انتخابی نشان کا تنازعہ: سپریم کورٹ سے سیاسی فیصلوں کی امید نہ کی جائے

تحریک انصاف کے لیڈر بیرسٹر گوہر علی خان  نے ایک  ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ  چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ایسے فیصلے کی توقع نہیں تھی  کہ تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا جائے۔ ان کے خیال میں یہ بہت سخت   سزا ہے۔   تحریک انصاف سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تنقید کرتے  ہوئے مسلسل اس حکم کے سیاسی عواقب  کا حوالہ دیتی ہے  لیکن معاملہ کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی دلیل نہیں دی جاتی۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران  سپریم کورٹ نے  الیکشن کمیشن کے 22دسمبر کے فیصلے کو آئینی قرار دیا تھا۔ اس فیصلہ میں پی ٹی آئی  اپنے ہی آئین کے  مطابق انٹرا پارٹی انتخاب منعقد کروانے میں ناکام رہی تھی جس کی وجہ سے اس  سے ’بلے‘ کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اب پارٹی  کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں   8 فروری کے انتخاب میں حصہ لینا پڑے گا اور ہر امید وار کو علیحدہ  انتخابی نشان ملے گا۔   بجا طور سے اسے ایک سیاسی پارٹی کے لیے ’ڈیتھ وارنٹ‘ کہا جاسکتا ہے۔

البتہ حیرت انگیز معاملہ یہ ہے  کہ سپریم کورٹ میں دو روز تک اس کیس کی سماعت ہوئی اور تحریک انصاف کے وکیلوں کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ یہ سماعت چونکہ لائیو ٹیلی کاسٹ کی گئی تھی ، اس لیے ہر کس و ناکس نے  ملاحظہ کیا کہ تحریک انصاف کے فاضل وکلا کے سارے دلائل ، اس فیصلہ کے منفی سیاسی اثرات  کے بارے میں تھے۔ ان کا یہی مؤقف رہا کہ  ملک کی ایک اہم  سیاسی پارٹی کو انتخابی نشان نہ دے کر درحقیقت اسے انتخاب سے باہر کردینے کا اقدام ہوگا جس کے ملک میں جمہوری نظام پر  منفی اثرات مرتب ہوں گے۔  ججوں کے ساتھ مکالمہ میں  تحریک انصاف کے وکلا کو دو نکات پر اپنی  پوزیشن واضح کرنے کی دعوت دی گئی  تھی۔ ایک  : وہ یہ ثابت کردیں  کہ جن انٹرا پارٹی انتخابات میں بیرسٹر گوہر علی کو تحریک انصاف کا چئیرمین  ’منتخب‘ کیا گیا تھا ، دہ درحقیقت منعقد ہوئے تھے۔  دوئم: الیکشن کمیشن کے تعصب کے بارے میں دستاویز اور شواہد فراہم  کیے جائیں۔

پارٹی کے وکلا سے بار بار اس  معاملہ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے سوال پوچھے جاتے رہے۔   یہ کہ  پارٹی کے سب ارکان کو  پارٹی انتخاب کے بارے میں مطلع  کیا گیا تھا تاکہ اگر کوئی رکن کسی عہدے کے لیے امیدوار بننا چاہتا ہے تو  وہ کاغذات نامزدگی حاصل کرسکے۔ اس کے برعکس  درجن بھر سے زائدد رخواست دہندگان کا کہنا تھا کہ بار بار کوشش کرنے کے باوجود انہیں کاغذات  نامزدگی نہیں  مل سکے۔  پارٹی کے وکیل اس بات کی وضاحت کرنے میں بھی ناکام رہے کہ یہ انتخاب منعقد کروانے کے لیے پشاور کے دیہی علاقے میں ایک چھوٹی سی جگہ کا انتخاب کیوں کیا گیا تھا؟   ملک گیر پارٹی کے ارکین نے  اس جگہ جمع ہوکر کیسے پارٹی کے انتخاب میں حصہ لیا۔   بیرسٹر گوہر علی  خان  نے تازہ انٹرویو میں ایک بار پھر اکبر  ایس بابر کو ’دوسروں کی ہدایات پر عمل کرنے والا‘  قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ  انہیں 13 سال پہلے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ پارٹی کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ  میں سماعت کےدوران  میں بھی تحریک انصاف کے وکلا یہی مؤقف اختیار کرتے رہے تھے لیکن جب ان سے استفسار کیا گیا کہ اگر اکبر ایس بابر کی پارٹی رکنیت ختم کی جاچکی ہے تو اس کا کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کیا جائے۔ لیکن عالم فاضل وکلا ایسی کوئی تحریر یا دستاویز سامنے نہیں لاسکے۔

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف سے دوسرا سوال یہ کیا تھا  کہ پارٹی الیکشن کمیشن کو اپنے خلاف متعصب قرار دیتی ہے۔   اس الزام کو دستاویزات و شواہد کے ساتھ ثابت کردیاجائے تاکہ الیکشن کمیشن کا تعصب واضح ہوجائے اور پارٹی کو ریلیف دیا جاسکے۔ چیف جسٹس نے صراحت سے کہا تھا کہ اگر پارٹی  کے انتخاب کا ثبوت فراہم  کردیا جاتا ہے تو اسے انتخابی نشان بھی ملے گااور دیگر سہولتیں بھی حاصل ہوں گی۔  البتہ وکلا نے پوری گفتگو میں ان دونوں معاملات پر  کوئی شواہد دینے، قانونی نظیر پیش کرنے اور   واقعاتی شہادتیں لانے کی بجائے سیاسی بیان بازی  سے کام چلانے کی کوشش کی۔ وہ یہی متنبہ کرتے رہے کہ تحریک انصاف کو سیاست سے باہر کیا گیا تو  اس کے  ’خوفناک نتائج‘ مرتب ہوں گے۔

ایسے میں سوال پیدا  ہوتا ہے کہ  ملک میں ایک طرف یہ مباحثہ کیا جاتا ہے کہ سیاسی معاملات میں اداروں کو ملوث نہیں ہونا چاہئے۔ گو کہ  یہ حوالہ عام طور سے فوج کی سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ قانونی  لحاظ سے فوج کو ادارہ کی حیثیت حاصل نہیں ہے بلکہ یہ تو وزارت دفاع کے زیر انتظام ایک محکمہ ہے۔  لیکن سپریم کورٹ  ایک آئینی ادارہ ہے۔  اس لیے اداروں کو  سیاست سے دور رہنے  کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے کس اخلاقی، قانونی یا سیاسی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے جس کا کوئی قانونی میرٹ تو موجود نہ ہو لیکن اس  کے سیاسی    مضمرات سے آگاہ کیا جائے۔  اس  دعویٰ   کاکوئی قانونی یا آئینی جواز  نہیں ہے کہ تحریک انصاف  کا انتخابات  میں حصہ لینا چونکہ سیاسی طور سے اہم ہے اور اس سے ملک میں جمہوریت مستحکم ہوسکتی ہے، اس لیے سپریم کورٹ پارٹی کے حق میں فیصلہ صادر کردے ۔ حکم دے دیا جائے کہ ایک بڑی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔غالباً  پارٹی کو اس بات پر کوئی اعتراض  نہیں  ہے کہ چھوٹی پارٹیوں سے یہ حق واپس لے لیا  جائے۔ اس کے خیال میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف متعصبانہ رویہ اختیار   کرنے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے  سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ  اس نے 13 دوسری پارٹیوں سے بھی انتخابی نشان واپس لیے ہیں۔  البتہ تحریک انصاف کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ   پارٹی کے ’حجم، مقبولیت اور عمران خان کی قیادت‘ کی وجہ سے  اس کا مقابلہ چھوٹی پارٹیوں سے نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اس سے ملکی سیاسی منظر نامہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن کیا ایسی  کوئی دلیل کسی قانونی میرٹ پر پوری اتر سکتی ہے؟  قانون تو ہر فرد اور پارٹی کے ساتھ مساوی سلوک کرنے  کا پابند ہے۔

حیرت ہے کہ تحریک انصاف ، سپریم کورٹ سے  سیاسی فیصلہ مانگتی رہی لیکن خود ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین پارٹی ہونے کا  دعویٰ کرنے  کے باوجود بھری عدالت  میں یہ ثابت نہیں کرسکی کہ جس انٹرا پارٹی انتخاب  کی بنیاد پر  بیرسٹر گوہر علی خان کو نیا چئیرمین  ’منتخب‘ کیا گیا تھا اور جس بنیاد پر  انتخابی نشان مانگا جارہا تھا، وہ واقعی منعقد ہوئے تھے۔ پارٹی یہ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ تمام پارٹی ارکان کو انتخابات کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔  تحریک انصاف عمران خان کی ’بے مثال‘ مقبولیت کی بنیاد پر  ملک کے عام انتخابات  میں  غیر معمولی کامیابی  حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر  پارٹی کے چند لاکھ ارکان پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں تھی کہ وہ عمران خان کے تجویز کردہ لوگوں کو ہی مختلف عہدوں پر منتخب کرلیں گے۔ اس کی بجائے ایک ’جعلی‘ انتخاب کا ڈھونگ کرکے کاغذی کارروائی  پوری کردی گئی۔ کیا کسی قومی پارٹی سے اتنا تقاضہ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ  وہ  پارٹی کے انتخابات مناسب شفافیت سے منعقد کروائے اور اس کا دستاویزی ثبوت فراہم  کرے؟

دلیل کی حد تک  سپریم کورٹ کے ’دائرہ اختیار‘  پر بحث کی جاسکتی ہے یا کہا جاسکتا ہے کہ یہ معاملہ درحقیقت پٹیشن کا موضوع ہی نہیں تھا لیکن جس سیاسی میرٹ کی بنیاد پر تحریک انصا ف  انتخابی نشان نہ ملنے کو  سپریم کورٹ کی شدید ناانصافی قرار دینے پر مصر ہے، اسی جواز کی بنیاد پر سیاسی پارٹی کے طور پر انٹرا پارٹی انتخاب  کا ثبوت فراہم کرنا پارٹی قیادت کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔ خود اپنی ذمہ داری میں ناکام ہونے کے بعد اب سپریم کورٹ  سے سیاسی ناانصافی کا شکوہ  ناقابل قبول ہونا چاہئے۔

یہ اصولی بحث جائز و درست ہے کہ کیا ملک کی باقی سب پارٹیاں بھی شفاف  انٹڑا پارٹی انتخابات منعقد کرواتی ہیں ۔ یا صرف تحریک انصاف ہی کو اس  حوالے سے   انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو واضح کردیا  ہے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ اس نے  15 دوسری پارٹیوں  کے انٹرا پارٹی انتخابات کا جائزہ  لیا اور 13 کو ڈی لسٹ کردیا یعنی وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں۔    مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر بھی خاندانوں کی اجارہ داری ہے اور ان کے انتخابات  بھی کاغذی کارروائی ہی ہوتے ہیں لیکن  تحریک انصاف کے افسوسناک تجربہ کے بعد  دیکھا جاسکتا ہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے کم از کم اس حوالے سے کاغذی کارروائی پوری کی ہے۔ تحریک انصاف   توا س مقدمہ  میں   الیکشن کمیشن  کو دستاویزات بھی فراہم نہیں کرسکی بلکہ چئیرمین کی ایک تحریر کو  ’اصل ثبوت‘ کے طور پر پیش کیا گیا اور اب اصرار کیا جارہا ہے کہ اسے ہی درست مانا جائے۔

عام انتخابات  میں تحریک انصاف کے امیدوار  ایک  انتخابی نشان کے تحت  حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اسے  ملکی سیاست میں ایک افسوسناک اور ناقابل تلافی نقصان سمجھا  جانا چاہئے۔   یہ صورت حال انتخابات کے بارے میں یقیناً شبہات پیدا کرے گی اور دھاندلی کے الزامات ایک بار پھر سننے میں آئیں گے جو کسی بھی آئیندہ حکومت کے لیے مشکل پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ لیکن تکنیکی لحاظ سے اس کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی بجائے تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے  جس نے  مناسب ہوم ورک نہیں  کیا اور  متعدد مرحلوں پر حاوی منصوبہ بندی کے دعوے کرنے کے باوجود  کوئی ایسی حکمت عملی نہیں بنائی کہ  وہ  بروقت کسی دوسری پارٹی سے الحاق کرکے کم از کم پارٹی کے امیدواروں کو ایک ہی انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اتار سکتی۔ 

سپریم کورٹ سے اگر قانون کی بالادستی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کے سامنے قانونی دلائل ہی پیش کرنے چاہئیں اور اس سے سیاسی فیصلوں کی توقع کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔