نواز شریف دو امپائرز کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں: عمران خان
سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجودہ صورتحال لندن پلان کا حصہ ہے۔ الیکشن سے قبل میرا جیل میں ہونا، پی ٹی آئی کا خاتمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے کیس معاف ہونا سب لندن پلان کا حصہ ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ یہ بتانے کے لیے ہو رہا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔ توشہ خانہ ریکارڈ پر ہے کہ نواز شریف نے چھ لاکھ روپے میں مرسیڈیز گاڑی لی، مریم نواز نے بی ایم ڈبلیو گاڑی لی مگر اُن کے سارے کیسز بند ہوئے جبکہ ہمارا ایک کیس ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ انہیں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو کو ایکسپوز کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے مسلسل 27 سال کی جدوجہد کر کے تحریک انصاف اس جگہ پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ فیصلہ سازوں کو عوام کے غصہ کا اندازہ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ وہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ان سب کو بڑا دھچکا لگنے والا ہے۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی مگر ان سب کو عوام کا غصہ 8 فروری کو نظر آئے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اب تک ہونے والے اقدامات کے باوجود ان کی پارٹی اس وجہ سے مکمل ختم نہیں ہوئی کیونکہ عوام تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 850 ٹکٹ امیدواروں کو دینے تھے مگر اُن سے مشاورت کے لیے رجسٹر بھی جیل نہیں آنے دیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ بلاول کے ساتھ تحریک انصاف کا انتخابی اتحاد نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف نے جانبدار امپائرز کے بغیر کبھی میچ نہیں کھیلا۔ نواز شریف دو ایمپائرز کی مدد سے کھیل رہے ہیں جن میں سے ایک ایمپائر نے حال ہی میں نو بال دے دی ہے۔
منگل کو میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے ان کی جماعت کا ’پلان سی‘ بھی تیار ہے اور پولنگ کے روز ’جھٹکا لگنے والا ہے‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ’حکومت گرائے جانے کے باوجود جنرل باجوہ سے مذاکرات کیے اور جنرل باجوہ سے کہا تھا کہ صاف و شفاف الیکشن مسائل کا حل ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لندن پلان کے تحت جمہوریت کو روندا جا رہا ہے اور انتخابی مہم شروع ہونے کے باوجود لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں کہا تھا کہ ’اچھے غلاموں کی طرح سائفر کی بات عوام میں نہ کرو، ورنہ کیسز کی بارش ہوگی۔‘ عمران خان نے یہ سوال پوچھا کہ کیا سائفر کے معاملے پر عوام کو آگاہ کرنا اور ’حکومت گرانے کی سازش کو ایکسپوز‘ کرنا غداری ہے؟
انھوں نے پوچھا کہ ’لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس، اسلام اباد ہائی کورٹ اور جی ایچ کیو کی سی سی ٹی وی فوٹیج کس نے چوری کی؟ لوگ بے وقوف نہیں، وہ جانتے ہیں کہ فوٹیج چوری کرنے کے وسائل کس کے پاس ہیں؟ ہم کہہ کہہ کر تھک چکے ہیں کہ نو مئی کے واقعات پر آزادانہ انکوائری کروائی جائے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ کبھی فوج کے خلاف کچھ نہیں کیا اور جب مجھ پر گولیاں چلیں، ہم نے اس وقت بھی کچھ نہیں کیا۔ سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ نو مئی لندن پلان کا حصہ ہے اور اس حوالے سے پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کو اغوا کر کے تشدد کیا جاتا ہے اور اگر وہ نہیں مانتے تو آئی سی یو پہنچ جاتے ہیں۔