ہائے اللہ، سیاسی مداخلت کا یہ سائیکل کب تک چلے گا؟
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- منگل 16 / جنوری / 2024
بلے کا نشان گم جانے کے بعد عمران خان کے ٹائیگر بہت خفا ہیں۔ جب انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایسا ہی سب کچھ تو 2018 میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں بائیس سالہ جد و جہد کے بعد کپتان کو وزیراعظم بننا نصیب ہوا تھا، تو وہ دلگرفتہ ہو کر کہتے ہیں ”ہر وقت ماضی کی باتیں کرنے کا کیا فائدہ؟ بہت ہو گیا، کب تک یہ سائیکل چلے گا؟ کب سیاست میں فوج کی مداخلت بند ہو گی۔ اب نہیں تو کب؟“ ۔
بعض لوگ کمال کے انصاف پسند ہوتے ہیں۔ جب اپنا بندہ کسی کو کوٹ کوٹ کر ملیدہ بنا رہا ہو تو بیٹھے دیکھتے اور مزے سے دودھ جلیبیاں کھاتے رہتے ہیں۔ جب مخالف بندہ گیم پلٹ دے اور ان کے اپنے بندے کا کچومر بنانا شروع کر دے تو یکلخت اٹھتے ہیں اور عدم تشدد کے بھاشن دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ لڑنا بری بات ہے، ہم سے بہت غلطی ہو گئی کہ پہلے مذمت نہیں کی تھی بلکہ مزے لیے تھے۔
فوج نے تو سیاست میں مداخلت نہ صرف بند کر دی تھی بلکہ میڈیا پر باقاعدہ اس کا اعلان کیا تھا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ سیاست کے میدان کے پرانے کھلاڑیوں نے چند دن کے اندر اندر سیاسی وار کیا اور کپتان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد لے آئے۔ فرض کیا کہ انہوں نے ممبر خریدے تھے، تو کپتان نے جہانگیر ترین کے جہاز میں بھر کر لائے جانے والے کیا خریدے بغیر لیے تھے؟ اس لاٹ کو بہتر سودا ملا تو اس نے وہ لے لیا۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہی کپتان کو نہ صرف حکومت ملی تھی بلکہ قائم رہی تھی۔ کپتان کے اپنے اعترافات موجود ہیں کہ ووٹنگ کے لیے وہ جنرل فیض کی مدد سے ممبران سے ووٹ ڈلواتا تھا۔ یعنی کپتان کی حکومت چل ہی سیاست میں فوجی مداخلت کی وجہ سے رہی تھی۔
اقتدار سے الگ ہو کر کیا ہوا؟ کپتان نے پہلے تو فوج کے سیاست سے نکلنے پر خوب غل مچایا۔ کہا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں، ایک سائیڈ لو۔ یعنی سیاست میں مداخلت کرو۔ کپتان کا یہ خیال تھا کہ وہ ازلی و ابدی لاڈلا رہے گا۔ اس کی حکومت میں مچائی گئی معاشی، سیاسی اور خارجہ تباہی دیکھنے کے باوجود اس کی ویسے ہی حمایت کی جائے گی جیسے 2011 سے کی جا رہی تھی۔ بظاہر اسے گمان تک نہ ہوا کہ جانور سے دوبارہ انسان بننے کے چکر میں نیوٹرل پنا چھوڑ کر اس کے مخالفوں کے سروں پر بھی دست شفقت رکھا جا سکتا ہے۔
کپتان کو جھنڈی کرائی گئی تو اس نے سیاست کے میدان میں کھِیلنے کی بجائے پھر اس بات پر زور دیا کہ حافظ جی بس ایک بار مجھ سے مل لیں۔ ”وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے؟“ اب یہاں ”وہ“ سے مراد ظاہر ہے دیگر سیاسی جماعتیں نہیں تھیں۔ کپتان تو سیاست میں مداخلت ہی چاہتا تھا۔ یعنی یہ سوال کہ ”یہ سائیکل کب ختم ہو گا“ ، کپتان کے فدائین اس سے پوچھیں تو شاید بات بن جائے۔
بات یہ ہے کہ تمام تر عوامی مقبولیت کے باوجود کپتان کو یقین ہے کہ وہ سیاسی میدان میں اپنے حریفوں، نواز شریف اور آصف زرداری کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ یہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں دیکھ چکا ہے۔ اور اسے یہ بھی پتہ ہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات میں اس کے حق میں کی گئی بے پناہ میچ رگنگ کے باوجود وہ کل ووٹوں کا محض 33 فیصد ہی حاصل کر پایا تھا۔ اور ان 33 فیصد میں بھی ایک بڑا حصہ ان چالیس پچاس الیکٹیبلز کا تھا جو بنجارے ہیں، جہاں گھاس سبز دکھائی دے، وہیں خیمے گاڑ دیتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے کپتان کو غیر سیاسی قوتوں کی ویسی ہی حمایت درکار تھی جیسی جنرل پاشا، فیض اور باجوہ فراہم کرتے رہے تھے۔ اسے یہ سائیکل چلانے میں دلچسپی تھی جس کے متعلق اس کے فدائین پوچھ رہے ہیں کہ وہ کب تک چلے گا۔
آپ نے وہ جدید کہہ مکرنی تو سن رکھی ہو گی:
کھیر پکائی جتن سے، بلا دیا گنوا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
تو اب کپتان کے پیروکاروں کو مبارک ہو۔ جو وہ چاہتے تھے وہ ہو گیا۔ اب کوئی ایسا نیوٹرل موجود نہیں جو جانور کے درجے پر فائز کیا جائے۔ اب وہ بیٹھے سوشل میڈیا پر ڈھول بجاتے رہیں۔ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت جو ختم ہو رہی تھی، اب پہلے سے بھی کئی گنا بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے ذمہ دار نواز شریف یا آصف زرداری نہیں ہیں، کپتان ہے۔ اگر وہ ایک ڈیڑھ سال کے لیے حکومت گنوا دیتا تو کیا فرق پڑتا؟ اگلے الیکشن میں وہ واپسی کی کوشش کر سکتا تھا۔ دو صوبوں میں اس کی حکومت موجود تھی اور اس کی موجودگی اس زمانے کے ہم خیال جج آئین ری رائٹ کر کے یقینی بنا رہے تھے۔ اگلے الیکشن سے پہلے کے اس ڈیڑھ سال میں وہ دونوں صوبائی حکومتوں کے بل پر کیا کچھ نہیں کر سکتا تھا؟ اس نے حکومتیں چھوڑ کر اپنے حامیوں کے ساتھ وہ کچھ کروا دیا جو اس کے حامیوں کے خیال میں ”تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے“ ۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی تاریخ شاہد ہے کہ جسے عوام کی حمایت حاصل ہو اور اسے سیاست کے پتے کھیلنے آتے ہوں تو اسے اقتدار واپس مل جاتا ہے۔ اگر اقتدار کے لیے جنرل فیض ہی کی بیساکھیاں درکار ہوں تو تاریخ ویسے ہی کوڑے دان میں پھینکتی ہے جیسے ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ اور جنرل مشرف کی قاف لیگ کو پھینکا تھا۔
کپتان نے چھبیس برس کی سیاسی جد و جہد ایاک نعبد والی آیت یاد کرتے ہوئے گزار دی۔ اب وقت ہے کہ وہ اس سے اگلی آیت پڑھنا شروع کر دے اور خدا سے دعا کرے کہ وہ آئندہ اسے صراط مستقیم پر چلائے۔
یہ الیکشن ویسے ہی کپتان کو جیل میں رکھ کر ہوں گے جیسے 2018 کے الیکشن نواز شریف کو جیل میں رکھ کر ہوئے تھے۔ نواز شریف نے حوصلہ کر کے اپنا مشکل وقت گزار لیا۔ کپتان بھی حوصلہ کرے۔ اسے تو جیل میں آٹھ دس کمرے بھی ملے ہوئے ہیں، اور سائیکل بھی۔ سکون سے سائیکل چلائے اور سوچے کہ ”یہ سائیکل کب تک چلے گی“ ۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)