بلوچستان میں ایران کا میزئل حملہ، پاکستان کی شدید مذمت

  • بدھ 17 / جنوری / 2024

پاکستانی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے بلوچستان کی سرحد کے اندر کئے جانے والے حملوں کو اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس کی کی شدید مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ان حملوں میں دو معصوم بچے ہلاک اور تین بچیاں زخمی بھی ہوئی ہیں۔ پاکستان محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ یہ اور بھی تشویش ناک ہے کہ یہ غیر قانونی عمل پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلزموجود ہونے کے باوجود ہوا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ میں متعلقہ اعلیٰ عہدیدار کے پاس شدید احتجاج درج کروا چکا ہے۔ پاکستان کی خودمختاری کی اس صریح خلاف ورزی کی شدید مذمت کرنے کے لیےایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں بلایا گیا ہے۔  اس کے نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے ایران پر عائد ہوگی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق چند گھنٹے قبل پاسداران انقلاب نے ایران اور پاکستان کی سرحد پر ایک گاؤں میں اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان میں جیش العدل کے دو ہیڈ کوارٹرز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملہ جیش العدل کیمپ پر پنجگور رائفلز کے علاقے سبز کوہ، چیدگی سیکٹر میں ہوا۔ سبز کوہ، چیدگی بارڈر پاکستانی سرحد (بلوچستان) کے اندر ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران کے پاسداران انقلاب نے عراق اور شام میں بھی ایک روز قبل اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں۔کل کیے جانے والے ان حملوں میں،خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اس حوالے سے باقاعدہ بیان بھی جاری کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کے حالیہ مظالم کے جواب میں عراق کے علاقے کردستان میں موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک اڈے کو بیلسٹک میزائل کے حملے میں تباہ کیا ہے۔