ہمارے سیاسی بیانیے اور مکافات عمل؟

الحمدللہ تمام تر تنازعات اور الجھنوں کے باوجود ہمارا قومی قبلہ درست ہے۔ پاکستانی قوم مختلف النو ع شکایات رکھتے ہوئے جمہوری سفر پر گامزن ہے۔ 8 فروری کے انتخابات میں بال برابر شک و شبہ نہیں یہ پتھر پر لکیر ہیں۔

لوگ سینٹ کی جن قراردادوں کا ریفرنس دے رہے تھے، وہ انتہائی کمزور نچلے درجے کے ویسٹڈ انٹرسٹ کے سوا کچھ نہ تھیں اور جو لوگ بے پر کی اڑاتے ہوئے ہانک رہے ہیں کہ خدانخواستہ یہ نہ ہوا یا وہ نہ ہوا تو یہاں مارشل لا لگ جائے گا قطعی فضول ہوائیاں ہیں۔ یہ درویش اپنی وزڈم سے 100 فیصد تیقن کے ساتھ تحریر کیے دے رہا ہے کہ اس نوع کے مبہم شبہات کا کہیں ایک فیصد بھی امکان نہ اب ہے اور اگر تدبر سے کام لیا گیا تو نہ انتخابی نتائج کے بعد ہے۔  ہمارے یہاں بلاشبہ یہ ریت چلی آرہی ہے کہ ہارنے والے جیتنے والے کو مبارکباد

دینے کی بجائے دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایجی ٹیشن یا دھرنوں کی راہ اپناتے ہیں۔ آج کا خوبصورت منظر نامہ یہ ہے کہ الیکشن 2024 کے بعد بھی ایسی کوئی سکیم یا سازش وقوع پذیر ہوتی نہیں دکھتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایسی سکیمیں غیبی اشاروں سے تشکیل پاتی رہی ہیں اور ماورائی اشارے مفاداتی ہوتے ہیں جبکہ اس وقت خوشگوار نئی تبدیلی کے ساتھ سیاست، عدالت اور طاقت سبھی کا مفاد سیاسی وجمہوری ایکتا و استحکام میں ہے۔

اگر کسی کو ہمارے اس دعوے کی اصابت میں تحفظات و شبہات ہیں، وہ لبیک والوں کا منظر نامہ نظروں کے سامنے لے آئے جو ایک وقت میں پولیس والوں کو مار کر بھی جہادی دکھتے تھے لیکن جب خلائی یا خدائی اشارے بند ہوئے تو ہر چیز جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ سابق کھلاڑی نے بھی ایک وقت میں پورا زور لگا کر دیکھ لیا۔ پاگل پن کی حد تک چلا گیا لیکن الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دہشت و جنوں نے کام کیا، بلکہ الٹا پڑ گیا۔ شیخ مجیب الرحمن کی مثال بہت اچھی دی جاتی ہے مگر اس کے لیے عوامی ریلے کو ساتھ اٹھانا اور سڑکوں پر لانا پڑتا ہے۔ نہ کہ دو ڈھائی ہزار کی ٹولیوں کو۔ غیبی اشاروں کی بندش سے سسٹم میں بہتری کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ

یہاں کسی کو جو بھی شکایات ہیں وہ انتخابات کے بائیکاٹ کی ہمت نہیں کر پا رہا اور کر بھی نہیں سکتا کیونکہ ایسی بڑی سکیم تب بنائی جا سکتی ہے جب آپ یہ محسوس کریں کہ ہم ایجی ٹیشن کے ذریعے سب کچھ ادھیڑ کر رکھ دیں گے۔ بصورت دیگر آپ کو جو تھوڑی بہت پذیرائی حاصل ہے یا آپ کچھ وجوہ کی بنیاد پر یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ کچھ عوامی حلقوں میں آپ کے لیے ہنوز خاص حمایت پائی جاتی ہے، ایسی صورت میں وہ سب چھنتی صاف شفاف دکھتی ہے، اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پاتے کہ یہ مکافات عمل کیا چیز ثابت ہو سکتی ہے؟ یہ کوئی روحانی و ماورائی واردات نہیں ہوتی، اس کی جڑیں زمینی طور پر انسانی اخلاقیات میں ہی پیوست ہوتی ہیں۔ اسی لیے سیانے کہتے ہیں ” کربھلا سو ہوئے بھلا“ آپ کو اگر کسی وجہ، حالات یا چالاکی سے طاقت ہاتھ آجاتی ہے یا عروج ملتا ہے تو حوصلے اور اعتماد سے اسے ہضم یا جذب کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں۔ ورنہ اس کے مکافات سے آپ کو جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں۔ آج ہمارے پی ٹی آئی والے دوست دکھی اور رنجیدہ ہی نہیں ناراضگی کے ساتھ

غصے میں ہیں یہ کہ وقت کا دھارا ان کے خلاف کیوں چل رہا ہے؟ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ سپریم جوڈیشری جو کبھی ان کی بلائیں لیتی تھی، اپنے آئینی وقار کو مٹی میں ملاتے ہوئے ان کے آگے پیچھے بچھ رہی ہوتی تھی، آج وہ ان کو بھری بزم میں آئینی و قانونی تقاضے پورے استدلال کے ساتھ سمجھا رہی ہوتی ہے۔ تیس مارخاں کے وہ عبقری قانون دان جو ثاقب سے بندیال تک اے کے بروہی بنے ہوئے تھے، آج بچوں کی طرح الٹی سیدھی ہانکتے پائے جاتے ہیں اور کبھی بے وقوفوں کی طرح سر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ عوام کے سامنے مظلومیت کے لبادے اوڑھنے لگتے ہیں۔

درویش نے برسوں قبل اپنی ابتدائی ملاقاتوں میں اصلیت سمجھ لی اور لکھا کہ یہ شخص کرکٹ کا پاپولر کھلاڑی ضرور ہے مگر سیاست کا اناڑی ہے۔ لوگ سیلیبرٹی سمجھ کر اس کی طرف ضرورآئیں گے مگر منہ کی کھائیں گے کیونکہ سیاست کے لیے تحمل، حوصلے، برداشت اور میچورٹی کا جو ہلکا سا معیار ہوتا ہے، وہ بیچارہ تو اس سے بھی تہی دامن ہے۔ جذباتیت و جنونیت سے اکھاڑ پچھاڑ یا دھینگا مشتی تو کی جا سکتی ہے کوئی تعمیری کامرانی حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ حال ہی میں ہماری ایک صحافی شخصیت نے کہا کہ آج سے کچھ عرصہ قبل کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ صورتحال بن جائے گی۔ یہ ناچیز عرض گزار ہے کہ اس نے نہ صرف سوچا بلکہ لکھا اور کہا بھی جس روز باجوہ سے گڑبڑ کی، مصدقہ اطلاع ملی ایک سیاسی شخصیت کو مبارکباد کا پیغام بھیجا کہ لیجئے آپ کے لیے سب راہیں کھل گئیں۔ کیونکہ ایک اناڑی بیچارہ جن بیساکھیوں پر کھڑے تھا جب انہی کو توڑ بیٹھا ہے تو اس نے آگے کیا خاک بڑھنا ہے۔

سیاست میں معمولی سی غلطی بعض لمحات میں اتنی حساس ہوتی ہے کہ آپ کو عرش سے فرش پر گرا دیتی ہے چہ جائیکہ کہ آپ اناڑی پن میں غلطیوں کی تسبیح پکڑ لیں۔ واضح رہے کہ اناولا غیری کا کوئی دارو نہیں، ہمارے عوام جتنے بھی جذباتی ہیں لیکن اتنی سمجھ رکھتے ہیں کہ وہ ہارنے والے کے ساتھ نہیں جاتے۔ جب انہیں یقین ہو جائے کہ فلاں نے جیتنا ہے، ماورائی اور نادیدہ خدائی طاقتیں بھی اس کے ساتھ ہیں تو وہ بھی اپنا وزن اسی پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ یا گروہ درگروہ اس کی طرف پلٹنے لگتے ہیں۔ اس وقت اگرچہ ہمارے سوشل میڈیا پر حاوی لوگ بہت زور لگا رہے ہیں۔ حافظ صاحب تو رہے ایک طرف، قاضی فائز عیسیٰ جیسے غیر معمولی چیف جسٹس کے خلاف بھی طوفان بدتمیزی اٹھانا چاہ رہے ہیں لیکن جس طرح ان کے بظاہر افلاطون دکھائی دینے والے فاضل وکلا فارغ ہوئے ہیں، چند ایام میں شروع ہونے والی بھرپور انتخابی کمپین میں جناح تھرڈ کی سینہ بہ سینہ بھیجی گئی ہدایات اور مسلط کی گئی اناڑی قیادت کی کوتاہیاں انہیں عوام میں مزید ننگا کر دیں گی۔ ان کے لفظی گولے اور احتجاجی ڈنڈے باہمی طور پر استعمال ہوں گے۔

اس کے بالمقابل نواز شریف اپنے بڑے جلسوں کے ذریعے عوام کو اپنا واضح ٹھوس تعمیری بیانیہ ذہن نشین کرنے میں کامیاب ٹھہریں گے۔ اگر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی قیادت کو غرور وتکبر اور اکڑ کی بیماری یا الائیش سے بچ کر عوامی عظمت کے سامنے سرنگوں ہو کر چلا پائے تو۔ اگرچہ استحکام پارٹی کے الیکٹ ایبلز یا آزاد نمائندوں کی اہمیت 8 فروری کے بعد سب کو دکھائی دے گی ۔ قائد حزب اقتدار کس نے ہونا ہے یہ تو کوئی سربستہ راز نہیں۔ سبھی پر واضح ہے۔ البتہ 8 فروری کو یہ معلوم ہوگا کہ قائد حزب اختلاف کس نے بننا ہے۔ نیز یہ بھی کہ ایجی ٹیشن کی سیاست کو کس حکمت کے ساتھ ڈیل کرناہے؟

بہرحال ہمارا تضادستان اس وقت جس فکری وعملی کنفیوژن سے گزر رہا ہے، یہاں عوامی دکھ اور محرومیاں اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں اس میں اصل ضرورت ایسے سیاسی استحکام کی ہے جس میں ایک نو کا تسلسل و دوام ہو۔