مسلم لیگ (ن) نے انتخابی منشور پیش کردیا

  • ہفتہ 27 / جنوری / 2024

مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات 2024 کے لیے اپنا انتخابی منشور ’پاکستان کو نواز دو‘ کے نعرے کے ساتھ پیش کردیا ہے۔ لاہور میں انتخابی منشور کے اجرا کی تقریب میں سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مسلم لیگ (ن)  کے انتخابی منشور میں سب سے پہلے پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے، نیب کو ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 62، 63 کی اصلی حالت میں بحالی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پنچایت سسٹم تنازعات کے تصفیے کے لیے متبادل نظام، چھوٹے کسانوں کو سود سے پاک قرضوں کی فراہمی، فصل کے نقصان کی کمی پوری کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اورزراعت کی جدت، کسان کی خوشحالی کو مشنور میں شامل کیا گیاہے۔

منشور پر مؤثر عمل یقینی بنانے کے لیے خصوصی کونسل، عملدرآمد کونسل قائم کی جائے گی۔  حکومتی کارکردگی کی سہ ماہی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ آئینی، قانونی، عدالتی اور انتظامی اصلاحات کی منصوبہ بندی، گورننس سسٹم میں اصلاحات، مالی سال 2025 تک مہنگائی میں 10 فیصد کمی، چار سال میں مہنگائی 4 سے 6 فیصد تک لانے کا ہدف، ایک کروڑ سے زائد نوکریوں کی فراہمی، غربت اور بیروزگاری میں کمی، تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ، سستی اور زیادہ بجلی کی فراہمی، بلوں میں کمی، ہر صوبے میں کینسر ہسپتال کا قیام، یونیورسل ہیلتھ کوریج اور انشورنس، کم آمدن والے افراد کے لیے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

سرحد پار امن کا پیغام دینے اور معاشی ترقی، امن، باہمی احترام کی بنیاد پر بھارت سے تعلقات استوار کرنے کا ہدف منشور کا حصہ ہے۔ پارٹی نے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہر انتقامی کارروائی کے بعد بھی ہم سب ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔ آج ہر انتقامی کارروائی کے بعد ہم سب ایک جگہ موجود ہیں۔ جیلوں میں رہنے کے بعد بھی آج یہاں موجود ہیں۔ انتخابی منشورپیش کررہےہیں، آج میں کوئی گلہ شکوہ نہیں کرنا چاہتا۔ کوئی گلے شکوے نہیں کروں گا لیکن بتائیں تو غلطی کہاں ہوئی؟

منشور پیش کرنے کے دوران نواز شریف آبدیدہ ہوگئے۔ مریم نواز کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔ نوازشریف نے کہا کہ 2008 سے 2013 تک پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، پیپلزپارٹی کی حکومت کے ساتھ بہت مسائل تھے۔ ماضی کی زیادتیوں کو فراموش کرکے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے آیا ہوں، انتخابات لڑنے کی بھرپور تیاری کررہے ہیں۔ ہماری توجہ انتقام نہیں ملکی ترقی کی سیاست پر مرکوز ہے۔

میثاق جمہوریت پر ہم سب نے دستخط کیے تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ میثاق جمہوریت کی بہت خلاف ورزیاں ہوئیں لیکن برداشت کیا۔ ہمارے خلاف ہر قسم کی انتقامی کارروائی کی گئی، کچھ لوگوں کا منشور ہی دھرنا اور احتجاج کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں آئے تو منشور پر عمل کریں گے، اپوزیشن میں آئے تو وہ کام نہیں کریں گے جو انہوں نے کیا۔