پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں
- تحریر علی اصغر عباس
- اتوار 21 / جنوری / 2024
ایٹمی دھماکوں کے بعد عالمی استعمار نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں جس کے نتیجے میں وطنِ عزیز کے معاشی بحران میں آنے کا خدشہ تھا کیونکہ باہر کہیں سے بھی ہمیں کوئی مالی امداد نہیں مل رہی تھی۔ دوست ممالک عالمی طاقتوں کے حاشیہ بردار ہونے کی وجہ سے اس مشکل گھڑی میں کھلے بندوں تعاون سے گریزاں تھے۔
کچھ حوصلہ مند مسلمان حکمران مختلف ذرائع سے ہاتھ تھام کر سنبھل سنبھل کر چل رہے تھے کہ اتنے میں نائن الیون نے پوری دنیا کے معاملات میں ایسی اتھل پتھل کردی کہ پاکستان پر پابندیاں لگانے والے کو خود ہی گھٹنوں پر آنا پڑا۔ عالمی ایجنڈے کے تحت افغانستان پر فوری حملہ کرنے کی احمقانہ کوشش نے خطے میں پاکستان کی کلیدی اہمیت اجاگر کر دی اور نیٹو فورسز کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے لیے بھارت کے انکار کے بعد پاکستان کی طرف آنا پڑا۔ مگر امریکہ کا سرِ پُرغرور اس امتحان میں بھی خم نہیں ہوا بلکہ اس کے وزیر دفاع نے پاکستان کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ فوری فیصلہ کرکے بتاؤ کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ ہو کہ نہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان پر جنرل پرویز مشرف جیسے آمر کی حکومت تھی جس نے امریکی وزیر دفاع جنرل کولن پاول کی ایک ٹیلی فون کال پر ہی یس کرنے میں پل بھر کی دیر نہ کی۔ اور امریکی امیدوں سے بڑھ کر انہیں وہ کچھ دے دیا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اس وقت دبئی میں تھیں۔ ہمارے دوست رائے احسان ناز جو آج کل ننکانہ سے پاکستان پیپلز پا رٹی کے صوبائی حلقہ کے امیدوار ہیں، تب دبئی میں بی بی شہید کے انتہائی قریبی ساتھی تھے۔ ان کے مطابق جب مشرف نے بلا تامل کولن پاول کے سامنے بھیگی بلی بن کر اس کے قدموں میں لوٹنا شروع کیا تو بی بی شہید نے سٹپٹاتے ہوئے کہا کہ کاش اس وقت پاکستان میں کوئی سیاسی حکومت ہوتی۔ بے شک ان کے بدترین مخالفین کی بھی ہوتی تو آج پاکستان اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ لیکن افسوس کہ ایک نام نہاد کمانڈو کوتاہ اندیش نے اپنے اقتدار کے لیے پاکستان کے ہاتھ آیا سنہری موقع گنوا دیا۔
باقی سب تاریخ ہے اور افسوس کہ ہمارے نالائق حکمران طبقے کی وجہ سے وطن عزیز کی تاریخ ناکامیوں اور کرپشن سے بھری پڑی ہے جس کے سبب ہم جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہوتے ہوئے بھی ہر لحاظ سے کمزور ملک ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لوگوں میں سے اکثر کے سینے پر ’برائے فروخت‘ کا ٹیگ آویزاں ہے اور ہمارے دشمن اس پیشکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے میں جُتے رہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کاری سے نت نئے تنازعات کھڑے کرنے کے لئے موقع پرستوں کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی صورتحال ابتری کا شکار کرکے غیر یقینی کیفیت پیدا کرکے معاشی بحرانوں کو جنم دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
ایٹمی دھماکوں کے بعد اعدائے وطن نے کھوج لگایا کہ اتنی پابندیاں لگنے کے بعد بھی یہ ملک کیسے پورے قد سے کھڑا ہے تو پتہ چلا کہ پاکستان کی زرعی معیشت نے اسے سنبھالا دے رکھا ہے، جس پر انہوں نے ہماری زراعت تباہ کرنے کی سازش کی۔ اور ہمارے جن کھیتوں میں ہری بھری فصلیں اُگتی تھیں ان میں عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا لوگوں نے کنکریٹ کی عمارتوں کے عفریت کھڑے کردیے جنہوں نے ایک زرعی ملک کے کسان کو روٹی، کپڑا اور مکان کے لئے ترسا دیا۔ کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ پاکستان میں آٹا 150 روپے کلو اور تنوری سادہ روٹی پچیس روپے کی ہوگی؟ مگر آج یہ سب ہو رہا ہے کیونکہ ہماری معاشی شہ رگ میں دشمنوں کے ناخن کھبے ہوئے ہیں کوئی ایسا کام نہیں جس سے ہمارے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔
تازہ غزل پڑھ لیں:
صوت و آہنگ سے ڈراتا ہے
دوست, دشمن ہمیں بناتا ہے
فاصلاتی نظام کا جادو
دوری و قُرب کو ملاتا ہے
لوگ دیوار نہ کہیں پڑھ لیں
کوئی لکھا ہوا مٹاتا ہے
کون طوفان کی خبر لایا
آبِ گم میں اُچھال آتا ہے
میں کہ پانی پہ چل کے آیا ہوں
خونی قالین وہ بچھاتا ہے
اس کا بن باس کا ارادہ بھی
آگ جنگل میں جا لگاتا ہے
بولتا کوئی بھی نہیں لیکن
شور مچتا ہے مچ, مچاتا ہے
اُس کی آواز پہ سمندر بھی
مچھلیاں ساحلوں پہ لاتا ہے
کوئی گھر بار بھی تباہ کر دے
کوئی بستی نئی بساتا ہے
دلکش و نیم باز آنکھوں سے
دیکھ کر کون مسکراتا ہے
بیدِ مجنون دل علی اصغر
سانس لیتے بھی کپکپاتا ہے