غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری، 24 گھنٹوں میں 172 فلسطینی شہید
اسرائیلی فوج کے حملوں میں کمی نہیں آئی۔ اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں میں مزید 172 فلسطینیوں شہید ہوئے۔
فلسطینی نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے طولکرم میں تمام داخلی راستے بند کردیے اور بلڈوزر کے ذریعے فلسطینی املاک کو تباہ کیا جارہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
خان یونس کے ناصر ہسپتال کے حالات ’ناقابل برداشت‘ ہو چکے ہیں وہاں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کے مطابق اسرائیل نے ہسپتال کے آس پاس کے علاقوں پر حملہ کیا، جس سے ہزاروں لوگ نقل مکانی کر گئے۔ غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ساتویں روز میں داخل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے غزہ کے عوام، پیرامیڈکس اور دیگر عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں الشفا ہسپتال کے قریب ایک اپارٹمنٹ بلاک پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 12 ہو گئی ہے۔ وفا نیوز ایجنسی کے مطابق طولکرم کیمپ سے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فلسطینی کی لاش ملی۔ 44 گھنٹے تک جاری رہنے والے اسرائیلی چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 8 افراد مارے گئے۔ 24 گھنٹوں میں مزید 172 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔
7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 24 ہزار 620 افراد ہلاک اور 61 ہزار 830 زخمی ہوئے۔ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے سے اسرائیل میں مرنے والوں کی نظر ثانی شدہ تعداد ایک ہزار 139 ہے۔
دریں اثنا امریکہ نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو ایک آزاد ریاست میں امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے کا پورا حق حاصل ہے۔
صدر جو بائیڈن کی حکومت کے حالیہ حمایت ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی غزہ جنگ کے بعد فلسطینی علاقے کے لیے وژن سے اختلاف سے قطع نظر اپنے منصوبے پر قائم ہے جس میں فلسطینی ریاست کا قائم شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لا سکے گا۔ وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات میں پیش رفت ایک ایسا موقع ہو گا جس سے خطے میں وسیع اقتصادی اور سلامتی مواقع پیدا ہوں گے۔
اس سے قبل نیتن یاہو نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں فلسطینی ریاست کی اسکیم سے انکار کیا تھا اور اس بات پر اصرار کیا کہ اب فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی سیکیورٹی کنٹرول ضروری ہے۔
وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے نیتن یاہو کے بیان کو مسترد کر دیا۔ جان کربی نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کوئی نیا تبصرہ نہیں ہے۔ ہم ظاہر ہے کہ اسے مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ فلسطینیوں کو ایک آزاد ریاست میں امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے کا پورا حق ہے۔
بائیڈن انتظامیہ اسرائیل دباؤ بڑھا رہی ہے۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دو ریاستی حل کے راستے کے بغیر عرب ممالک غزہ کی تعمیر نو میں شامل نہیں ہوں گے۔ بلنکن نے رواں ماہ کے شروع میں نیتن یاہو کی جنگی کابینہ سے ملاقات کے بعد تل ابیب میں صحافیوں کو بتایا کہ اگر اسرائیل چاہتا ہے کہ اس کے عرب ہمسایہ ممالک اس کی پائیدار سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے ضروری سخت فیصلے کریں تو اسرائیلی رہنماؤں کو خود سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔