ریڈیو و ٹی وی کا مشترکہ مشاعرہ

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن لاہور(ریڈیو پاکستان) قومی ادب و ثقافت کی ترویج و فروغ کا اہم ذریعہ ہے جس کی درخشاں تاریخ اپنی جگہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔

یہ ادارہ ابلاغ کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے والا بے مثال ادارہ ہے جس سے وابستہ ماہرین ابلاغیات نے اپنی مہارت اور لگن سے فنی و تخلیقی صلاحیتوں سے کام لے کر ابلاغی محاذ پر پاکستان کی نظریاتی و زمینی سرحدوں کا بھرپور دفاع کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ قیام پاکستان کے وقت مہاجرین کی آبادکاری کا معاملہ ہو کہ 65 کی جنگ میں دشمن کی طرف سے پاکستان مخالف زہریلے ریڈیائی پراپیگنڈا کا حملہ،  ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہر شعبے کے افراد نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کی عزت و توقیر پہ حرف نہیں آنے دیا۔ ہر آڑے وقت میں عوام کی رہنمائی کے لئے ریڈیو کے ذمہ داران نے دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ محنتِ شاقہ سے کام لے کر اہل اور قابل ترین افراد کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اپنے لاجواب خصوصی پروگرام پیش کئے جن میں افادِ عامہ کو ہمیشہ ترجیح دینا پیشہ ورانہ تربیت کا جزو اعظم تھا۔

دنیا بھر میں ریڈیو کی نشریات آج کے دور میں بھی ابلاغ کی دنیا میں غالب اکثریت کی توجہ کا مرکز ہیں۔ کیونکہ عوام کو ہر طرح کی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور درست رہنمائی فراہم کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ریڈیو ہے اسی لئے ترقی یافتہ اقوام اور ممالک اس شعبے کو نظر انداز نہیں کرتے بلکہ اس کے معیار اور افادیت کو مزید بہتر بنانے کیلئے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔  بدقسمتی سے پاکستان کے ارباب اختیار نے قومی خدمت کے جذبے سے سرشار اس ادارے کے ساتھ ہمیشہ ناروا سلوک کیا، اس کے وابستگان کی خدمات کا اعتراف کرنے کی بجائے ان کے ساتھ غیروں کا سا برتاؤ کیا گیا۔

پاکستان کو سب سے پہلا اور کڑا امتحان 65 کی جنگ کا درپیش ہوا تو ریڈیو پاکستان لاہور تو جیسے خود مرکز جہاد بن کر دشمن کے سامنے ابلاغی محاذ پر ڈٹ گیا۔ اس تاریخی موقع پر ریڈیو پاکستان لاہور کا جرآت مندانہ کردار پاکستان کی عسکری تاریخ میں بھی نمایاں و منفرد مقام کا حامل ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 

پاکستان نے ابلاغ کی دنیا میں پیش رفت کرنے کا ارادہ کیا تو اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ریڈیو پاکستان لاہور کی عمارت میں ریڈیو کے فنی ماہرین اور فنکاروں نے اپنی خدمات پیش کیں اور لطف کی بات یہ کہ ٹیلی ویژن کے لئے درکار تکنیکی مہارت اور وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود محض  قومی خدمت کے جذبے سے کام لیتے ہوئے مختصر ترین وقت میں پاکستان ٹیلی ویژن کو ذرائع ابلاغ کی دنیا میں باعزت مقام دلا دیا۔ اس تناظر میں ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن کا باوا آدم ہے جو اس لحاظ سے نرالا ہے کہ تقریباً نصف صدی کے بعد بھی یہ مجاز حکام سے اپنے بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم ہے جبکہ اس کی کوکھ سے جنم لینے والے پی ٹی وی نے سہولیات و مراعات کے اعتبار سے اسے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مگر جہاں تک فنی و تخلیقی معاملات کا تعلق ہے پی ٹی وی کو آج بھی ریڈیو پاکستان سے بہت کچھ سیکھنے اور رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔

حالیہ نگران حکومت کے مرکزی وزیر اطلاعات مرتضٰی سولنگی پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر  جنرل کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انہیں ریڈیو کے مالی و انتظامی امور کا بخوبی علم اور اس کی کم مائیگی و وسائل کی عدم دستیابی کا بھی بخوبی ادراک ہے۔ انہوں نے اپنے موجودہ عہدِ اقتدار کے آخری وقت میں ریڈیو پاکستان کے اصل کردار کی بحالی اور نسل نو کو اس کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے ریڈیو پاکستان لاہور اور پی ٹی وی کو باہمی اشتراک سے ایک اردو وپنجابی مشاعرہ منعقد کرنے کی صلاح دی جس پر  ریڈیو پاکستان لاہور کے زیر اہتمام ’ہم ہیں سخن نواز‘  کے عنوان سے لاہور سٹوڈیوز کے نور جہاں آڈیٹوریم میں ایک باوقار محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی نگرانی پروگرام مینیجر رائے عرفان نے سٹیشن ڈائریکٹر شاہد امین کی رہنمائی اور سینئر پروڈیوسر شاہ رخ فخر کی معاونت سے بطریقِ  احسن سرانجام دی۔ شعراء کرام میں بابا نجمی، واجد امیر، ناصر بشیر، حمیدہ شاہین،  ڈاکٹر صغریٰ  صدف،   ڈاکٹر جواز جعفری اور افضل ساحر نمایاں تھے۔   یہ ایک کامیاب شعری نشست تھی جس کی نقابت ڈاکٹر صغریٰ صدف یا افضل ساحر سے کروا کر اس کا معیار مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا۔