پاک ایران تنازعہ جلد ختم کرنے کی ضرورت

پاکستان نے ایک روز پہلے  بلوچستان کے  سرحدی علاقے   پنجگور میں ایران  کی طرف سے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں  جمعرات کی صبح ایران کے سرحدی صوبے سیستان بلوچستان میں دہشت گردوں کی  پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارت  خارجہ کے مطابق یہ حملہ پاکستان کی سلامتی کے نقطہ نظر سے کیا گیا ہے کیوں کہ  بلوچ علیحدگی پسند ان علاقوں سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کررہے تھے۔

پاکستان نے اس کارروائی کو ’آپریشن مرگ بر سرمچار‘ کا نام دیا ہے ۔ پاکستانی  دفتر خارجہ   نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں  متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ایرانی ذرائع  نے حملوں کی تصدیق کی  ہے لیکن  بتایا ہے کہ  پاکستانی حملوں میں ہلاک ہونے والے تمام 9 افراد ’غیرملکی‘ تھے اور ایران کا کوئی باشندہ   ہلاک نہیں ہؤا۔  پاکستان نے ایران کے جس علاقے میں کارروائی کی ہے ، وہ بین الاقوامی سرحد سے لگ بھگ 50 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی میزائل حملے میں کم از کم تین خواتین اور چار بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ دو مردوں کے  مرنے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے  اس معاملہ پر اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران  میں  کہا کہ ’پاکستان ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ لیکن آج کے حملے کا مقصد پاکستان کی اپنی سکیورٹی اور قومی مفاد تھا جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا‘۔ البتہ ایک ہی روز پہلے جب ایران نے  پاکستان کے سرحدی علاقوں میں  میزائل  پھینکے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ’جیش العدل ‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔   ان حملوں کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے شدید الفاظ میں ایران کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے دوررس اثرات  سامنے آئیں گے۔  وزارت خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان مناسب وقت پر جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ آج صبح ایران پر ہونے والے حملوں کو اگرچہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری کہا گیا ہے لیکن یہ درحقیقت پاکستان کی طرف سے ایرانی جارحیت کا جواب ہے۔ ایسے میں  اہم ترین سوال یہ ہیں  کہ 1)کیا اب ایک دوسرے کے  علاقے میں حملوں  کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔ 2)ایران کو اچانک پاکستانی علاقوں میں کارروائی کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

خبروں کے مطابق  دونوں ملکوں کے درمیان مواصلت کے دوران میں  ایسا کوئی اشارہ نوٹ نہیں کیا گیا تھا جس سے  پاکستانی علاقوں میں موجود  ایران مخالف عسکری گروہوں کے  متعلق کسی  فوری پریشانی یا تشویش کا اظہار کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک  میں  خوشگوار تعلقات قائم رہے ہیں اور وہ متعدد امور پر ایک دوسرے سے عالمی فورمز پر تعاون بھی کرتے ہیں۔ حتی کہ  ایرانی حملہ سے چند گھنٹے  پہلے  ڈیوس  میں اکنامک فورم   اجلاس کے دوران   میں ایران کے وزیر خارجہ  حسین امیر عبداللہ  نے پاکستانی وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات میں بھی ایرانی ارادوں کے بارے میں کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا تھا۔

سفارتی حلقے اور مبصرین اس حوالے سے  اندازے قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ  ایران کو  ایک دوست ملک کے خلاف اچانک ایک انتہائی اقدام کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ یہ حقیقت تو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ایران مخالف عسکری گروہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں پناہ لیتے ہیں، اسی طرح  مسلح بلوچ قوم پرست  ایرانی علاقوں میں  روپوش رہتے ہیں۔  اسی  لیے پاکستان کا د عویٰ ہے کہ ا س نے جوابی کارروائی میں درحقیقت بلوچ عسکری گروہوں کو نشانہ بنایا ہے جو کہ پاکستان کی سلامتی کے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ  تعلقاتِ عامہ کے مطابق ایران میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا  گیا ۔

اس وقت سب سے پریشان کن سوال یہی ہے کہ کیا  ایران کے حملے اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد  اب دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم رہے گا یا  ایک دوسرے پر میزائیلوں سے حملے کرنے کا یہ سلسلہ مستقل نوعیت اختیار کرلے گا۔  اس سوال کا کوئی آسان جواب موجود نہیں ہے  بلکہ    یہ سوال عالمی حالات، بڑی طاقتوں کی حکمت عملی اور ایران کے اندرونی حالات سے  منسلک ہے۔ اگرچہ بعض مبصرین اس معاملہ کو بہت سادہ کرکے یوں بھی بیان کررہے ہیں کہ  ایران کے پاسداران انقلاب سے وابستہ میڈیا  پر ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ’پاکستان میں ایران اور ایران میں پاکستان کی عسکری کارروائیاں دونوں ممالک کی مرضی سے ہوئی ہیں‘۔ اس طرح یہ اندازہ  قائم کیا جارہا ہے کہ یہ کارروائی ایک دوسرے کی ملی بھگت سے کی گئی ہے تاکہ ایک دوسرے کے ملک میں موجود  ایسے عناصر کو نشانہ بنایا جائے جو اپنی اپنی جگہ پر پاکستان اور ایران کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ البتہ  بین الملکی تعلقات میں اس قسم کی ’ساز باز یا سازش‘ کی بنیاد پر کارروائی  کو قبول کرنا آسان نہیں ہوسکتا۔  بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کرکے   دو ملکوں کے درمیان تعلقات کے بہت سے شعبے متاثر ہوتے ہیں۔    ایران اور پاکستان     ایک دوسرے کی  حاکمیت کو چیلنج کرنے والی کارروائی  پر رضامند نہیں ہو سکتے۔ اس طرح پوری دنیا   کو یہ تاثر ملے گا کہ یہ ممالک اپنی خود مختاری کو  زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔  پھر تو کوئی بھی ہمسایہ ملک پاکستان یا ایران میں کسی کو بھی نشانہ  بنانے کا حوصلہ کرسکتا ہے۔ یوں بھی  موجودہ  دور میں ملی بھگت کا ایسا کوئی منصوبہ ’خفیہ‘ نہیں رکھا جاسکتا۔ اس طریقہ سے  بین الاقوامی  دارالحکومتوں اور عالمی فورمز پر کسی بھی ایسے ملک کی ساکھ ختم ہوسکتی ہے۔

پاکستان پر ایران کے حملوں کو سمجھنے کے لیے اس وقت علاقے کی صورت حال اور ایران  کے اندرونی حالات کو سمجھنا  مناسب ہوگا۔  غزہ  پر اسرائیل کی مسلط کی ہوئی جنگ میں ایران اور اس  کے زیر اثر متعدد پراکسی عسکری گروہ   اسرائیل کے خلاف ’مزاحمتی  قوت‘ کے طور  پر سامنے آئے ہیں۔  ایران متعدد بار متنبہ کرچکا ہے کہ اگر اسرائیل نے جلد جنگ بند نہ کی تو  یہ دوسرے علاقوں تک پھیل جائے گی یا یہ کہ وہ خاموش نہیں رہے گا۔ لبنان میں ایران نواز گروہ حزب اللہ مسلسل اسرائیل کو انگیج کرنے کی کوشش کرتا  رہاہے اور یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ اسرائیل کے لیے ایک نیا  محاذ کھولا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف یمن کا حوثی عسکری گروہ بحیرہ احمر میں  عالمی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ دراصل غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور اسرائیل جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے  ہیں۔  تاہم ایران کی دھمکیوں اور اس کے پراکسی گروہوں کی کارروائیوں کے باوجود  غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو روکا نہیں جاسکا۔ بلکہ امریکہ نے اپنے حلیف ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں متعدد حوثی ٹھکانوں و تنصیبات کو نشانہ بنا یا اور ان کی صلاحیت کم کرنے کا عزم کیا ہے۔ ایران اس حوالے سے خود کو بے بس و تنہا  محسوس  کرتا ہے اور  عالمی طور سے ایک مشکل صورت حال کا سامناکررہا ہے۔

حوثیوں کے خلاف امریکی کارروائیوں  کے باوجود ایران کوئی عملی اقدام نہیں کرسکا۔ اس سے یہی تاثر قومی ہوتا ہے کہ ایران  علاقے میں موجود امریکی بحریہ کے سامنے بے بس ہے۔ اس  یک طرفہ منفی ’شہرت‘ سے  نجات پانے کے لیے ایران نے پہلے عراق اور شام  کے ٹھکانوں پر میزائیل پھینکے لیکن ان سے  شاید مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے  کیوں کہ یہ دونوں ممالک پہلے ہی جنگ کی لپیٹ میں ہیں اور کوئی بھی ملک ان کی سرزمین پر اپنے  مخالف گروہوں پر حملہ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا۔ البتہ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملہ کرکے ایران  نے امریکہ تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش ضرور کی ہے کہ اگر اسے مکمل طور سے دیوار سے لگایا گیا تو وہ بھی علاقے میں عدم استحکام پیدا کرسکتا ہے۔  اس طرح ایران کمزور پوزیشن کے باوجود  خود کو ’طاقت ور ‘ اور کھیل کے اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے خلاف حملوں کی تشہیر اور اس کامیابی  پر ایران میں دیکھے  گئے جوش و ولولہ سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے۔ ورنہ ایک دوست ملک کے خلاف کارروائی کے بعد معذرت خواہانہ انداز اختیار کرکے کوئی مناسب وضاحت  بھی دی  جاسکتی تھی۔ لیکن ایران کا مقصد خود کو ایک اہم عسکری قوت کے طور پر پیش کرنا ہے۔

اس ماہ کے  آغاز میں پاسداران  انقلاب کے سابق جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر   دہشت گرد حملہ میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ ایران عام طور سے اپنے ملک میں دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کی شہرت رکھتا ہے اور وہاں  دہشت گردی کا کوئی بڑاواقعہ نہیں ہوتا۔ تاہم قومی ہیرو مانے جانے والے ایک جنرل کی برسی کے اجتماع پر حملہ سے ایران کی اس ساکھ کو شدید نقصان پہنچا تھا جس سے پاسداران انقلاب کی عسکری صلاحیت پر سوال سامنے آئے تھے۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس اندرونی دباؤ سے نکلنے کے لیے  ایرانی  پاسداران نے ہمسایہ ملکوں پر میزائیل حملے کرنے کا پروگرام بنایا ہو۔  ان حملوں کے بعد ایران میں عوامی  طور سے خوشیاں منانے کی اطلاعات سے اس  قیاس کی تصدیق ہوتی ہے۔

ایرانی حکومتی  ڈھانچے میں متحارب گروہ  ایک دوسرے  سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔  اندرونی طور سے رائے عامہ کو دبانے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی  دباؤ کے علاوہ اندرونی طور سے بھی احتجاج دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ حکومتی ڈھانچے میں بھی ملک کی مذہبی قیادت کے انتہاپسندانہ ہتھکنڈوں  کے بارے میں  پریشانی موجود ہے۔ اس لیے اس امکان کو  نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ    داخلی  حکومتی ڈھانچے  کے   باہمی تنازعہ میں کسی ایک گروہ نے خود کو منوانے کے لیے متفقہ حکومتی  پالیسی سے قطع  نظر اپنے طور پر یہ کارروائی کی ہو۔ ایسی کسی صورت حال میں کوئی بھی حکومت یہ تاثر نہیں دے گی کہ ان کے اندرونی خلفشار کی وجہ سے کچھ غلط ہورہا ہے۔  اس حوالے سے پاکستان پر حملے کو ایک غیر ارادی سانحہ بھی سمجھا جاسکتا ہے تاہم اس کی وجہ سے ایک  سنگین عسکری اور سفارتی    بحران  ضرور پیدا ہؤا ہے۔

چین نے دونوں ملکوں  کو ہوش مندی سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہوئے  ثالثی کی  پیش کش کی ہے۔ اگرچہ امریکہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔  مشرق وسطی میں امریکی اثر ورسوخ  کو محدود کرنے اور  غزہ  میں  اسرائیلی  جارحیت کے خلاف علاقے کے تمام ممالک  کے درمیان اتفاق  رائے کے مشترکہ مقصد سے  پاکستان اور ایران کو  سنجیدگی سے اس تنازعہ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہئے۔ اگر اسے طول دینے کی کوشش کی گئی تو دنیا کی بڑی طاقتوں کو  اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ایک نیا محاذ کھولنے کا موقع مل سکتا ہے۔