اسرائیل کےخلاف مقدمےکا مختصرفیصلہ، عالمی رد عمل

  • ہفتہ 27 / جنوری / 2024

اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے جمعے کے روز اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں اموات، تباہی اور نسل کشی جیسے کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے ہر ممکن کاروائی کرے۔

تاہم عدالتی پینل نےاسرائیل کو جنگ بندی کا حکم دینے سے گریز کیا جو فلسطینیوں کے محصور علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنی ہے۔ فیصلے پر دنیا بھر کے ملکوں اور اداروں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے جن میں سے بیشتر نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ مختصر حکم کے بعد امکان ہے کہ یہ مقدمہ آئندہ کئی برسوں تک عالمی عدالت میں زیر سماعت رہے گا۔

عدالت کے فیصلے پر اسرائیل، فلسطینییوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ملکوں، اداروں اور سربراہان کی جانب سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اپنے ملک اور لوگوں کے دفاع کے لیے جو ضروری جنگ جاری رکھیں گے۔

حماس نے فیصلےکا خیر مقدم کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہےکہ وہ اسرائیل سے عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کا تقاضا کرے۔ فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض مالکی نےکہا کہ آئی سی جے کے ججز نے حقائق اور قانون کا جائزہ لیا اور انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے حق میں فیصلہ دیا۔

امریکہ نے جمعے کو اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ بے بنیاد ہیں۔ بین الاقوامی عدالت انصاف کی جانب سے اسرائیل کو دیے جانے والے اس حکم کے بعد کہ اسرائیل نسل کشی کے کنونشن کے دائرے میں آنے والی تمام کارروائیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہمارا مسلسل یہ خیال ہے کہ نسل کشی کے الزامات بے بنیاد ہیں اور عدالت کو نسل کشی کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے ہیں اور نہ ہی اس نے اپنے فیصلے میں جنگ بندی کے لیے کہا ہے ۔

وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے جب امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی سے یہ سوال کیا کہ کیا صدر کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے کہ اس نے ’نسل کشی‘ کے الزام کو یکسر مسترد نہیں کیا؟ جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ امریکہ کی اسی موقف سے مطابقت رکھتا ہے جس میں وہ بار بار کہتا رہا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں محدود کرنے کے لیے اقدامات ہونے چاہیئیں۔

یورپی یونین نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ اسرائیل اور حماس بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کی پوری طرح سے تعمیل کریں گے۔ یورپی کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات پر عمل کے پابند ہیں اور انہیں ان پر عمل درآمد کرنا چاہئے۔ یورپی کمیشن نے کہا ہے اسے ان احکامات پر فوری اور موثر عمل درآمد کی توقع ہے۔  

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے مطابق انہیں عدالت سے اس فیصلے کی امید تھی کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے اقدامات اور عام شہریوں کے خلاف غیر انسانی حملے روکنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں غزہ میں غیر انسانی حملوں کے حوالے سے انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس کی جانب سے کئے گئے عبوری فیصلے کو قابل قدر پاتا ہوں اور اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف ہنگامی اقدامات نافذ کرنے کی درخواست پر بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔  قطرکی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم پر عارضی اقدامات کا خیرمقدم کیا اور ایک بیان میں انہیں انسانیت اور بین الاقوامی انصاف کی فتح قرار دیا۔

مصر کی وزارت خارجہ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مصر اس کا منتظر تھا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف غزہ میں ایک فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے گی جیسا کہ عدالت نے ایسے کیسز میں فیصلہ دیا تھا۔ بیان میں عدالت کے فیصلوں کے احترام اور ان کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

جرمنی  کی وزیر خارجہ انالینا بئیر بوک نےکہا کہ اسرائیل کو آئی سی جے کے جمعے کے فیصلے کی تعمیل کرنی چاہئے تاہم حماس کو بھی اپنے پاس موجود باقی یرغمالوں کو رہا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے سب سے اہم مسئلے پر فیصلہ نہیں دیا ہے لیکن عبوری لیگل پروٹیکشن پروسیڈنگ کے عارضی اقدامات کا حکم دیا ہے ۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان کی بھی پابندی لازمی ہے۔ اسرائیل کو اس کی تعمیل کرنی چاہیے۔

جنوبی افریقہ کے صدر سیریل رامافوسا نے کہا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے میں غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے مبینہ جرائم عیاں کیے گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ نے ہی نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا کیس اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت میں پیش کیا تھا۔

رامافوسا نے فیصلے کے چند گھنٹے بعد ایک لائیو ٹی وی خطاب میں اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ سات اکتوبر کو حماس عسکریت پسندوں کے حملے کے ردعمل میں غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ایک  اجتماعی سزا کی کارروائی کر رہا ہے۔