جمہوریت کے نام پر جمہوریت دفن کرنے والا فیصلہ

مبصرین و قانونی ماہرین  متفق ہیں کہ تحریک انصاف کو اس کے انتخابی نشان سے محروم کرکے سپریم کورٹ نے ملک میں جمہوری نظام کو ناقابل یقین نقصان پہنچایا ہے۔ ایک جماعت کو عبرت کا نشان بنانے کے لیے  انتخابات سے عین پہلے کمزور  بنیاد پر انتخابی نشان  واپس لینے کافیصلہ برقرار رکھنا درحقیقت تحریک انصاف کو انتخابی دوڑ سے باہر  کردینے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کو نہ چاہنے کے باوجود اس کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو  یہ کہتے ہوئے  مسترد کیا تھا کہ  یہ پارٹی کے اپنے آئین کے مطابق منعقد نہیں ہوئے۔  لیکن سزا کے طور پر پارٹی  سے  ’بلا‘ انتخابی نشان کے طور پر واپس لینے کا حکم دیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے  فیصلے کو آئینی تقاضوں اور ایک سیاسی پارٹی کے بنیاد ی حق  کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھاا اور پارٹی کو امید پیدا  ہوئی تھی کہ وہ مشکل حالات میں بھی  انتخابات میں اپنے نشان پر حصہ لے سکے گی۔ اس  حوالے سے یہ ذکر کرنا غیر مناسب نہیں ہوگا کہ پارٹی کے متعدد اہم لیڈر اور اس کے بانی چئیرمین عمران خان اس وقت مختلف الزامات میں جیلوں میں بند ہیں اور ممکنہ طور پر انہیں انتخابات سے  پہلے رہائی نصیب نہیں ہوگی۔

ملک میں اس وقت 2018 کے انتخابات سے پہلے  والی صورت حال ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔  اس وقت  اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر  مسلم لیگ (ن) کا ناطقہ بند کیا گیا تھا اور تحریک انصاف کے لیے میدا ن کھلا چھوڑنے کے اقدام کیے گئے تھے۔ جیسے اس وقت  نام نہاد  الیکٹ ایبلز اور چھوٹی پارٹیوں کو دھکیل کر تحریک انصاف کے ساتھ رجوع کرنے پر مجبور کیاجارہا تھا بعینہ اب  مسلم لیگ (ن) کو ’کنگز پارٹی‘ کی حیثیت دی گئی  ہے اور  انتخابات سے پہلے ہی ہر زبان پر یہی تکرار ہے کہ نواز شریف ہی اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔   ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کا ایک ہی راستہ  ہے کہ انہی غلطیوں کو دہرایا جائے البتہ  ’لاڈلا‘ تبدیل کرلیا جائے؟ اس سوال کا جواب صرف فوجی قیادت ہی کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سیاسی پارٹیوں و لیڈروں کو بھی غور کرنا چاہئے کہ کیا  وہ اسی  انتظام کو جمہوریت کہتے ہیں جس کی بنیاد پر ملک میں معاشی  درستی، سیاسی استحکام اور سفارتی وقار  کی بحالی کے دعوے سننے میں آتے ہیں؟

 اگر  ہر لیڈر  اپنے اقتدار کے لیے فوج کے ساتھ سانجھے داری کے انہی طریقوں پر عمل کرتا رہے گا تو اسے کیوں کر جمہوری نظام کہا جاسکے گا اور کیسے  نظام حکومت عوامی خواہشات و ضروریات کے مطابق کام کرسکے گا۔ چند جاہ پسند  لوگوں  اور بعض  اہم عہدوں پر فائز  افراد کو ملک و قوم کے  مفاد کا تعین کرنے کا حق کیوں کر تفویض کیا جاسکتا ہے؟   یہ طریقہ کار جمہوری روایت کے فروغ کے تمام بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ سات دہائیوں میں پیدا ہونے والی خرابیاں  مختصر مدت میں درست نہیں ہوسکتیں لیکن اگر پرانی غلطیاں دہرانے پر اصرار کیا جائے گا اور سیاسی فیصلوں پر فوجی تسلط کو ناگزیر سمجھ کر سیاسی حکمت عملی تیا رکی جائے گی تو   نہ تو یہ  آئینی طریقہ یا جمہوری انتظام  کہلائے گا اور نہ ہی ا س طرف کوئی پیش قدمی ہوسکے گی۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف سے ’بلے‘  کا نشان واپس لینے کے فیصلہ پر  قانونی و سیاسی ماہرین و مبصرین نے  تو ردعمل ظاہر کیا ہے اور اسے ملکی جمہوریت  اور بنیادی حقوق کے  لیے  دھچکہ قرار دیا گیا ہے لیکن کسی بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر کو اس یک طرفہ اور افسوسناک فیصلہ کو مسترد کرنے اور اسے جمہوری عمل  میں عدالتوں کی بے جا مداخلت  کہنے کی ضرورت محسوس نہیں  ہوئی۔ کیوں کہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی، اپنے اپنے طور پر دونوں  بڑی پارٹیاں یہ سمجھ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کے میدان سے باہر نکلنے کی صورت میں ان کے لیے  آسانی پیدا ہوگی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ   گزشتہ رات سنائے گئے فیصلہ کے ذریعے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے یہ’آسانی‘ پیدا کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

تحریک انصاف کے انتخابی نشان کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی  پٹیشن پر غور کے دوران میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بار بار جمہوریت کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی طرح پارٹیوں میں بھی جمہوریت آنی چاہئے۔ یہ ایک سیاسی بیان  ہے۔ پہلے بھی عرض کیا جاتا رہا ہے کہ انصاف کی مسند پر بیٹھ کر یا کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر  فائز ہوکر سیاسی نظریات عام کرنے کی بجائے متعلقہ لوگوں کو  آئین و قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے چاہئیں۔ تاریخ میں یہ حقیقت درج کی جائے گی کہ سپریم کورٹ نے ایک مشکل وقت میں جمہوریت کا نام لیتے ہوئے ایک ایسا  افسوسناک فیصلہ صادر کیا تھا جس سے ملک میں جمہوریت کا راستہ مزید مشکل ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ کو   اس تنازعہ کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔  تحریک انصاف کی  حکمت عملی یا اس سے سرزد ہونے والی غلطیوں کے حوالے سے اس کی لڑائی  دیگر سیاسی پارٹیوں یا نام نہاد اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز کی سماعت کے دوران یہ  ریمارکس  بھی دیے ہیں کہ فوج کے لیے اسٹبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے کھل کر بات کیوں  نہیں کی جاتی جب آپ کا مطلب فوج ہے تو اس کا نام لیں۔   یعنی چیف جسٹس پر یہ حقیقت عیاں تھی  کہ تحریک انصاف کا معاملہ سیاسی نہیں ہے بلکہ فوج کے ساتھ پیدا ہونے والے بعض تنازعات سے متعلق ہے۔  ایسی صورت میں انہیں ہرگز اس معاملہ میں فریق بن کر  یہ تاثر مضبوط کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت تھی کہ ملکی تاریخ کے  ہر مشکل مرحلے پر  عدالت عظمی  عسکری قیادت کے ساتھ  مل کر  جمہوری حکمرانی  کا راستہ کھوٹا  کرتی ہے۔ جمہوریت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی ادارے یا عہدیدار کو کون سا شخص پسند ہے یا  نہیں بلکہ اس میں اس اصول کی نگرانی کی جاتی ہے کہ  عام شہریوں کو اپنے نمائیندے چننے کے لیے آزادانہ اور شفاف ماحول فراہم ہو۔ بدقسمتی سے سپریم کورٹ کا ۱3 جنوری کی رات  سنایا گیا فیصلہ اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اس کے برعکس اس سے یہ تاثر قوی ہؤا ہے کہ عدلیہ ابھی تک اسٹبلشمنٹ یا قاضی صاحب کے الفاظ میں فوج کے  اثر سے نجات نہیں پاسکی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر قاضی فائز عیسیٰ کی بنیادی ذمہ داری ملکی آئین کی عملداری اور قوانین کی پیروی کو یقینی بنانا  ہے۔ اس اصول کے تحت ایک تو ملکی عدالت کے اعلیٰ ترین فورم پر  کسی ایک  پارٹی کے  آئین کا باریک بینی سے جائز لینا درحقیقت   فاضل ججوں کے  مرتبہ و مقام  اور دائرہ اختیار  سے ماورا تھا۔ انہیں تو صرف یہ دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ  قانون کے اسکوپ کے مطابق ہے اور اگر کسی پارٹی سے غلطی ہوئی بھی ہے تو کیا اسے اس غلطی کی مناسبت سے سزا دی گئی ہے یا  ایک معمولی کوتاہی  کو عذر بنا  کر کسی پارٹی کی شناخت ختم کی جارہی  ہے۔ یوں اس کی انتخابی کامیابی  میں رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔   انٹرا پارٹی انتخابات  میں تاخیر یا کمی بیشی کی سزا کے طور پر اسے انتخابی نشان سے محروم کرنے کا فیصلہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی عدالت ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرنے والے  کسی شخص کو سزائے موت کا حکم سنا دے۔ جرم اور سزا میں توازن نہیں ہوگا تو اسے ناانصافی  ہی سے تعبیر کیا جائے گا۔   الیکشن کمیشن کے ایک کمزور اور ناروا فیصلہ کی توثیق کرکے درحقیقت سپریم کورٹ  نے خود  بھی اسی رویہ کا مظاہرہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ اس معاملہ پر ایک مناسب ثالث کا کردار ادا کرسکتی تھی لیکن عدالتی بنچ نے بوجوہ  کوئی مفاہمانہ اور متوازن رویہ اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ قانونی و آئینی ماہرین اس جناب اشارہ کررہے ہیں کہ چند روز پہلے سپریم کورٹ نے  شق 62(1) ایف کے  بارے میں بنیادی حقوق  کی بات کی تھی اور  تاحیات نااہلی کو ناجائز ،  غلط اور خلاف آئین قرار دیا تھا لیکن گزشتہ روز کے فیصلہ میں الیکشن ایکٹ کا سہارا لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی انتخابات باریک بینی سے کنٹرول کرنے کا حتمی اختیار دینے کے علاوہ  کسی پارٹی کو سنگین سزا دینے کا  حق دیا گیا ہے۔ یوں درحقیقت ملک  کی سیاسی پارٹیوں   کی آزادی و خود مختاری   سے انکار کیا گیا ہے۔  انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ ایک ایسا قدام ہے جس  کاکسی قانون میں ذکر نہیں ہے لیکن اب سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن   کی اس اختراع   پر مہر تصدیق ثبت کرکے مستقبل میں سیاسی پارٹیوں کے فیصلوں کو الیکشن کمیشن کی خوشنودی  کا محتاج  بنادیا ہے۔  الیکشن کمیشن کو دیا جانے والا یہ اختیار  نہ صرف 8 فروری کے انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ کرے گا بلکہ  مستقبل میں   جمہوری عمل پر انتظامی کنٹرول کا راستہ ہموار کرے گا۔

تحریک انصاف کے خلاف  الیکشن کمیشن کی  پٹیشن  پر غور کے دوران میں   چیف جسٹس بار بار وکلا  کو تاکید کرتے رہے کہ قانونی نکات پر بات کی جائے لیکن خود  بدستورسیاسی مکالمہ میں مصروف رہے۔ جب بنچ کا  سربراہ اور چیف جسٹس  مقدمہ کی سماعت کے دوران قانون کی بجائے سیاسی نکات پر  اپنے ارشادات عالیہ ارزاں کرے گا تو سیاسی پارٹی کا مقدمہ پیش کرنے والے وکلا کیسے صرف قانون کی بات کرتے۔ اس مکالمہ میں سب سے کمزور ترین مرحلہ وہ تھا جب چیف جسٹس نے بلامقابلہ  انتخاب  کی صورت میں ووٹنگ نہ ہونے کو ’غیر جمہوری‘ قرار دیا ۔ جس  پر ان کی توجہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی نتیجہ کی طرف مبذول کرائی گئی جس میں تمام عہدیدار ’بلا مقابلہ ‘ ہی ’منتخب‘ ہوئے تھے۔   اسی طرح چیف جسٹس نے اکبر ایس بابر کو  تحریک انصاف کا بانی رکن بتاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بیرسٹر گوہر کے مقابلے  میں تو  وہ چئیرمین بننے  کے زیادہ حقدار تھے کیوں کہ گوہر علی تو  دو سال پہلے پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔  ایسے ریمارکس انفرادی تعصب کی علامت ہیں ۔ اس طرح مقدمہ کے ایک فریق کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔  اسی طرز عمل کی وجہ سے تحریک انصاف کے الیکشن کمشنر نیازاللہ نیازی کو چیف جسٹس پر برہ راست الزام لگانے کا حوصلہ ہؤا اور چیف جسٹس کو مقدمہ کی کارروائی ختم کرنے کی ’دھمکی‘ دینا پڑی۔

بہتر ہوتا کہ سپریم کورٹ تحریک انصاف کو انتخابی نشان سے محروم  کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن  کو ہدایت کرتی کہ پی ٹی آئی کو بھی کوتاہی  پر اے این پی کی طرح جرمانہ عائد کردیا جائے۔ یااس معاملہ کو انتخابات  کےبعد  تک ملتوی کرکے یہ یقینی بنایاجاتا کہ ساری پارٹیاں اپنے اپنے آئین کے مطابق شفاف انتخابات منعقد کرواکے اس کا دستاویزی ثبوت فراہم کریں  تاکہ  یہ تاثر پیدا نہ ہوتا کہ تحریک انصاف کو یک طرفہ طور سے انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تحریک انصاف کے دور میں صدارتی ریفرنس بھیجا گیا تھا۔  اس ’ناانصافی‘ کی کسک ضرور   فاضل چیف جسٹس کے دل  میں ہوگی۔ ایسے میں بہتر ہوتا کہ وہ  خود کسی ایسے بنچ میں شامل ہونے سے گریز کرتے جو تحریک انصاف کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلہ کرنے والا تھا اور جس سے اس پارٹی کو انتخابات میں شدید سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔   ہفتہ کی رات سامنے آنے والے فیصلہ کے بعد قیاس آرائیوں اور الزامات کا طوفان روکا نہیں جاسکے گا۔

 تحریک انصاف نے  عجلت میں انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے متعدد گھپلے کیے اور انتخابات کی شفافیت کو ثابت نہیں کیا جاسکا لیکن اس  قصور پر  انتخابات  سے پہلے ایک  اہم پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم کرکے ملک میں جمہوریت کا راستہ مسدود کیا  گیا ہے۔  افسوس کا مقام ہے کہ  یہ کام ایک ایسے چیف جسٹس کے ہاتھوں انجام پایا ہے جو ملک کے علاوہ پارٹیوں میں بھی جمہوریت  کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے۔