ایرانی وزیر خارجہ 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کریں گے
پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ نئی پیش رفت کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر دفتر خارجہ کی جانب سے تصدیق بھی کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیاہے کہ نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کی دعوت پر ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللھیان 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔
پاکستان اور ایران کے سفیر 26 جنوری سے اپنی ذمے داریاں دوبارہ سنبھالیں پاکستان اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے تعلقات اچانک کشیدہ صورت اختیار کر گئے تھے جس نے نہ صرف خطے بلکہ اس سے باہر کے ممالک کی توجہ بھی حاصل کی تھی۔ ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان نے اگلے روز ہی اس کا بھرپور جواب دیا تھا۔
ایران کے حملے کے نتیجے میں 2 بچے جاں بحق اور 3 بچیاں زخمی ہوگئیں تھیں۔ دفتر خارجہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔
18 جنوری کی علی الصبح پاکستان نے ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے تھے۔
کشیدگی کے دوران چین نے ثالثی کی پیشکش جب کہ امریکا نے پاکستان، عراق اور شام میں ایران کے حملوں پر اظہار مذمت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ایران نے 3 ہمسایہ ممالک کی خودمختار سرحدوں کی خلاف ورزی کی۔ اس کے علاوہ افغانستان اور روس نے بھی دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان گزشتہ دنوں جاری رہنے والی کشیدگی کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارت تعلقات بحال کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے سفیر 26 جنوری سے اپنے عہدوں پر واپس آجائیں گے۔ پاکستانی سفیر تہران میں اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے جب کہ ایران کے پاکستان میں سفیر بھی 26 جنوری کو واپس آ جائیں گے۔