سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مہم کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

  • منگل 16 / جنوری / 2024

وفاق کی نگران حکومت نے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مہم کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے  اور انٹیلیجنس اداروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو سپریم کورٹ کے ججز کی ساکھ متاثر کرنے والوں کا تعین کرے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت قائم کردہ یہ جے آئی ٹی عدلیہ مخالف مہم اور ججز کی ساکھ متاثر کرنے والوں کا تعین کرے گی‘ جس کے ذریعے ’اعلیٰ عدلیہ کے خلاف مہم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ جے آئی ٹی ملزمان کے خلاف چالان متعلقہ عدالتوں میں پیش کرے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے تحت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈی جی کی سربراہی میں یہ جے آئی ٹی 15 دنوں میں ابتدائی رپورٹ وزرات داخلہ کو بھیجے گی۔ جے آئی ٹی کی تفصیلات کے مطابق اس میں ایف آئی اے کے علاوہ آئی بی، آئی ایس آئی، ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس اور پی ٹی اے کا ایک، ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

خیال رہے کہ منگل کو پاکستان بار کونسل کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہو رہے ہیں اور اس کی جانب سے عدلیہ مخالف مہم برداشت نہیں کریں گے۔ اداروں اور ججز پر تنقید کرنے کی روش کو روکنا ہو گا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیٸرمین ہارون الرشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے نام نہاد انٹرا پارٹی الیکشن ایک گاؤں میں کروایا۔ سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کے خلاف انتخابی نشان (بلے) سے متعلق فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ’ججز کو نشانہ بنائے جانے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اداروں اور ججز پر تنقید کرنے کی روش کو روکنا ہوگا۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ ’اخلاقی طور پر بلے کا نشان ملنا چاہیے تھا لیکن قانونی طور پر پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائے گئے۔ انہوں نے ایف آئی اے سے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس پاکستان کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔