یمن پر امریکی حملہ بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 12 / جنوری / 2024
یمن کے حوثیوں پر امریکہ و برطانیہ کے فضائی و میزائیل حملوں کے بعد عرب ممالک نے علاقے میں جنگ کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن و مصر سمیت متعدد عرب ممالک نے کہا کہ وہ صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور ایران نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ صدر اردوان کا کہنا ہے کہ امریکہ بحیرہ احمر کو خون کا سمندر بنا دینا چاہتا ہے۔
جمعہ کو بحیرہ احمر میں امریکی و برطانوی بحری بیڑے نے حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے علاوہ متعدد راکٹ بھی داغے تھے۔ یہ حملے بظاہر اس علاقے میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے بدھ کوسلامتی کونسل نے ایک قرار داد میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان حملوں کو بند ہونا چاہئے کیوں کہ یہ غیر ضروری طور سے اشتعال پیدا کررہے ہیں۔ البتہ حملوں کے بعد حوثی لیڈر عبدل مالک الحوثی نے ایک ٹیلی ویژن تقریرمیں کہا ہے کہ ہمارے خلاف کسی بھی امریکی حملہ کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا۔ حوثی ترجمان اس سے پہلے واضح کرتے رہے ہیں کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ حوثی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم خاص طور سے ان جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کا کسی بھی طرح اسرائیل سے کوئی تعلق ہو۔ اب ایران کے حمایت یافتہ اس گروپ کے لیڈر الحوثی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی و برطانوی حملوں کے بعد جوابی کارروائی ہوگی اور بحیرہ احمر میں مزید حملے کیے جائیں گے۔
یمن کے حوثیوں پر امریکہ اور برطانیہ کے حملوں نے بعد ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے سخت رد عمل دیا ہے۔ حالانکہ ترکیہ امریکہ و دیگر یورپی ملکوں کے عسکری اتحار نیٹو کا رکن ہے لیکن مشرق وسطی اور اس سے ملحق علاقے میں پالیسیوں کے حوالے سے ترکیہ نے ہمیشہ امریکہ مخالف پالیسی اختیار کی ہے۔ صدر اردوان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اور برطانیہ کی کارروائی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کو خون کے سمندر میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ حوثی پر کیے گئے حملے غیرمعمولی سخت کارروائی ہے‘۔ اس بیان میں صد اردوان نے اس تنازعہ کے پھیلنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین بھی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اندازے کی ایک غلطی غزہ میں اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ البتہ امریکہ نے حوثی ٹھکانوں پر حملوں کے تناظر میں یہی تاثر دیا ہے کہ امریکہ تنازعہ بڑھانا نہیں چاہتا لیکن وہ اہم سمندری مواصلت کو لاحق خطرہ پر خاموش بھی نہیں رہ سکتا کیوں کہ اس سے اس کی معیشت و سکیورٹی کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملہ کے بعد امریکہ نے اس علاقے میں اپنے بحری بیڑے بھیجے تھے اور وہ یمن کے علاوہ شام اور عراق میں ایران نواز گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ بعض صورتوں میں امریکی بحریہ نے شام و عراق میں محدود کارروائی بھی کی ہے۔
امریکہ نے بحری تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کے بعد ایک طرف سلامتی کونسل سے مذمتی قرار داد منظور کروانے کا اہتمام کیا تو دوسری طرف بیس ممالک کے ساتھ مل کر ’آپریشن پراسپیریٹی‘ کے نام سے ایک عالمی اتحاد بھی قائم کیا تھا۔ اس اتحاد کا مقصد یہی تھا کہ اگر کسی صورت میں امریکہ کوئی جنگی کارروائی کرتا ہے تو اسے عالمی برادری کا ردعمل قرار دینے کی کوشش کی جائے۔ اسی لیے جمعہ کو ہونے والے حملوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے بتایا تھا کہ یہ حملے برطانیہ کے علاوہ آسٹریلیا، کینیڈا، بحرین اور نیدر لینڈ کے تعاون سے کیے گئے تھے۔ نیٹو اور اس کے بیشتر ارکان کے علاوہ دنیا بھر میں امریکہ کے دیگر حلیف ممالک نے ان حملوں کو عالمی تجارت کی حفاظت کے لیے ضروری قرار ددیا ہے۔ تاہم ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ آئیدے نے ایک طرف تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کو غلط کہا ہے اور امریکی کارروائی کی حمایت کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس تشویش کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ تنازعہ مشرق وسطیٰ کی بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سارے تنازعہ کی بنیاد غزہ کی جنگ ہے۔ ہم سب کو کسی بھی طرح اس جنگ کو روکنے کی کوشش کرنا چاہئے۔
حوثی قبائل ایک مضبوط عسکری گروہ ہے جو یمن کے بڑے علاقے پر قابض ہے۔ یہ گروپ علاقے میں سعودی اثر و رسوخ کے خلاف 80 کی دہائی میں قائم ہؤا تھا اور اسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس گروپ کے پاس 20ہزار نفوس پر مشتمل فوجی دستے ہیں۔ 2014 میں حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب نے اپنے حلیف ممالک کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف مسلسل کارروائی کی ہے لیکن ان کی عسکری قوت کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ البتہ یمن کے شہریوں کو بے پناہ صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ یمن کی صورت حال کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شامل کرتی ہے۔ وہاں بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے تخمینہ کے مطابق سعودی عرب کی مسلط کی ہوئی جنگ میں ڈیڑھ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ قحط یا خوراک کی قلت سے مرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ 30 ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔
اب اگر سعودی عرب کی بجائے امریکہ اپنے حلیف ملکوں کے ساتھ مل کر اور اپنے بحری بیڑے کی بنیاد پر حوثیوں کے ساتھ کسی طویل المدت جنگ میں الجھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ جنگ درحقیقت اسے تن تنہا ہی لڑنا پڑے گی۔ اس تنازعہ میں اسے کوئی بڑی حمایت میسر نہیں آسکے گی۔علامتی طور سے ہوسکتا ہے کہ درجنوں ممالک امریکی اتحاد میں شامل رہیں لیکن ا س جنگ کے مصارف اور ذمہ داری بہر حال امریکہ ہی کو برداشت کرنا پڑے گی۔ صدر جو بائیڈن ایک جہاندیدہ سیاست دان ہیں لیکن ان سے اندازے کی یہ غلطی ہورہی ہے کہ کوئی تنازعہ شروع کرکے اسے آسانی سے کسی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکتا ہے۔ ایک بار جنگ میں ملوث ہونے کے بعد سفارت کاری کا مرحلہ مشکل ہوجاتا ہے اور کوئی بھی ملک تصادم میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ امریکہ نے ماضی قریب میں افغانستان اور عراق میں دہشتگردی ختم کرنے کی نیت سے جنگیں شروع کرکے دیکھا بھی ہے کہ کوئی بھی تصادم اسلحہ و بارود سے جیتنا ممکن نہیں ہوتا۔ 2021 میں امریکی افواج کو جس ہتک آمیز طریقے سے کابل چھوڑنا پڑا تھا ، اسے امریکہ کی براہ راست شکست نہ بھی کہا جائے ، پھر بھی اس نے امریکی غرور نخوت کے چہرے سے نقاب ضرور سرکادیا تھا۔
اسی لئے اسرائیل نے جب غزہ میں فوجی کارروائی کو طول دینا شروع کیا تو صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو افغانستان میں امریکی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے یہی سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ تنازعہ کو طول دینا کسی کے فائدے میں نہیں ہوتاا ور اس سے کوئی بڑا مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ اب تین ماہ سے جاری جنگو جوئی کے باوجود اسرائیل نہ تو کوئی بڑا ہدف حاصل کرسکا ہے اور نہ ہی اپنے یرغمالیوں کو رہا کروانے میں کامیاب ہؤا ہے۔ اس کے برعکس غزہ میں انسانی جانوں کے شدید نقصان اورسویلین سہولتوں کو تباہ کرنے کے نتیجہ میں اسے دنیا بھر میں نسل کشی کے الزمات کا سامنا ہے۔ اب جنوبی افریقہ یہ تنازعہ ہیگ کی عالمی عدالت میں لے کر گیا ہے جہاں اسرائیل کے خلاف نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات پر کارروائی ہورہی ہے۔
اس تناظر میں امریکہ اگر حوثیوں کے خلاف تسلسل سے کارروائی کرنے کا رادہ رکھتا ہے تو وہ ایک نئے تنازعہ میں ملوث ہوکر اپنی معیشت اور عالمی سفارتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔ اور اگر صرف ایک دو بار حملوں سے یہ تصور کرلیا جائے کہ حوثی خوفزدہ ہوکر بحری جہازوں پر حملے بند کردیں گے تو اسے اندازے کی سنگین غلطی کہنا چاہئے۔ اس دوران میں یہ اندیشہ بہر حال موجود رہے گا کہ کسی بھی وقت کوئی ایسا سانحہ رونما ہوسکتا ہے جس سے یہ جنگ براہ راست دو ممالک کے درمیان شروع ہوجائے۔ امریکہ اور دنیا ایسی کسی جنگ کا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ امریکی حکومت نے حوثیوں پر حملہ سے پہلے ان سب اندیشوں کو مناسب طریقے سے جانچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
یمن پر حملوں کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ و برطانیہ کی کارروائی پر رد عمل دیتے کہا ہے کہ ’یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب کہ امریکہ کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف تقریباً 100 دن سے جاری صیہونی جنگ جوئی کی مکمل حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ حملے یمن کی خود مختاری کے خلاف ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں‘۔ روس نے بھی ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ امریکہ نے حوثیوں کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کا غلط استعمال کیا ہے‘۔ اس قرار داد میں حوثیوں سے بین الاقوامی جہازوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس دوران میں صرف حوثی لیڈ ر عبدل مالک الحوثی ہی نے امریکی حملوں کا جواب دینے کا اعلان نہیں کیا بلکہ حزب اللہ ، حماس اور اسلامی جہاد نے بھی ایسے ہی اشارے دیے ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ’ ان حملوں سے واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ پوری طرح اسرائیل کا پشت پناہ ہے اور غزہ کی جارحیت کا ذمہ دار ہے‘۔
اس مشکل سے نکلنے کے لیے امریکہ کو اسرائیل کی پشت پناہی کرنے کی بجائے، غزہ میں جنگ اور تباہ کاری رکوانے کے لیے تل ابیب پر دباؤ ڈالنا چاہئے تاکہ فلسطین کے مسئلہ کو اس علاقے میں آباد سب لوگوں کے پرامن بقائے باہمی کے مقصد سے حل کرایا جاسکے۔ 7 اکتوبر کو ہونے والی کارروائی کا حوالہ دے کر 75 سال کے مظالم اور نصف صدی سے زائد مدت تک فلسطینی علاقوں پر ناجائز قبضہ کے لیے دلیل نہیں دی جاسکتی۔ نہ ہی دنیا کے لوگوں کو اس سوال کا جواب دیا جاسکتا ہے کہ انسانی حقوق کا نام لینے والے ممالک کس منہ سے غزہ کے محصور اور بے وسیلہ لوگوں کے خلاف ایک طاقت ور ملک کی جنگ جوئی پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بلکہ صدر بائیڈن کی سربراہی میں امریکہ تو نہایت ڈھٹائی سے نہتے شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے اسرائیل کو جنگی ہتھیار اور گولہ بارود بھی فراہم کررہا ہے۔