خالد مسعود خان اور افغان جہاد کے ثمرات

اگر آپ اسے جملہ معترضہ نہ سمجھیں تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ ہمیں افغان جہاد کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں اردو ادب کو خالد مسعود جیسا مزاحیہ شاعر دستیاب ہوا ۔ افغان جہاد میں کم از کم ہمیں تو خیر کا یہی ایک پہلو دکھائی دیا ۔

اس جہاد نے یوں تو احمد شاہ مسعود اور مولانا اظہر مسعود جیسے جنگجو بھی پیدا کیے مگر ان مسعود برادران میں ہمیں برادر عزیز خالد مسعود ہی عزیز ہیں ۔ اب آپ یہ سوال کریں گے کہ ہم خالد مسعود کی مزاحیہ شاعری کو افغان جہاد کا نتیجہ کیوں قرار دے رہے ہیں ۔ تو اس حوالے سے ہمارے پاس کچھ ٹھوس دلائل بھی موجود ہیں جو شاید خالد مسعود کو بے تکے بھی نظر آئیں۔  اردو ادب میں مزاح نگاروں کی فہرست پہ نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان میں سے اکثریت کا تعلق فوج سے رہا ہے ۔ وہ کرنل شفیق الرحمن ہوں یا میجر ضمیر جعفری ، کرنل محمد خان ہوں یا ابوالاثر حفیظ جالندھری ( یہ نام ہم نے سہواً ہرگز نہیں لکھا)، بریگیڈئیر صدیق سالک ہوں یا میجر صولت رضا ۔ مزاح نگاروں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو فوج کے ساتھ وابستہ رہی ہے۔

اس کی نفسیاتی تو جیہہ یہ کی جا سکتی ہے کہ فوج میں شاید مضحک کرادر اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ تخلیق کار کو لوگوں کو ہنسانے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی ۔ دوسری توجیہہ یہ کی جا سکتی ہے کہ محاذ جنگ کے اعصاب شکن لمحات اس بات کے متقاضی ہوتے ہیں کہ کچھ لمحے ہنسنے ہنسانے کے لیے بھی نکال لیے جائیں اور یہ صورتحال اعلیٰ مزاح کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔ خالد مسعود نہ جرنل ہے نہ کرنل ، بریگیڈئیر ہے نہ میجر مگر یہ ایک سابق 

سپاہی ضرور ہے ۔ سرکاری فوج کے ساتھ تو اس کے تعلقات (بقول اس کے ) ٹھیک نہیں مگر غیر سرکاری فوج میں یہ شامل رہا ۔ روس کے خلاف جہاد میں خود شریک ہوا۔ جرنیلوں، کرنیلوں، بریگیڈئیروں اور میجروں کی طرح اس نے بھی مضحک کردار قریب سے دیکھے اور اعصاب شکنی کے لمحات سے بھی گزرا۔ اس صورتحال نے اس کے اندر کے مزاح نگار کو بیدار کیا ۔ اس نے مزاحیہ شعر کہنا شروع کیے اور یہ کہتا ہوا محاذ جنگ سے واپس آ گیا۔  نارڈر اندر لڑنا شڑنا اوکھا لگتا ہے۔   مزاحیہ شعرکہو یا ہم سے کالم تم لکھوا لو،

اوکھا تو اب اسے مشاعرے پڑھنا بھی بہت لگتا ہے ۔ مشاعروں کے لیے یہ مسلسل سفر میں رہتا ہے اور اپنی نیند مشاعروں کے دوران پوری کرتا ہے ۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ یہ دوران مشاعرہ رنگلے پلنگ کا پاوا پکڑ کے ُستا رہ جاتا ہے ۔ اور اس وقت تک اَڑ کے ُستا رہتا ہے جب تک کوئی شاعراسے باقاعدہ جھنجھوڑ کر جگا نہیں دیتا ۔ پھر یہ سٹیج پر آتا ہے ابتدائی چند اشعار غنودگی کی حالت میں سناتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ حاضرین کی داد اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔

جہاں تک اس کی اور میری دوستی کا تعلق ہے تویہ دوستی بھی بہت سے دوستوں اور انتہائی دوستوں کے لیے حیرت کا باعث ہے ۔ مجھ سے ایک سوال مختلف اوقات میں مختلف انداز سے پوچھا گیا ۔ کبھی طنزیہ انداز میں ، کبھی مشتعل کر دینے والے انداز میں اور کبھی باقاعدہ شرم دلانے والے لہجے میں۔۔ سوال کرنے والوں میں دوست بھی شامل تھے، دشمن بھی اور حاسد نما غیر جانبدار منافقین بھی ۔ سوال یہ تھا کہ خالد مسعود جیسے بنیاد پرست کے ساتھ میری دوستی آخر کس بنیاد پر ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ خالد مسعود سے بھی یہی سوال بارہا کیا گیا ہو گا۔ بعض ترقی پسند دوستوں نے خالد مسعود کے ساتھ میری دوستی کو میری شخصیت کا جھول اور میرے قول و فعل کا تضاد بھی قرار دے دیا ۔ اور واقعی یہ بات غور طلب بلکہ توجہ طلب بھی ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ میں جماعت اسلامی کا مخالف ہوں، طالبان کے جہاد کو پسند نہیں کرتا ، بنیاد پرستی مجھے اچھی نہیں لگتی ، مزاحیہ شاعری کو میں شاعری  تسلیم کرنے سے ہچکچاتا ہوں اور اس کے باوجود خالد مسعود سے میری دوستی ۔

اور دوستی بھی کوئی عام تام راہ چلتے سلام دعا والی نہیں چنگی بھلی، پکی ٹھکی دوستی ہے ۔ تو آخر ایسا کیوں ہے۔ کبھی کبھار تو میں باقاعدہ خوفزدہ ہو جاتا ہوں کہ کہیں میرے اندر بھی کوئی بنیاد پرست نہ چھپا بیٹھا ہو اور ڈاکٹر سید محمد تقی کی وہ پیش گوئی کہیں پوری نہ ہو جائے جو انہوں نے 1986 میں کی تھی اور میرا ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ 40 سال کی عمر کے بعد تم مذہبی جنونی ہو جاﺅ گے، تمہاری لمبی ڈاڑھی ہو گی، ٹخنے ننگے اور مونچھیں صاف ہوں گی ۔ ڈاکٹر سید تقی کی یہ پیش گوئی اب اس عمر میں اگر پوری ہوبھی جائے تو کیا فائدہ کہ اب تو ہم اس حلیے کے ساتھ کرکٹ ٹیم میں بھی شامل نہیں ہو سکتے ۔ 

خالد مسعود کے ساتھ میری دوستی کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ خالد مسعود ان چند بنیاد پرستوں میں سے ہے جن سے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ اگر جیکٹ پوش بھی ہو تو میں اس کے گلے لگ جاتا ہوں ۔ دوستی کی یہ کوئی واحد وجہ نہیں ہے ۔ ویسے بھی دوستی ایک آدھ وجہ کی بنا پر قائم نہیں ہوتی ۔ اس کے لیے بہت سی مشترک وجوہات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ مشترک وجوہات کبھی بھی بلا وجہ پیدا نہیں ہوتیں ۔ دوستی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ہمارے درمیان اچھے ہمسایوں والی عدم مداخلت کا ایک غیر اعلانیہ معاہدہ بھی موجود ہے ۔ میں اس کی بہت سی غلط قسم کی باتوں پر خاموش رہتا ہوں اور وہ بھی میری بہت سی درست قسم کی باتوں کو غلط سمجھ کر چپ رہتا ہے ۔

وہ میرے ساتھ نماز پڑھتا ہے مگر سلام پھیرنے کے بعد مجھے دوزخی نہیں سمجھتا ۔ وہ پورے روزے رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ میں ایک بھی نہیں رکھتا، اس کے باوجود مجھے افطاری پر بلاتا ہے اور یہ کہہ کر بلاتا ہے کہ میں تمہیں افطاری کے ثواب سے محروم نہیں رکھنا چاہتا ۔ اور اس غیر اعلانیہ معاہدے کے نتیجے میں لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ رضی خالد مسعود کے منہ سے قاضی حسین احمد کی تعریف سن کر خاموش کیوں رہتا ہے ۔ عدم مداخلت کا یہی رویہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لایا اور یہی وہ رویہ ہے کہ جس کے نتیجے میں مَیں آج اس کی دوستی پر فخر کرتا ہوں ۔

برداشت کا یہ رویہ اگر جامعہ حفصہ والے بھی اپنا لیں تو شاید میں انہیں بھی اچھا سمجھنے لگوں اور ان کی مزاحیہ شاعری پر بھی اسی طرح داد دوں جیسے خالد مسعود کی مزاحیہ شاعری پر دیتا ہوں ۔ ( کتاب ۔۔ آدھا سچ ۔۔ مطبوعہ 2009 )

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)