اسرائیل فلسطینی تنازع کا دو ریاستی حل ممکن ہے: صدر بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا کہ فلسطین اسرائیل مسئلہ کا دو ریاستی حل ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل کی کئی قسمیں ہیں۔ نیتن یاہو ان میں سے کسی ایک پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے اس خیال کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے اقتدار میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن دکھائی نہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ جمعے کو فون پر ہونے والی بات چیت کے چند گھنٹے بعد کیا۔

بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ  دو ریاستی حل کی کئی قسمیں ہیں اور نیتن یاہو ان میں سے کسی ایک پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایسے طریقے موجود ہیں جو قابلِ عمل ہو سکتے ہیں۔

امریکہ غزہ میں جاری جنگ کے بعد کے مستقبل کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے جن میں اسرائیلی اور فلسطینی تنازع کا دو ریاستی حل شامل ہے۔ بائیڈن کا تازہ ترین بیان غزہ کے مستقبل پر نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں اب تک کی سب سے زیادہ تفصیل فراہم کرتا ہے۔

اسرائیل حماس جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ ایک خطرناک خطہ بنا ہوا ہے جہاں اسرائیلی حملوں میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 24 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

واضح رہے کہ حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کر کے کم از کم 1200 افراد کو ہلاک کردی اتھا اور تقریباً 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بعد ازاں ان میں سے سو کے قریب مغویوں کو ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران رہا کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے جمعرات کو فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واشنگٹن کی دیرینہ حمایت کی مخالفت کی تھی جس پر امریکہ کے کچھ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے تنقید کی تھی۔ نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست سے متعلق واشنگٹن کی حمایت کی مخالفت کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ نیتن یاہو کا یہ بیان صدر بائیڈن سے جمعے کو ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت کا نتیجہ تھا۔ خیال رہے کہ دونوں رہنماؤں کا ایک ماہ کے دوران یہ پہلا رابطہ تھا۔

امریکہ دو ریاستی حل کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پر امید ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب میں بہتر تعلقات وسیع اقتصادی اور سلامتی کا سبب بنیں گے۔

غزہ میں تین ماہ کی لڑائی کے بعد لاکھوں لوگوں کو بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق محصور پٹی پر تقریباً ہر فرد بھوک کا شکار ہے جب کہ صحت کی سہولیات کی شدید کمی ہے۔