غزہ میں ایک ماہ کی جنگ بندی کےلیے اسرائیل اور حماس میں مذاکرات

  • بدھ 24 / جنوری / 2024

اسرائیل اور حماس ایک ماہ کی جنگ بندی میں یرغمالوں سمیت اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی پر متفق ہیں۔ لیکن فریقین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے منصوبے کو روکا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے تین ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مستقل جنگ بندی سے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں۔ البتہ وہ یرغمالوں کے بدلے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر اتفاق کرتے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران فریقین کے درمیان ثالثی کے لیے قطر کی سربراہی میں امریکہ اور مصر نے کوشش کی ہے اور اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ حماس کے پاس موجود یرغمالوں کی مرحلہ وار رہائی ممکن بنائی جائے۔ یعنی پہلے مرحلے میں شہریوں اور پھر فوجیوں کو رہا کیا جائے جس کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں مزید امداد پہنچائی جائے۔

'رائٹرز' کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ فریقین کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کا آغاز گزشتہ برس 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا اور ابتدائی طور پر معمولی سا اختلاف جنگ بندی کے دورانیے پر ہوا۔ حماس نے پہلے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی میں کئی ماہ کا وقفہ کیا جائے۔ بعد ازاں حماس نے یہ کہہ کر منصوبے کو مسترد کر دیا کہ جب تک مستقل جنگ بندی پر سمجھوتا نہیں ہو جاتا اس وقت تک آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔

'رائٹرز' کے مطابق یہ بات چھ مختلف ذرائع نے بتائی ہے اور ان میں سے کئی نے حساس معاملہ ہونے کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ بات چیت کے دوران پہلے مرحلے میں اسرائیل نے مذاکرات کرنے کی کوشش کی جب کہ حماس ایک 'بڑا سمجھوتا' چاہتی تھی جس کے تحت مکمل جنگ بندی سے قبل یرغمالوں کو رہا کیا جاتا۔

اسرائیل اور حماس کے نمائندے براہِ راست بات چیت میں شریک نہیں تھے البتہ فریقین ثالثوں کے ذریعے بات چیت کر رہے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے نمائندے بریٹ میکگرک یرغمالوں کی رہائی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفے کے لیے خطے میں موجود تھے۔