سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کو دھچکہ، کیا جمہوریت مضبوط ہوگی؟

سپریم کورٹ نے رات گئے تحریک انصاف کے انتخابی نشان ’بلے‘ کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ۔ اس طرح تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان سے محروم ہوگئی ہے۔ اس کے بعد پارٹی لیڈروں نے اعلان کیا ہے کہ اب تحریک انصاف کے تمام امیدوار آزاد حیثیت  میں  انتخاب میں حصہ لیں گے۔  عدالت عظمی کے فیصلہ کے نتیجہ میں تحریک انصاف کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں   میں سے حصہ بھی  نہیں مل سکے گا۔ اس لحاظ سے یہ فیصلہ پارٹی کے لیے شدید سیاسی  دھچکہ ہے۔

  الیکشن کمیشن  نے تحریک انصاف کا انتخابی نشان بحال کرنے کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ  کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ پشاورہائی کورٹ  کے ڈویژن بنچ نے قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن  کو کسی پارٹی کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار نہیں ہے۔  سپریم کورٹ میں تین رکنی بنچ نے گزشتہ دو روز  کے دوران میں اس  پٹیشن  پر سماعت کی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں  جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں  شامل تھے۔   چیف جسٹس کا لکھا ہؤا فیصلہ متفقہ ہے اور اس میں الیکشن کمیشن کی طرف سے تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لینے کے استحقاق کو تسلیم کیا گیا ہے۔  اس سے قبل فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد تین رکنی بنچ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ آج رات ہی سنایا جائے گا کیونکہ انتخابی شیڈول کے مطابق آج امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے انتظار میں انتخابی نشان الاٹ کرنے  کا وقت بڑھا  دیاتھا ۔  سپریم کورٹ نے  سماعت مکمل ہونے پر  رات ساڑھے نو بجے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا تاہم فیصلہ  نصف شب کے لگ بھگ سنایا گیا۔

چیف جسٹس نے اس کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے  2021 میں تحریک انصاف کو انٹراپارٹی انتخابات کروانے کا کہا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب تحریک انصاف کی وفاق اور صوبوں میں حکومت تھی چنانچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تحریک انصاف سے امتیازی سلوک کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے 13 سیاسی جماعتوں کے خلاف اسی تناظر میں کارروائی کی ہے  کیونکہ یہ جماعتیں بروقت انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکیں۔  چیف جسٹس نے  فیصلے  میں  مزید کہا کہ تحریک انصاف کے 14 ارکان نے انٹرپارٹی انتخابات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ سپریم کورٹ نے درخواست دہندگان کا حق احتجاج تسلیم کیا ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے  فیصلہ میں انہیں یہ حق دینے  سے گریز کیا گیا تھا۔   فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں پی ٹی آئی نے جو انٹرا پارٹی انتخابات کرائے اس کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ یہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہوں گے اور پھر انہیں پشاور کے قریبی علاقے چمکنی میں منتقل کر دیا گیا ۔اور اس میں بھی حصہ لینے والوں کو کاغذات نامزدگی دینے سے انکار کیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان جمہوریت کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے اور جب جمہوری طور طریقے ختم ہوتے ہیں تو آمریت پنپتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کو پہلے لاہور ہائیکورٹ اور پھر پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔  ایک ہی معاملے کو دو ہائی کورٹس میں کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں جو درخواستیں دائر کی تھیں  اسے کو ابھی تک واپس نہیں لیا گیا ۔ پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی  بنچ کے سامنے جو درخواست دائر کی گئی اس میں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ایسا کوئی معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔  کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس کیس پر تین رکنی بنچ نے  ہفتہ کی صبح دس بجے سماعت کا آغاز کیا تھا جو مختصر وقفوں کے ساتھ شام سوا سات بجے تک جاری رہی۔ مختصر فیصلہ ساڑھے نو بجے تک  نہیں سنایا جاسکا ۔ اس تاخیر کے باعث الیکشن کمیشن کو پانچ مرتبہ انتخابی نشان الاٹ کرنے کے لیے مقررہ وقت میں اضافہ کرنا پڑا۔ رات سوا گیارہ بجے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سنانا شروع کیا اور عدالت میں موجود افراد سے تاخیر پر معذرت کی اور آگاہ کیا کہ فیصلے کو سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ پر جلد ہی اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔

گزشتہ دو روز کے دوران تحریک انصاف کی طرف سے  علی ظفر اور حامد خان نے دلائل دیے جبکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے سابق اٹارنی جنرل    مخدوم علی  خان نے درخواست دائر کی تھی اور  مقدمہ کی پیروی کی۔  درخواست میں الیکشن کمیشن نے  اپنی پٹیشن میں مؤقف  اختیار کیا تھا کہ پشاورہائی کورٹ نے  اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے بغیر کارروائی کی  حالانکہ  قانونی طور سے یہ معاملہ وفاقی حکومت کے بارے میں تھا۔ اس میں آئین کی شق 17 کی وضاحت اور الیکشن ایکٹ 2017  سے اس کا تعلق طے کرنا ضروری تھا۔  درخواست میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ کے ماضی میں دیے گیے فیصلوں سے متصادم قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ ماضی میں ہائی کورٹس کو انتخابی عمل میں مداخلت سے روکتی رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کا دعویٰ تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ سے الیکشن ایکٹ اور الیکشن رولز کی شقات کو نظرانداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے۔  الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے سے الیکشن ایکٹ کی شق 215 (5)، اور الیکشن رولز کی شقات 157 و 158 کو نظرانداز کردیا گیا۔  ان شقات کا مقصد پارٹیوں میں انٹرا پارٹی انتخابات کے ذریعے جمہوریت،  اجتماعیت اور شفافیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس فیصلہ میں الیکشن ایکٹ کی شق 208(2) کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت کسی پارٹی کے سب ارکان کو پارٹی میں عہدے حاصل کرنے کا مساوی موقع فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران تحریک انصاف کا مقدمہ دو نکات پر استوار تھا۔ بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ  انتخابی نشان کسی بھی پارٹی کا بنیادی حق ہے   ،  الیکشن  کمیشن  کسی پارٹی کو اس   حق سے محروم نہیں کرسکتا۔   پارٹی کا دوسرا مؤقف الیکشن  کمیشن کی طرف سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل سے متعلق تھا۔ اس نکتہ پر حامد خان نے دلائل دیے اور کہا کہ  پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنا الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آسکتا کیوں کہ وہ کوئی فریق نہیں ہے۔  اس کی حیثیت کسی عدالت جیسی ہے جو  اپنے فیصلوں کے  بارے میں اپیلیں دائر نہیں کرتی۔  اگرچہ سماعت کے دوران وکلا کے دلائل اور ججوں کے سوالات کا زیادہ تر محور معاملہ کی سیاسی نوعیت کے بارے میں تھا تاہم ساری گفتگو ان دو نکات پر ہی محدود رہی۔ ججوں کے ریمارکس سے اخذ کیا جاسکتا  ہے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ الیکشن کمیشن  اپیل کرسکتا ہے کیوں کہ اس معاملہ کا تعلق پارٹیوں میں جمہوریت کے بارے میں ہے۔  اسی طرح عدالت یہ سمجھنے سے بھی قاصر رہی کہ انتخابی نشان کسی پارٹی کا بنیاد حق کیسے ہوسکتا ہے۔  اس سے کسی پارٹی کے انتخاب میں  حصہ لینے کا حق کیسے متاثر  ہوسکتا ہے۔ مباحثہ کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کے ان سوالات کا جواب بھی نہیں دیا جاسکا کہ اکبر ایس احمد اگر پارٹی رکن نہیں ہیں تو انہیں پارٹی سے نکالنے کا دستاویزی ثبوت فراہم کیا جائے۔  تحریک انصاف کے وکیل   اپنی پارٹی کے خلاف الیکشن کمیشن کے امتیازی رویہ  کے بارے میں  بھی کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکے۔

سپریم کورٹ کے مختصر فیصلہ میں اس  پیچیدہ معاملہ کے قانونی پہلوؤں  کی تفصیل بیان نہیں کی  گئی ، اس لیے  اس حوالے سے کوئی رائے دینا مشکل ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف قانونی لحاظ سے خواہ جیسا بھی مضبوط مقدمہ ہو لیکن پارٹی اسے اپنے خلاف ریاستی جبر کی مثال کے طور پر پیش کرے گی اور اس کے حامی بھی اسے  تحریک انصاف کا سیاسی راستہ روکنے کا ایک طریقہ ہی سمجھیں گے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک مشکل سیاسی صورت حال  کے  ایک افسوسناک  مرحلے پر سامنے آیا ہے۔  انتخابات کاا علان ہونے کے بعد ایک  اہم پارٹی کے انتخابات اور ان کے جائز یا ناجائز ہونے کی بحث سے  تحریک انصاف کو مظلومیت کا نعرہ لگانے میں آسانی ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے کوئی سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے لیکن تکنیکی لحاظ سے یہ فیصلہ  تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر نکال دینے کے مترادف سمجھا جائے  گا۔ چیف جسٹس  اپنے تمام ریمارکس میں  ملک اور پارٹیوں میں جمہوریت کی اہمیت پر زور دیتے رہے لیکن یہ فیصلہ عمومی تاثر کے حوالے سے شاید جمہوری روایت کو مستحکم کرنے میں کامیاب نہ ہو۔

تحریک انصاف کی یہ شکایت بھی قابل غور ہونی  چاہئے کہ فنڈز جمع کرنے کا معاملہ ہو یا  پارٹیوں میں انتخابات کرنے کا طریقہ کار، الیکشن کمیشن نے خاص طور سے   تحریک انصاف کے ہی معاملات  پر توجہ دی ہے۔ ملک کی کسی بھی بڑی سیاسی  جماعت میں انٹرا پارٹی انتخابات محض ’ڈھونگ‘ ہی ہوتے ہیں۔ البتہ تحریک انصاف کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور اب سپریم کورٹ نے واضح  کیا ہے کہ  کسی پارٹی کی طرف سے انتخابات کے بارے میں  محض ایک  اقرار نامہ دینے سے یہ نہیں مانا جاسکتا کہ انتخابات کروادیے گئے اور پارٹی کے سب ارکان کو اس میں مساوی بنیاد پر حصہ لینے کا موقع ملا ہے۔ اس کے لیے دستاویزی طور سے ثابت بھی کرنا ہوگا کہ  کسی پارٹی نے واقعی انتخابات کروائے ہیں۔  

سپریم کورٹ کی ا س آبزرویشن  کی روشنی میں اگرچہ اس وقت تحریک انصاف  ’متاثرہ فریق‘ قرار پائی ہے لیکن عدالت عظمی کا یہ فیصلہ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے  انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مستقبل میں انہیں  انٹرا پارٹی انتخابات میں شفافیت اور  ہم گیریت کا ثبوت دیناپڑے گا  ورنہ موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے راستے کی دیوار بنے گا۔