عدالتی و سیاسی تطہیر کے تقاضے

میڈیا کا ایک معروف بلکہ پاپولر شخص جو کراچی سے ایم این اے بن کر خود کو بڑا سیاستدان بھی خیال کرنے لگا تھا، اپنے کرتوتوں یا حالات کے جبر میں آکر جب اس نے واپسی کی راہ اختیار کی تو درویش نے ایک کالم تحریر کیا ”خس کم جہاں پاک“۔

ایک بڑے صحافی نے خفگی دکھائی کہ آپ کو مستعفی ہونے والے شخص کے خلاف سخت کالم نہیں لکھنا چاہیے تھا۔ عرض کی اس طرح تو لوگ کہتے ہیں کہ کسی مرنے والے شخص کے خلاف بھی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے، چاہے اس کے کرتوت کتنے گھناؤنے ہی کیوں نہ ہوں۔ درویش اس اپروچ کو درست نہیں سمجھتا۔ اس طرح تو ہسٹری کا بیڑا غرق ہوجائے گا اور بالفعل ہماری پوری ہسٹری اس نوع کے ذہنی خلفشار نے برباد کررکھی ہے۔ جو لوگ اپنی ذاتی منعفت کیلئے ملک و قوم اور آئین و قانون سے کھلواڑ کرتے ہیں، اگر ان کے مرنے پر انہیں ولی اللہ ثابت کرنے بیٹھ جائیں تو سچائی ہمیشہ کیلئے دم توڑ دے گی۔ آنے والی نسلیں انہیں “حضرت “ ہی سمجھتی رہیں گی۔

ہماری اسی اپروچ کے کارن ہماری پوری مسلم یا اسلامک ہسٹری کنفیوژ اور بڑی حد تک ناقابل اعتماد ٹھہری ہے۔ ہمیں اپنوں کے لکھے سے بڑھ کر غیروں کی تحقیقات پر اعتماد کرنا پڑتا ہے۔ درویش پچھلے کئی برسوں سے اپنے ملکی حالات بالخصوص جوڈیشری، مقتدرہ اور قومی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ پر کڑھتا چلا آرہا ہے۔ نہ صرف اپنے کالموں اور یوٹیوبز پوسٹوں میں بلکہ اثر رسوخ رکھنے والے اپنے احباب کے سامنے بھی کہ ہر سہ مقامات پر یہ جو بد تہذیبی و بد تمیزی کا طوفان آیا ہوا ہے، ہم ترقی راست کی بجائے معکوس کررہے ہیں اس جھکڑ سے ہم کیسے اور کب نکلیں گے؟

ہمارا میڈیا ہمہ وقت جو بے پرکی اڑاتے ہوئے دو فٹے کو چھ فٹا اور چھ فٹے کو دو فٹا دکھانے پر مصر رہتا ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر جو بات سارے فسانے میں نہیں ہوتی اسے ازلی حقیقت بنا کر نمک مصالحہ لگاتے ہوئے یوں پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارا عام آدمی حقیقت تک پہنچ ہی نہ پائے۔ الحمد اللہ آج حالات نے ایسا پلٹا کھایا ہے کہ الٹی اور ٹیڑھی بھی سیدھی ہورہی ہیں۔ درویش اکثر عرض گزار رہتا ہے کہ ویسٹرن ڈیموکریٹیک سسٹم جو بھی ہے ہمارے سسٹم یا قومی اداروں میں ہنوز افراد کی اہمیت بہت زیادہ ہے، ایک فرد جہاں بڑی بربادی لاسکتا ہے وہیں اگر مقتدر مقام پر بہتر فرد آجائے تو بہت سے دھونے دھو سکتا ہے، نہ صرف اپنی مقتدرہ کے بلکہ اردگرد کی ہمسائیگی کے بھی۔

ہمارے سابق کھلاڑی کی حماقتوں پر تو پوری ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر 9مئی کی سازشی سکیم تو قول فیصل یا برہان و فرقان ٹھہری ہے۔ تین بار منتخب ہونے والا جتنا بھی سادہ لوح دکھتا ہے لیکن اپروچ میں وہ ان سارے سیانے چالبازوں کا ابا ہے۔ درویش کو اس سے بجا طور پر یہ شکایت ہے کہ وہ اکثر مردم شناسی میں غلطی کھا جاتا ہے۔ لیکن یہ خوبی بھی ماننی پڑتی ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی دھن کا پکا ہے بلکہ جس کی اصلیت اس پر کھل جاتی ہے، پھر اسے بھولتا ہے نہ مٹی ڈالتا ہے۔ جب ساری پارٹی الجھن کی شکار تھی اس نے کتنا بولڈ فیصلہ لیا اور پھر اس پر ڈٹ گیا۔ مستقبل کے حوالے سے لوگ بڑی بڑی چھوڑ رہے ہیں، یہ کہ تین مرتبہ جمہوریت کے جو قلعے یا کوہ قاف فتح کرلیے ہیں، چوتھی مرتبہ بھی وہی کچھ ہونا ہے۔

اپنے اندر کا بغض نکالنے کیلئے الفاظ کا چناؤ مشکل نہیں ہوتا یقیناً ان لوگوں کے سروے اور تجزیے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، جو کچھ ہونے جارہا ہے درویش اس کی طرف بعد میں آتا ہے۔ پہلے اپنی اس ادھوری بات کو پوری کرنا چاہتا ہے کہ کئی لوگوں کے جانے پر وہ یہ کیوں کہتا ہے کہ ’خس کم جہاں پاک‘۔ اپنی چبھن تو ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ اگر یہاں پارلیمنٹ

 کی عظمت کو منوانا ہے اور ملک و قوم کو پارلیمانی جمہوریت کی صراط مستقیم پر چلانا ہے تو اس میں جتنا خاکی ایسٹیبلیشمنٹ یا مقتدرہ کا تعاون مطلوب ہے، اسی قدر سپریم جوڈیشری کی تطہیر لازم ہے۔ نہ صرف یہ کہ فاسد خون کے مادے نکلنے چاہیں بلکہ ان کی لیبارٹری رپورٹس بھی سامنے آنی چاہیں۔ جوڈیشری کی آزادی اپنی جگہ مگر یہ ایسی شتر بے مہار نہیں ہونی چاہیے کہ خود آئین اور آئین کی ماں کو بھی کاٹ کھائے۔

مہذب ڈیموکریٹیک ممالک کی طرح اس کی تشکیل اور آگے بڑھنے میں پارلیمان یا سینٹ کا مخصوص رول ہونا چاہیے۔ اس پر ڈیبیٹ ہوسکتی ہے اور یہ بھی کہ آرمی چیف کی طرح سپریم جوڈیشری کے چیف کی تعیناتی و مدت کا ےعین بھی پارلیمنٹ سے ورا و بالا نہ ہو۔  درویش کی

نظر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی سوچ اپروچ اور عزم و ہمت میں غیرمعمولی چیف جسٹس ہیں۔ ان کے خلاف سپریم جوڈیشری کے معزز جج کی حیثیت سے کون کون سے گھناؤنے الزامات نہیں لگائے گئے۔ صدارتی ریفرنسز بھیجے گئے مگر انہوں نے کمال حوصلے و اعتماد کے ساتھ سب کا سامنا کیا اور اس قدر سرخرو ہوئے کہ یہ کرتوتیں کرنے والے بھی شرم سے اپنا کیا یا کہا واپس لینے پر مجبور ہوگئے۔ اس کے بالمقابل جسٹس مظاہر علی شاہ سے اپنے کیے کا حساب مانگا گیا تو وہ استعفی دے کر چلتے بنے۔ اور اس نوع کا ریفرنس جسٹس اعجاز الاحسن کے خلاف تیار ہوا تو انہوں نے نوٹس کا موقع بھی نہیں آنے دیا، وہیں کھڑے کھڑے دوڑ لگا دی۔

ثاقب نثار کے کرتوتوں سے لے کر جس تسلسل کے ساتھ وہ ہر گھناؤنی سازش کاحصہ رہے اور جو لچھن چھپاتے رہے گرینڈ حیات ہوٹل کیس تو اس کے سامنے ہولہ پڑ جاتا ہے۔ جس طرح اتنے برسوں سے پوری ڈھٹائی کے ساتھ جتے ہوئے تھے آج بھی کھڑے ہوکر دکھاتے یا سامنا کرتے۔ امید ہے سپریم جوڈیشل کونسل نہ صرف یہ کہ بھاگتے ہوؤں کی لنگوٹی ضرور اتارے گی بلکہ اپنے جسد عدل میں داخل دیگر فاسد مادوں کی تطہیر کا بھی کما حقہ اہتمام فرمائے گی۔ رہ گئی ہماری قومی سیاست میں چھائی یا پھیلائی ہوئی سموگ تو اب اس کے خاتمے کا بھی وقت ہوا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا یا مین سٹریم میڈیا میں براجمان مخصوص ذہنیت اپنے جعلی و جھوٹے پروپیگینڈے کے سہارے جتنی مرضی پولیوشن پھیلائیں، جس طرح کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے عنقریب ساری فوگ چھٹنے والی ہے۔ جینوئن اور جعلی قیادتیں واضع ہونے والی ہیں۔

کھلاڑی کے پریشر گروپ سے منسلک کئی دوستوں نے پوچھا کہ کیا ہمیں بلے کا نشان مل جائے گا، کیا ہمیں اس کا ٹکٹ لینا چاہیے تو جواب دیا کہ بلا آپ کو ملے نہ ملے، یہ اپنی افادیت کھو چکا۔

وقت اور حالات کے تیور اس قدر بدل چکے ہیں کہ اب آپ لوگوں کیلئے وکٹس یا رنز ملتے نہیں دکھتے۔ اگر فالتو پیسہ ہے اور آئندہ کیلئے اپنی ایڈورٹائز منٹ کرنی ہے تو ضرور کر لو۔ ہمارے بہت سے صحافی صاحبان کو ادراک نہیں کہ کسی بھی بڑی پارٹی کیلئے ٹکٹوں کی درست تقسیم کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ اس وقت تمام ہواؤں کا رخ ن لیگ کی طرف سب پر واضح ہے۔ اس لیے ن لیگ میں ایک ایک سیٹ پر ٹکٹوں کیلئے کس نوع کی بھیڑ ہے۔ ایک طرف پارٹی کے مخلص کارکنان ہیں، دوسری طرف وہ الیکٹ ایبلز بھی ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی حوالے سے تعاون کیا ہوا ہے۔ بلاشبہ خلوص اور محنت کے ساتھ ساتھ حلقے میں اثر رسوخ کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے اور ن لیگ کا ٹارگٹ سادہ اکثریت سے بڑھ کر دو تہائی کا حصول ہونا چاہیے۔

 ہمارا ملک اس وقت جس نوع کی کنفیوژن سے گزر رہا ہے، ایسے میں پارلیمانی عظمت منوانے کیلئے ایسی مضبوط و مستحکم حکومت کی ضرورت ہے جو آگے چل کر اس تضادستان میں سیاسی استحکام لانے کے قابل ہوسکے۔