگا جب ہم حالات کی سنگینی کو محسوس کریں، سمجھیں اور اس کے بعد ایک بڑے دباؤ کی سیاست سے تبدیلی لائیں۔