عمران خان انتخاب سے نااہل ہوئے ہیں، سیاست سے باہر نہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 17 / جنوری / 2024
لاہور ہائی کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے عمران خان، شاہ محمود قریشی اور تحریک انصاف کے متعدد دیگر ممتاز رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے ہیں۔ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں ملنے والی سزا اور اس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی طرف سے نااہلی کے فیصلہ کی بنیاد پر اس فیصلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تکنیکی طور سے اب بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے لیکن قیاس یہی ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں عمران خان حصہ نہیں لے سکیں گے۔
یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نے کیا ہے ۔ ا س میں الیکشن ٹریبونل اور ریٹرننگ افسر کے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے۔ اس عدالتی فیصلہ کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس سے سیاسی تصادم میں اضافہ ہوگا اور ملکی نظام عدل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم فریقین کو اپنے رد عمل میں قوم و ملک کا وسیع مفاد ضرور مدنظررکھنا چاہئے ۔ توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کردی تھی لیکن فیصلہ معطل کرنے سے انکار کیا تھا۔ یعنی جب تک ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کامیاب نہ ہوجائے، اس وقت تک عمران خان پر عائد کی گئی پابندی موجود رہے گی۔ یہی ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ سیاسی طور سے عمران خان اگرچہ انتخابات میں امید وار نہیں ہوسکیں گے لیکن اس طرح ان کا سیاسی اثر ورسوخ یا مقبولیت کم نہیں ہوجائے گی۔ بلکہ تحریک انصاف کے امید وار اس عدالتی فیصلہ کو بھی ’ناانصافی‘ کی مثال بنا کر پیش کریں گے اور لوگوں کے سامنے پارٹی کو مظلوم بنا کر پیش کیاجائے گا تاکہ شک و شبہ کا شکار ووٹروں کو اپنی طرف مائل کیا جاسکے۔
پاکستانی نظام میں سیاست اور جرم کے حوالے سے مباحث اس حد تک خلط ملط ہوچکے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا محال ہوتا ہے کہ کس فیصلے کو قانونی قرار دیا جائے اور کس میں سیاسی عنصر تلاش کیا جائے۔ اس وقت تحریک انصاف کو ریاستی اداروں کے اختلاف کا سامنا ہے۔ اگرچہ کسی بھی ادارے نے واضح طور سے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اب عمران خان قابل قبول نہیں ہے یا تحریک انصاف کو ملکی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن اس بارے میں یہی تاثر نوک زبان ہے کہ عمران خان چونکہ اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ نہیں رہے ، اس لیے اب ان کا سیاسی سفر مشکل بنانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال ہورہے ہیں۔ تحریک انصاف اور عمران خان خود اس پروپیگنڈا کو شدت سے پھیلا رہے ہیں۔ یہ صورت حال عدالتوں کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔ اگر وہ قانون کا منہ دیکھتی ہیں تو ان پر فوج کی تابعداری کاالزام عائد کیا جاتا ہے اور اگر وہ سیاسی طور سے کوئی درمیانی راستہ اختیارکریں تو عدلیہ کو سیاسی ہونے کا طعنہ سننا پڑتا ہے۔ یہ صورت حال صرف تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے ہی دیکھنے میں نہیں آئی اور نہ ہی موجودہ عدالتوں کےفیصلے متنازعہ کہے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو ایسی صورت حال کا سامنا رہا ہے۔ حال ہی میں نواز شریف کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہونے والے فیصلوں کی وجہ سے ریلیف ملا ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہی کی وجہ سے تاحیات نااہل قرار دیے گئے تھے۔
عدالتی احکامات کی وجہ سے ہی وہ کوٹ لکھپت جیل میں پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہے تھے اور شدید بیماری میں انہیں چند ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی ۔البتہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر نواز شریف نے لندن میں اپنا قیام کئی سال پر محیط کرلیا۔ کوٹ لکھپت جیل سے نوا شریف کی رہائی کو بھی فوج کی طرف سے ’خیر سگالی‘ کا اشارہ کہاگیا تھا جس میں عدلیہ نے ’سہولت کاری‘ کی تھی۔ حالانکہ اس وقت بھی نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت تحریک انصاف کی حکومت نے دی تھی اور عمران خان بعد میں اس فیصلہ پر تاسف کا اظہار بھی کرتے رہے تھے۔
سیاسی لیڈروں کے معاملات کے علاوہ ملک پر فوجی حکومتوں کے حوالے سے نظریہ ضرورت کے نام پر عدلیہ نے ماضی میں متعدد ایسے فیصلے دیے ہیں جنہیں اس وقت ملکی تاریخ کا سیاہ باب کہا جاتا ہے۔ البتہ سیاست دان یا عدلیہ ابھی تک اس مشکل سے باہر نکلنے کا کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس سے عدلیہ کے میرٹ پر کیے گئے فیصلوں کو قانونی مانا جائے۔ ان فیصلوں کے سیاسی اثرات کے باوجود عدلیہ کو سیاسی فیصلے کرنے کا مرتکب کہنے کا طرز عمل تبدیل ہوجائے۔ خاص طور سے سپریم کورٹ کی طرف سے تحریک انصاف کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان نہ ملنے کے فیصلہ کو سیاسی اور اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی کے لیے کیا جانے والا فیصلہ کہا جارہا ہے ۔ حالانکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب سپریم کورٹ کے جج کے طور پر فیض آباددھرنا کیس میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت پر سخت فیصلہ لکھا تھا تو عمران خان ہی کی حکومت نے صدر عارف علوی کے ذریعے ان کے خلاف ریفرنس بھیجا تھا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسی ہی نفرت انگیز مہم چلائی گئی تھی جو اس وقت بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔
عمران خان نے جیل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کو نواز شریف کے دو ’امپائروں‘ میں شامل کرکے ان پر نو بال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس طرح چیف جسٹس پر جانبداری کا براہ راست الزام لگایا ہے۔ ایسے رویے ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ملک میں ایسی صورت حال بنا دی گئی ہے کہ ایک طرف سیاست دان ہر معاملہ پر اعلیٰ عدلیہ سے معمولی سے معمولی معاملہ میں فوری سماعت کا تقاضہ کرتے ہیں حالانکہ لاکھوں مقدمے سال ہا سال سے التوا کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ اگر فیصلہ حسب خواہش نہ آئے تو ججوں کو جانبدار اور عدالتوں کو ’کینگرو کورٹس‘ کہنے میں دیر نہیں کی جاتی۔ اس حد تک سیاسی رہنماؤں کو اپنی حکمت عملی پر غور کرکے ملکی عدلیہ کو کچھ سپیس دینا پڑے گی بصورت دیگر ملک میں انصاف اور سیاست میں تمیز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
ماضی میں ملکی عدلیہ کا کردار اس کے حالیہ فیصلوں پر نکتہ چینی کی بنیاد ضرور بنتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اعلیٰ عدلیہ نے کم از کم گزشتہ دو دہائی کے دوران ملک میں براہ راست فوجی حکمرانی کا راستہ روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ 2008 کے بعد بننے والی ہر حکومت کے دور میں ایسے حالات پیدا ہوئے جن میں یہ اندیشہ تھا کہ فوج ایک بار پھر ملک پر مارشل لا نافذ کردے۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہؤا۔ اس کی وجہ سیاسی قوتوں کی دلیری یا مستقل مزاجی ہرگز نہیں تھی کیوں کہ سیاست دانوں کا کوئی نہ کوئی گروہ اقتدار کے حصول کے لیے بہر صورت فوج کا معاون بننے پر آمادہ رہا ہے۔ البتہ سپریم کورٹ نے کسی مرحلے پر فوج کی طرف سے مارشل لا نافذ کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔
عام طور سے ان معاملات پر بات کرتے ہوئے یہ مان لیا جاتا ہے جیسے عسکری و عدالتی لیڈر کہیں خفیہ طور سے مل کر چند فیصلے کرلیتے ہیں ، پھر انہیں ملی بھگت سے نافذکردیا جاتا ہے۔ البتہ صورت حال کا متوازن تجزیہ یہی ہوگا کہ عدالتوں کے جج مقدمات کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیتے ہیں، اسٹبلشمنٹ کے متعلقہ حلقے بین السطور ان کا مطلب سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ملک میں 2007 کے بعد سے ایسی کوئی ناخوشگوار صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی جس میں مارشل لا نافذ کرنے یا آئین معطل کرنے میں فوج کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ بحال کرکےانہیں آئین شکنی کا مرتکب قرار دیاہے۔ یہ عدالتی فیصلہ ماورائے آئین کسی بھی اقدام کا راستہ روکنے کا اعلان ہے۔ اس لیے ملکی عدلیہ کے بارے میں مثبت اشارے بہر حال موجود ہیں۔ یا کم از کم یہ کہا جاسکتا ہے کہ عدلیہ نے سیاسی لیڈروں کے مقابلے میں آئین کی حفاظت کے بارے میں زیادہ مستعدی دکھائی ہے۔
یہ پس منؓظر بیان کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ملکی صورت حال میں سب کچھ برا نہیں ہے۔ اگر عدالتوں سے قانونی میرٹ پر فیصلوں کی امید کی جاتی ہے تو ایسے فیصلوں کو مان لینے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا چاہئے خواہ ان سے کسی ایک فریق کی سیاست پر اثرات ہی کیوں نہ مرتب ہوتے ہوں۔ متعلقہ فریق کو عدالت کو حتمی فورم مان کر سرتسلیم خم کرنا چاہئے اور مخالفین کو اسے حق کی فتح کی قرار دینے کی بجائے قانون کی بالادستی ہی کے طور پر دیکھتے ہوئے متوازن انداز میں رد عمل دینا چاہئے۔
البتہ عدالتی فیصلوں کے سیاسی اثرات پر گفتگو ضرور ہونی چاہئے تاکہ مستقبل میں اس سے سبق سیکھتے ہوئے بہتری کے امکانات پیدا ہوں۔ جیسے چند روز پہلے سپریم کورٹ سے تحریک انصاف کے انتخابی نشان کا فیصلہ ملکی سیاست پر اثرانداز ہوگا، ویسے ہی لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے عمران خان کو انتخاب میں حصہ لینے سے انکار کے بھی سیاسی اثرات ہوں گے۔ وقتی سیاسی گرمجوشی کے ماحول میں عدالتی فیصلوں کو ایک پارٹی کے خلاف قرار دے کر یک طرفہ پروپیگنڈا کرنے یا کسی اہم مدمقابل کے میدان سے باہر ہونے پر خوش ہونے کی بجائے ، یہ جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہماری عدالتیں اب سیاسی عواقب کا اثر قبول کیے بغیر صرف قانونی میرٹ اور ایک خاص وقت میں موجود شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا طرز عمل اختیار کررہی ہیں۔ کسی عدالت سے سیاسی ضرورتوں کے لیے انصاف کے فورم کو استعمال کرنے اور قانون کی ’حسب ضرورت ‘ تشریح کی توقع کرنے والے درحقیقت ملک میں قانون کی حکمرانی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ سیاسی خواہش کے باوجود اس طرز عمل کو نہ جمہوری کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس طرح نظام عدل مستحکم اور قابل اعتبار ہوسکتا ہے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کے بعض اہم لیڈر ضرور میدان سے باہر ہوئے ہیں۔ اسی طرح بلے کا نشان نہ ملنے کی وجہ سے شاید تحریک انصاف کو فروری کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ہو لیکن بڑی تصویر میں یہ معمولی اور چھوٹی باتیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی طور سے ناقابل قبول عدالتی فیصلوں کو امپائر کی کارکردگی یا لندن پلان قرار دینا صحت مندانہ طریقہ نہیں ہے۔ الفاظ کی ایسی گولہ باری سے نہ کوئی بڑا سیاسی مقصد حاصل ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس سے متعلقہ پارٹی کوئی وقتی یا طویل المدت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ چند ماہ پہلے نواز شریف کے بارے میں سمجھا جارہا تھا کہ ملکی سیاست میں ان کا کردار ختم ہوچکا، اور اب پوری سیاست انہی کے گرد گھوم رہی ہے۔ عمران خان بھی اس وقت نااہل ہوئے ہیں لیکن یہ مدت پوری ہونے پر یا ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے سہولت ملنے پر وہ ایک بار پھر میدان میں واپس آجائیں گے اور کسی بھی نشست سے ضمنی انتخاب میں کامیاب بھی ہوسکیں گے۔
سیاست امکانات کا نام ہے۔ اسے مایوسی پھیلانے کے لیے استعمال کرنے سے کسی ایک فرد یا پارٹی کو تو شاید فائدہ نہ پہنچے لیکن اس سے ملکی مفاد، اس کے نظام، اداروں کی شہرت اور عوام کے سوچنے کے طریقوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس راستے پر چلنے سے گریز ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔