مسلم لیگ (ن) ڈکیتی سے اقتدار میں آرہی ہے: شاہد خاقان عباسی

  • ہفتہ 13 / جنوری / 2024

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اقتدار میں آ رہے ہیں مجھے اس سے اختلاف ہے۔

لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مخالفت کرکے کھڑے تو ہوں۔  بندوق پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں، بندوق تو میں بھی رکھ سکتا ہوں۔ اخلاقی جرات نہیں تو سیاستدانوں کو سیاست کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح نوازشریف اقتدار میں آ رہے ہیں مجھے اس سے اختلاف ہے۔ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے بغیر 100 کے بجائے 30 سیٹوں پر آ جائیں لیکن مورال ڈاؤن نہ کریں۔ پاکستان میں کرسی کی کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ میں وزیر اعظم نہیں تھا بلکہ مجھے ملازمت دی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف چوری کرکے آئی تھی تو مسلم لیگ (ن) ڈکیتی کرکے اقتدار میں آ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہوں، ان کے خلاف الیکشن نہیں لڑوں گا۔ سیاست نہیں چھوڑی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ناکامی کے پیچھے چوری کا الیکشن ہے، بانی پی ٹی آئی چوری کے الیکشن کی وجہ سے اس حال کو پہنچے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاریخ میں صرف 4 لیڈر ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، عمران خان اور نواز شریف آئے ہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جس کے کہنے پرعوام ووٹ ڈالتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے خاتمے کے لیے شہبازشریف کو کئی بار کہا۔ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیاسی تعلق نہیں رہا۔ اللہ کرے دوستی قائم رہے۔ مسلم لیگ (ن) سے دوری کی وجہ مریم نواز نہیں ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مفتاح اسمٰعیل کو استعفی نہ دینے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ڈٹے رہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو مفتاح اسمعیل کو اس طرح ذلیل کرکے استعفی نہیں لینا چاہئے تھا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ نئی نسل کے ساتھ چلنا ہے یا نہیں۔