ڈونلڈ لو سے ہونے والی گفتگو میں خطرہ یا سازش جیسے الفاظ کا حوالہ نہیں تھا: اسد مجید

  • بدھ 24 / جنوری / 2024

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے روبرو سائفر کے مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کرودیا ہے اور انہوں نے اس سائفر میں سازش ککا حوالہ دینے کی تردید کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سات مارچ 2022 میں امریکی اسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشا ڈونلڈ لو سے ہونے والی ملاقات اور اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو جب انہوں نے اسلام آباد بطور خفیہ سائفر ٹیلی گرام رپورٹ کیا تو اُس میں ’خطرہ‘ یا ’سازش‘ کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔ منگل کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر مقدمے کی سماعت کے دوران اسد مجید سمیت چھ گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے ہیں جس کے بعد اس کیس میں بیان ریکارڈ کروانے والے استغاثہ کے گواہان کی مجموعی تعداد 25 ہو گئی ہے۔

بی بی سی نے آج اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کا احوال صحافی رضوان قاضی کی زبانی جانا ہے اور اس کی تصدیق اس موقع پر عدالت میں موجود جیل حکام سے بھی کی ہے۔ اسد مجید نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ سائفر کے حوالے سے پاکستان میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں انہیں بھی طلب کیا گیا تھا اور اس اجلاس میں امریکہ کو ڈی مارش جاری کرنے کا فیصلہ ہوا۔

اسد مجید نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سائفر کے معاملے پر جو کچھ ہوا وہ پاکستان امریکہ تعلقات کے لیے دھچکا تھا۔ جیل حکام کے مطابق اسد مجید نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جنوری 2019 سے مارچ 2022 تک وہ امریکہ میں پاکستان کا سفیر تھے اور سات مارچ 2022 کو امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی اُمور مسٹر ڈونلڈ لو کو ورکنگ لنچ پر مدعو کیا تھا اور یہ ایک پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی جس کی میزبانی واشنگٹن میں پاکستان ہاؤس میں کی گئی تھی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات میں ہونے والی کمیونیکیشن کا سائفر ٹیلی گرام سیکریٹری خارجہ کو بھجوایا گیا اور پاکستان ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور ڈیفنس اتاشی بھی موجود تھے۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کا کہنا تھا کہ ملاقات میں دونوں سائیڈز کو معلوم تھا کہ میٹنگ کے منٹس لیے جا رہے ہیں۔ سائفر کیس میں اسدمجید، فیصل ترمذی اور اکبر درانی سمیت استغاثہ کے چھ گواہوں نے منگل کے روز بیان قلمبند کروائے ہیں۔ یوں اب تک مجموعی طور پر 25 گواہوں کے بیان قلم بند کیے جا چکے ہیں۔

اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان اور شریک ملزم شاہ محمود قریشی کے وکلا کل سے گواہوں پر جرح کا آغاز کریں گے۔ صحافی قاضی رضوان کے مطابق منگل کے روز جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئےاور اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی گارنٹی کے باوجود میرے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔‘ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کاغذات نامزدگی کی تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے اُن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں۔ صحافی رضوان قاضی کے مطابق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کا کہا تھا تو جج صاحب نے کہا تھا کہ میرا حکم نامہ ساتھ لگا دو۔

جج صاحب کے حکم نامے کے باوجود اُن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے۔ اس پر مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شاہ صاحب ہم نے قانونی طریقہ کار پورا کر دیا تھا۔‘ جیل کے اہلکار کے مطابق اس موقع پر پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے بولنے پر شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور کہا کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہے ہیں اور یہ بیچ میں کیوں بول رہے ہیں؟ بعدازں عدالت نے یہ معاملہ رفع دفع کروا دیا۔

سائفر مقدمے کی سماعت کے بعد عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ لو نے جو بات کی اس پر پاکستانی سفیر اسد مجید نے آفیشل میٹنگ میں ڈی مارش کرنے کی سفارش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سفیر کی سفارش پر ڈی مارش کیا گیا اور مگر دوسری جانب کہا جا رہا ہے کہ سازش نہیں ہوئی۔ سائفر میں اگر کوئی انہونی چیز نہیں تھی تو ڈی مارش کیوں کیا گیا اور کیا دنیا میں کوئی امریکہ کو ویسے ہی ڈی مارش کرتا ہے؟

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تین ہفتے کے اندر اندر ان کی منتحب حکومت گرا دی گئی، اس سے بڑی سازش کیا ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سائفر کے بعد ہمارے ممبران ٹوٹنا شروع ہوئے اور راجہ ریاض سمیت بہت سے لوگ امریکی ایمبیسی جا رہے تھے جس پر آئی بی کی رپورٹ بھی موجود تھی۔ اس وقت کے وزیر حارجہ شاہ محمود قریشی کو بائی چانس اس سائفر کا پتہ چلا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سائفر کو دبانے کی پوری کوشش کی گئی کیونکہ اس سے ڈونلڈ لو ایکسپوز ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس روز ڈی مارش کیا گیا سائفر اسی روز پبلک ہو گیا تھا اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں سائفر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کہا گیا۔

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ سائفر معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی گئی جو کسی کی دھمکی پر ختم ہو گئی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج آرمی چیف کی ہدایت کے بغیر کچھ نہیں کرتی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے خلاف انہوں نے کبھی کوئی بیان نہیں دیا ۔  ہمیں پتہ ہے کہ فوج کیسے کام کرتی ہے۔