بیرسٹر گوہر کو چینک کا نشان اور تحریک انصاف کو چھنکنا مل گیا
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- اتوار 14 / جنوری / 2024
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان کا فیصلہ کر دیا۔ اس سے بلا لے لیا گیا اور اسے چھنکنا (جھنجھنا) تھما دیا گیا۔ اب اس کا ہر امیدوار اپنے اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑے گا۔ تحریک انصاف کے مبینہ چیئرمین بیرسٹر گوہر کو چینک کا نشان الاٹ کر دیا گیا۔
شاید کسی پس پردہ ہمدرد نے سوچا ہو کہ موسم سرد ہے، لوگ اسے پسند کریں گے۔ جب بھی چائے قہوہ اڑائیں گے تو چینک دیکھتے ہی بیرسٹر گوہر یاد آئیں گے۔ اس کا کریڈٹ تحریک انصاف کے ان وکلا کو جاتا ہے جنہوں نے عدالت اور سیاست میں اس کی قیادت کی اور جماعتی الیکشن کی حکمت عملی تیار کی۔
تحریک انصاف کو بلے کا نشان جانے سے شاید بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ اس کا سوشل میڈیا سیل اتنا موثر ہے کہ وہ ہر حلقے کے الگ انتخابی نشان کو بھی اپنے ووٹروں تک پہنچا دے گا۔ مسئلہ دو جگہ پیش آئے گا۔ ایک تو پارٹی نہ ہونے سے خواتین کی مخصوص سیٹیں نہیں ملیں گی، اور دوسرا اس کے گھوڑے منتخب ہونے کے بعد کوئی اچھے دام لگانے والا خریدار لے جائے گا۔ یعنی محنتیں کپتان کی ہوں گی، موج کریں گے زرداری اور نواز شریف۔
اس مرتبہ ایسے آزاد پنچھِی پکڑنے والا جہانگیر ترین کا جہاز نواز شریف کے دربار میں حاضر ہے۔ یوں نواز شریف کو دو تہائی اکثریت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ یا کم از کم وہ ایک مضبوط حکومت تو بنا ہی سکتے ہیں۔ تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھن گیا تو کیا فرق پڑتا ہے، اگلے الیکشن میں مل جائے گا۔ بری خبر یہ نہیں ہے۔
بری خبر یہ ہے کہ اس سماعت میں سپریم کورٹ نے فارن فنڈنگ کیس (جسے قوم یوتھ ممنوعہ فنڈنگ کہہ کر دل کو تسلی دیتی ہے) کا بھی پوچھ لیا کہ دس سال سے چل رہا ہے تو ابھی تک فیصلہ کیوں نہیں ہوا؟ سنہ 2014 میں دائر ہونے کیس پر اگست 2022 میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنایا تھا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈ لیے ہیں اور شو کاز نوٹس جاری کر دیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے 34 غیر ملکی شہریوں اور 351 غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ لی ہے۔ اس نے 8 بینک اکاؤنٹس کی ملکیت ظاہر کی ہے، 13 چھپائے ہیں اور تین کا ذکر ہی نہیں کیا۔
انتخابات تک تو الیکشن کمیشن شدید مصروف رہے گا لیکن الیکشن کے بعد بلے کے بعد جماعت بھی جا سکتی ہے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی شدید مصروفیات میں سے وقت نکال کر پہلے ہی معاملہ طے کر دے۔ افسران قضا و قدر کے نزدیک اس کا اثر یہ ہو سکتا ہے کہ پارٹی ختم ہو گئی تو تحریک انصاف کا ووٹر ان انتخابات میں گھر بیٹھ جائے گا اور تنگ نہیں کرے گا۔
تحریک انصاف اور عمران خان ان انتخابات سے باہر رہے تو کیا فرق پڑ جائے گا؟ نواز شریف کو سنہ 1999 سے 2013 تک 14 برس الیکشن سے باہر رکھا گیا۔ کیا فرق پڑا؟ جب موقع ملا تو عوام نے دوبارہ وزیراعظم بنا دیا۔
کپتان نواز شریف سے کسی طرح بھی کم نہیں، بلکہ ہر معاملے میں بہت زیادہ ہی نکلا ہے۔ اور وہ بہادر بھی کہیں زیادہ ہے۔ وہ 14 کیا 28 برس الیکشن سے باہر رہنے کا حوصلہ رکھتا ہے اور پھر عوام اسے دوبارہ وزیراعظم بنا دیں گے۔ مان لو کپتان جیت گیا ہے۔
ویسے بلے کا نشان جاتے دیکھ کر پاکستان تحریک انصاف (ن) کا انتخابی نشان بلے باز لینے کی کوشش کچھ احمقانہ سی تھی۔ جو کاغذ تحریک انصاف والے دکھا رہے ہیں، وہ معاہدہ نہیں ایم او یو ہے، یعنی محض ایک مفاہمتی یادداشت۔ اربوں ڈالر بیرونی سرمایہ کاری کی ایسی بے معنی دستاویزات پر تو پاکستان ہر چار مہینے بعد دستخط کر دیتا ہے۔ بہرحال چیئرمین پی ٹی آئی (نظریاتی) اختر اقبال اپنی پریس کانفرنس میں نہایت تیقن سے فرماتے پائے گئے ہیں ”ہمیں ڈنڈے کی ضرورت ہے۔“
بظاہر یہ الیکشن ملکی تاریخ کے مزاحیہ ترین الیکشن ہوں گے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز 2018 کے الیکشن کے نام تھا۔ ہر الیکشن گزشتہ سے بڑھ کر ہی ہوتا آیا ہے۔ دوسری قوموں کے لیے الیکشن ایک سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ اس پر اقوام ہی نہیں، افراد کے مستقبل کا بھی انحصار ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ سنجیدہ نہیں رنجیدہ یا مزاحیہ معاملہ ہوتا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پتہ ہے کہ اس کے ووٹ کی کیا ویلیو ہے، اور جسے ووٹ مل گیا وہ اس کی کتنی نمائندگی کرے گا۔
بعض افراد شکایت کر رہے ہیں کہ الیکشن سے چند ہفتے پہلے ایک بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ الیکشن کمیشن اور پھر سپریم کورٹ کو اس کا نشان نہیں چھِیننا چاہیے تھا۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں آئینی اداروں نے قانون کے تحت فیصلہ سنانا تھا یا یہ دیکھ کر کہ جماعت بڑی ہے، نظریہ ضرورت کے تحت فیصلہ سنانا تھا۔ الیکشن کمیشن نے بار بار موقع دیا، خبردار کیا، لیکن تحریک انصاف خود اپنے آئین کے مطابق الیکشن نہ کروا سکی۔ پھر قانون بچارہ کیا کرتا؟
سوال یہ ہے کہ ایسے دو نمبر الیکشن کروانے کی تحریک انصاف کو کیا ضرورت تھی جس میں سب کو بلامقابلہ منتخب کروانا تھا؟ اکبر ایس بابر کو اگر الیکشن لڑنے دیا جاتا تو کیا وہ جیت جاتا؟ کپتان کے نامزد امیدوار کے سامنے اکبر ایس بابر کو ایک فیصد ووٹ بھی مل جاتے تو بڑی بات ہوتی۔
تحریک انصاف کی آزاد لیڈر شپ کو بس خوف ہی ہو گا کہ الیکشن کروائے تو پنڈال میں چھاپا مار کر سب کو پکڑ کر لے جائیں گے۔ ایسا ہے تو پشاور میں الیکشن کروا لیتے جہاں پولیس اور انتظامیہ کے علاوہ ہائی کورٹ میں بھی ہمدرد موجود ہیں۔ ابھِی بھی تو ہر ریلیف پشاور سے ہی مل رہی ہے۔ اس وقت بھی مل جاتی۔ یا پھر آن لائن ووٹنگ کروا لیتے۔ الیکشن کیسے کروانے ہیں یہ تو پارٹی نے خود طے کرنا تھا نا۔
معاملہ بس یہی ہے کہ کپتان لیڈر نہیں تو کوئی دوسرا بھی نہیں۔ اقتدار کے کھیل عجیب ہوتے ہیں۔ شہباز شریف وزیراعظم بن گئے تو نواز شریف کے خلاف مقدمات میں ریلیف نہیں دلوا سکے۔ طاقتور نگرانوں کے زمانے میں ایسا ریلیف ملی۔ ایسے ہی تحریک انصاف کا کوئی بندہ اگر وزیر اعظم بن جاتا تو کپتان کو باہر نکلوانا اس کے لیے آسان نہ ہوتا۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ پس پردہ کوشش کر کے کپتان کو اندر رکھنے کا بندوبست کرتا۔ اسے اقتدار کے مزے آ رہے ہوتے اور اقتدار اتنی دیر تک ہی ملتا جب تک کپتان جیل میں ہوتا۔ محلاتی سازشیں بس ایس ہی ہوتی ہیں کہ جولیس سیزر کو خنجر کھانے کے بعد بھی حیرت ہوتی ہے کہ وہ اس کے یار وفادار بروٹس کا ہے۔
اس سے یاد آیا۔ بروٹس نے اپنے تئیں ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہی اپنے بیسٹ فرینڈ اور آقائے ولی نعمت جولیس سیزر سے غداری کی تھی۔ یہ مفاد تو ہمیشہ ہی موجود ہوتا ہے نا۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)