الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی قرارداد پر انتخابات ملتوی کرنے سے انکار کردیا

  • سوموار 15 / جنوری / 2024

الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی قرارداد کی بنیاد پر عام انتخابات ملتوی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سینیٹ سیکریٹریٹ کو مراسلہ میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کا جائزہ لیا ہے جب کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان صدر سے مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے پاکستان کے ایوانِ بالا کے رکن سینیٹر دلاور خان نے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور ہونے کے بعد اب اس پر عمل در آمد کا مطالبہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی انتخابات سردیوں میں ہوتے رہے ہیں جب کہ امن و امان کے حوالے سے نگراں حکومت کو احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتِ حال میں الیکشن ملتوی کرنا مناسب تجویز نہیں ہے۔

مراسلے کے مطابق آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر دلاور خان نے اپنے خط میں سینیٹ کی اس قرارداد کا ذکر کیا تھا جو 10 دن قبل پانچ جنوری کو ایوانِ بالا میں منظور ہوئی تھی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایوانِ بالا سے منظور ہونے والی قرارداد اجتماعی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔ لیکن اس قرارداد کی منظوری کے باوجود الیکشن کمیشن نے آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے۔

سینیٹ سے منظور قرار داد کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں بیان کیے گئے مسائل کے حل تک شفاف اور منصفانہ الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ انتخابات کے التوا پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس سے ملک کے ہر علاقے کے لوگوں اور سب سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں شمولیت کا موقع ملے گا۔

سینیٹ میں ایک اور قرارداد تین دن قبل بھی جمع کرائی گئی تھی۔ یہ قرارداد سینیٹر ہلال الرحمان نے جمع کرائی ہے۔ سینیٹر ہلال الرحمان کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کو موزوں تاریخ تک ملتوی کیا جائے۔ قرارداد میں بھی موسم اور امن عامہ کے حالات کو جواز بنا کر الیکشن ملتوی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

 خیال رہے کہ پاکستان کی نگراں حکومت مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے۔ نگراں وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے اتوار کو بھی ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے منظور کی گئی قرارداد ایک چھوٹا سا واقعہ ہے۔ الیکشن مقررہ تاریخ پر آٹھ فروری کو ہی ہوں گے۔