عمران خان کا ’لندن پلان‘ اور تحریک انصاف کا مستقبل

  • منگل 16 / جنوری / 2024

گزشتہ دو روز کے دوران اڈیالہ جیل میں اپنے مقدمات کی سماعت کے دوران میں  میڈیا کے نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے کسی نام نہاد لندن  پلان کا بار بار ذکر کیا ہے۔  اور دعویٰ کیا ہے کہ   سانحہ 9 مئی، نواز شریف کی واپسی اور تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ آج انہوں نے تحریک انصاف کے پلان ’سی‘ کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ 8 فروری کو ان کے مخالفین کو جھٹکا لگنے والا ہے۔

عمران خان  کے  پلان اے ، بی یا سی کی حقیقت تو  اسی وقت  واضح ہوگئی تھی جب وہ اپریل 2022 میں  اپنی حکومت بچانے کے لئے ایسے حوالوں سے ، اپنی کسی خفیہ مگر تیر بہدف  ’حکمت عملی‘ کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ تاہم وقت نے ثابت کیا کہ جب اس تحریک کو ناکام بنانے کے لیے  قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا ہتھکنڈا اختیار کیا تو  سپریم کورٹ  کے انہی ججوں نے  اس اقدام کو غیر آئینی قرار  دیا جنہیں عمران خان اور تحریک انصاف کے ’چہیتے‘ جج ہونے کا رتبہ حاصل رہا ہے۔   پارٹی کے لیے  ’بلے‘ کا نشان حاصل کرنے کی جد و جہد کرتے ہوئے  پارٹی کے ترجمان رؤف حسن نے  ’پلان بی‘ کا اعلان کرتے ہوئے تحریک انصاف حقیقی کے ساتھ  انتخابی الحاق کا اعلان  کیا تھا۔ انہوں نے اپنے  امید واروں کو  پی ٹی آئی     حقیقی کا ٹکٹ   ریٹرننگ افسروں کو جمع کروانے اور  ’بیٹسمین‘ کا انتخابی نشان حاصل کرنے کی ہدایت کی لیکن  چند ہی گھنٹوں میں ایسے کسی تعاون کی تردید کردی گئی ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے سب امیدوار آزاد امیدوار آزاد حیثیت میں  انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور ہیں اور انہیں درجنوں مختلف انتخابی نشان الاٹ کیے گئے ہیں۔

ماضی کے تجربات  کی روشنی میں  دیکھا جائے تو اب عمران خان جس پلان ’سی‘ کا اعلان کررہے ہیں، اس کی نوعیت جھوٹے نعروں اور اپنے حامیوں کو بے بنیاد  تسلی دلانے سے زیادہ نہیں ہے ۔ گزشتہ دو روز کے دوران میں عمران خان سے منسوب  جو باتیں میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہیں، درحقیقت وہی پارٹی یا عمران خان کا پلان  ’سی‘ ہے کہ  پارٹی کی مقبولیت، سیاسی طاقت اور منصوبہ بندی  کے بارے میں ہر جھوٹ کو روا رکھا جائے۔ اور اسے کسی نام نہاد لندن پلان کا نام دے کر اپنے حامیوں کو یقین دلایا جائے کہ تحریک انصاف کسی بہت بڑی سازش کے تحت انتقامی کارروائی کا نشانہ بن رہی ہے۔ جیسا کہ آج ہی عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام کی بہت بڑی اکثریت  پارٹی کے ساتھ ہے اور 8 فروری کو پولنگ کے روز ’جھٹکا لگنے والا ہے‘۔ 

عمران خان کی بات اس حد تک مانی جاسکتی ہے کہ اس وقت ملک میں بے یقینی کی صورت حال ہے ۔ اسی لیے یہ حتمی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے کہ عام انتخابات کے دوران میں عوام کا رجحان کسی پارٹی کی طرف ہوگا۔    یہ اندازہ  قائم کیا جاتا ہے کہ نوجوان ووٹروں نے اگر بڑی تعداد میں پولنگ میں حصہ  لیا تو شاید تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں متاثر کرنے کی صلاحیت کی بنا پر ان  کے ووٹوں میں سے اکثریت کی حمایت حاصل کرلے۔ لیکن مہنگائی، سیاسی پارٹیوں کی درمیان  عناد و نفرت اور سیاست دانوں کے بارے میں عمومی عدم اعتماد کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے کہ عوام کی اکثریت ووٹ دینے  سے ہی  گریز کرے۔

پاکستان میں عام طور سے ووٹ ڈالنے کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے لیکن  متعدد عوامل کے باعث یہ شرح اس سے کم بھی ہوسکتی ہے۔ عمومی بداعتمادی کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے اندیشوں اور سرد موسم کی وجہ سے بھی ووٹ دینے والوں کی تعداد میں کمی آسکتی ہے۔ انتخابات  میں کم تعداد میں ووٹروں کی شرکت سے جمہوریت ضرور ضعیف ہوگی لیکن  انتخابی نتائج  کی اصابت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور  ہر حلقے  میں زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار کسی اسمبلی کا رکن تسلیم کرلیا جائے گا۔  ان حالات میں صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے یہ اہم ہونا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ  تعداد میں لوگ ووٹ دینے کے لیے باہر نکلیں ۔ تاہم  بوجوہ تحریک انصاف کے لیے اس کی اہمیت دو چند ہے کیوں کہ ایسی صورت میں وہ  نوجوان ووٹر کی حمایت   حاصل کرنے کی امید کرسکتی ہے۔

لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف  نے اس حوالے سے کوئی حکمت عملی  تیار نہیں کی۔  بلاشبہ ریاستی اداروں کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ  کی وجہ سے پارٹی اور اس کے لیڈروں کو مشکل کا سامنا ہے۔ لیکن ماضی میں متعدد پارٹیوں نے ایسی مشکل  کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کسی نہ کسی طرح  اپنے حامیوں کو متحرک رکھا ۔ اس طرح انہیں  اپنی سیاسی قوت دکھانے کا موقع ملا اور  اسٹبلشمنٹ کو بھی ان کے  ساتھ مواصلت کا راستہ کھلا رکھنا پڑا۔  تحریک انصاف اس کے برعکس  اپنی مظلومیت  پر ’مرثیہ خوانی‘ سے آگے بڑھے پر آمادہ نہیں ہے۔

 تحریک انصاف کا سارا زور پروپگنڈے اور جھوٹے دعدوؤں  وبیانات پر ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران میں عمران خان کے بیانات اسی رویہ  کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کہہ  رہے ہیں جن کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں ہے لیکن اس کے باوجود تکرار سے انہی باتوں کو دہرایا جاتا ہے تاکہ عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ راسخ ہوجائے کہ عمران خان سچ بولتے ہیں اور باقی سب جھوٹ ہے۔   یہی رویہ پارٹی کے وکیلوں کی باتوں اور  عدالتوں میں ان کے دلائل کے دوران میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اب تو یہی لگتا ہے کہ وکیلوں کے ایک گروہ نے تحریک انصاف کے معاملات سنبھال لیے ہیں۔ ان میں  سے متعدد لوگ تو گزشتہ ایک دو سال کے دوران میں ہی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔    تحریک انصاف کے ساتھ   ’محبت‘   کے مظاہرے  میں ان سب  کے مقاصد جدا جدا ہیں۔ وکیلوں کے اس گروہ میں  سیاسی امور پر اتفاق رائے کی بھی کمی ہے اور قانونی حکمت عملی کے بارے میں بھی کوئی واضح نقشہ نہیں ہے۔ اس کا بدتر مظاہرہ سپریم کورٹ میں انتخابی نشان کی  واپسی کے لیے مقدمہ کی سماعت کے دوران  دیکھنے میں آیا۔  عدالت کے بار بار استفسار کے باوجود پارٹی کے وکلا یہ ثابت نہیں کرسکے کہ  پارٹی انتخابات کیسے اور کب ہوئے تھے۔ اور نہ ہی وہ کسی قانونی بنیاد پر الیکشن کمیشن کے  اس  اختیار کو چیلنج کرسکے کہ  اس نے کس قانون کے تحت پارٹی انتخابات کا جائزہ لے کر انتخابی نشان واپس لیا ہے۔

اب عمران خان    نے الزام لگایا ہے کہ ’نواز شریف نے جانبدار امپائرز کے بغیر کبھی میچ نہیں کھیلا۔ اس وقت  نواز شریف دو امپائرز کی مدد سے کھیل رہے ہیں جن میں سے ایک ایمپائر نے حال ہی میں نو بال دے دی ہے‘۔  اس بیان میں    دوسرے  امپائر سے   عمران خان کی مراد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  ہی ہوسکتے  ہیں،  جن کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ کے فیصلہ کو ’نو بال‘ کہا جارہا ہے۔ ان  کا اعتراض ہے کہ  تحریک انصاف کے انتخابی نشان کا معاملہ پانچ رکنی بنچ کو سننا چاہئے تھا۔ حالانکہ حقیقت  یہ ہے کہ اگر فل کورٹ  بنچ بھی یہ مقدمہ سنتا اور سارے جج  متفقہ طور سے  تحریک انصاف  سے انتخابی نشان واپس لینے کو درست قرار دیتے تو بھی عمران خان نے اسے جعلی فیصلہ قرار دینا تھا۔ ان کے نزدیک ’انصاف‘  وہی ہوسکتاہے جس میں ان کی بات کو درست مان لیا جائے۔  جیسے کہ پارٹی کے  جعلی انتخابات  کو الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ کے ججوں سمیت جو بھی درست نہ مانے، اسے ’لندن پلان ‘ کا حصہ کہا جاسکتا ہے۔ عمران خان اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بارے میں ایسا ہی طرز عمل اختیار کرچکے ہیں۔  ایسے میں عمران خان  کو تو  شاید ’انصاف‘ صرف اسی صورت میں  ہی مل سکتا  ہے اگر ان کے وکلا کو ہی ’جج‘ بنا کر عدالت لگا دی جائے اور وہ خود ہی اپنے دلائل  پر واہ واہ کرتے ہوئے، تحریک انصاف کو مظلوم ترین پارٹی قرار دے کر   عمران خان کو ملک کا واحد ’صاد ق و امین‘    بتاتے  ہوئے ، انہیں   لیموزین   میں جیل سے گھر پہنچانے کا حکم صادر کردیں۔

بدقسمتی سے ’دیوانہ ‘ خوب تو دیکھ سکتا ہے لیکن  کامیابی اسی کے حصے میں آتی ہے جو  اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتا ہے۔ تحریک انصاف انتخابات کو جھوٹے نعروں اور بے بنیاد الزام تراشی کے ذریعے جیتنا چاہتی ہے ۔ حامیوں کے بارے میں تصور کرلیا گیا ہے  کہ وہ  بے چینی سے 8  فروری کا انتظار کررہے ہیں اور جوں ہی پولنگ کا آغاز ہوگا  عمران خان کے دیوانے  بیلٹ  بکسوں کو تحریک انصاف کی حمایت میں  اتنا بھر دیں گے کی مخالفین منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔   عمران خان 8 فروری کو یہی’ جھٹکا ‘، فوج، عدلیہ ، سیاسی مخالفین  اور میڈیا سمیت ہر اس شخص کو دینا چاہتے ہیں جسے وہ اپنے ’دشمنوں‘ کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔ حالانکہ عمران خان اور تحریک انصاف اس وقت جن حالات سے گزررہے ہیں، ان میں انہیں دشمنوں سے زیادہ دوستوں کی ضرورت ہے ۔لیکن عمران خان بیان بازی کی حد تک دشمنیاں پکی کرنے  کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ بیلٹ پیپر کے ذریعے زمین آسمان ایک  کرنے کی امید ان حامیوں سے کی جارہی ہے جو گزشتہ آٹھ نو ماہ کے دوران  میں اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیے گئے  محبوب لیڈر کی  قیدکے خلاف ایک ڈھنگ کا احتجاج بھی نہیں کرسکے۔   جو لوگ  خوف کی وجہ سے یا پریس کانفرنس کرتے ہیں یا  روپوش ہیں، وہ کیسے  بیلٹ بکس  بھر کر عمران خان کا خواب پورا کریں گے؟

اس خواب کی تکمیل کے لیے تحریک انصاف کو جن عملی تیاریوں کی ضرورت ہے، ان  کا  نشان تک  نہیں ملتا لیکن سوشل میڈیا  پر  فوج کے بعد اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس  کے خلاف مہم جوئی پر ساری صلاحیتیں صرف کی جارہی ہیں۔  سوشل میڈیا    کی مواصلاتی طاقت کو تسلیم کرنے کے باوجود اس حقیقت تو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ  کاٹھ کی  ہنڈیا بار بار چولہے پر  نہیں چڑھائی جاسکتی۔  ایک ہی جھوٹ سے لوگوں کو کب تک بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کو سمجھنا پڑے گا کہ سوشل میڈیا اور الزام تراشی سے بھرپور بیان،  بیلٹ پیپر کا متبادل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کوئی ووٹر بیان سن کر پولنگ اسٹیشن  کا رخ کرے گا۔

موجودہ مشکل حالات میں عمران خان کو مفاہمانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے پارٹی لیڈر  کے طور  پر  اپنی غلطیوں کا  جائزہ لے کر ان کی اصلاح کی کوشش  کرنی چاہئے۔  لیکن لندن پلان، سائفر سازش  اور امپائروں کی بے ایمانی جیسے بیانات دے کر وہ یہ واضح کررہے ہیں کہ  ان پر نہ اب اعتبار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مستقبل میں وہ کسی بھروسے   کے لائق ہیں۔  عمران خان کو جاننا چاہئے کہ    انہیں  8فروری تک ہی مہلت دستیاب ہے۔ اگر  انتخابات میں  تحریک انصاف قابل ذکر کامیابی حاصل کرکے اسمبلیوں میں  صحت مندانہ کردار ادا کرنے پر  آمادہ نہ ہوئی  تو کہانی ختےم ہوجائے گی۔یا  وہ  اگر اس قابل   بھی نہ ہوئی تو دھاندلی کا شور  اب عمران خان کی مدد نہیں کرسکے گا۔ انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے  بانی کو شاید بیان بازی کا   کوئی موقع بھی میسر نہ ہو۔ ایم کیو ایم کے الطاف حسین کا عبرت انگیز انجام  یہ سبق سیکھنے کے لیے کافی ہونا چاہئے۔