’مہنگائی مکاؤ، عوام بچاؤ‘ انتخابی نعرہ
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 27 / جنوری / 2024
8 فروری 2024 کے انتخابات جس طرح قریب آ رہے ہیں، اسی طرح انتخابی سرگرمیوں میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔ التوا کے حوالے سے جو شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے تھے، وہ اب تقریباً ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔
البتہ انتخابی شفافیت پر جو سوالات اٹھائے جا رہے تھے، ان کے جوابات پر شاید ابھی تک پوری تسلی نہیں پائی جا رہی۔ بالخصوص پی ٹی آئی کا بلا چھن جانے کے بعد وہ حالت یتیمی میں ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں انتخابی منشور یا بیانیہ پر بھی شاید اتنی توجہ نہیں دی جا رہی جتنی دی جانی چاہیے۔ اصل عوامی منشور تو وہی ہوتا ہے جو عوامی مسائل دکھوں یا امنگوں کی ترجمانی کرتا ہو۔ اس میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس وقت عوام کی پرابلم نمبر ون کیا ہے؟ کوئی شک نہیں کہ اس وقت پورے پاکستان کا اولین مسئلہ معاشی ہے۔ لوگ مہنگائی،غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں۔ خواہ وہ پنجاب ہے یا سندھ،، بلوچستان ہے یا کے پی ، کہیں آپ کو کشمیر کا مسئلہ نظر آئے گا نہ فلسطین کا۔ افغانستان کی دہشت گردی دکھائی دے گی، نہ ایران یا بھارت دشمنی کے جذبات۔ لوگ عوامی نمائندوں سے ایک ہی مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ مہنگائی ہماری قوت برداشت سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے، روپے کی کوئی ویلیو نہیں رہی، بجلی کے بل بہت زیادہ آتے ہیں۔
ان پڑھ تو رہے ایک طرف جو بچے پڑھ لکھ گئے ہیں، ان کے لیے بھی کوئی مناسب روزگار نہیں ہے۔ اس طرح لوگوں کو اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بھی سخت شکایات ہیں۔ کہیں راستے اور سڑکیں نہیں، کہیں سیوریج کا مناسب بندوبست نہیں، کہیں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، کہیں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، کہیں سکول نہیں، کہیں ڈسپنسری نہیں۔ اس پر لا قانونیت مستزاد ہے لوگوں کے جان و مال کا کوئی تحفظ نہیں۔ بالخصوص ہمارے دیہی علاقوں میں چوری ڈکیتی کی وارداتوں پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جس طرح 2018 کے انتخابات میں ایک اناڑی نے لمبی لمبی چھوڑتے ہوئے لوگوں کو خیالی جنت کے سبز باغات دکھلائے تھے، یہ کہ ایک کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ گھر تعمیر کر کے غریبوں کو دیں گے۔ وہ سب کے سب سراب اور دھوکہ ثابت ہوئے۔ حد تو یہ ہے کہ گرین پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے جو اربوں کے کاغذی درخت لگائے تھے، ایک فلڈ کے بعد ان کا بھی کہیں نام و نشان دکھائی نہ دیا۔
اسی پیٹرن پر آج پھر ایک پپو بچہ جمہورا لمبی لمبی چھوڑنے کے لیے کوشاں ہے، کبھی کہتا ہے عوام کے لیے بجلی کے 300 یونٹ فری کر دوں گا، کبھی ہانکتا ہے کہ میں بھی اتنے گھر اور اتنی نوکریاں دوں گا بلکہ پہلے سے موجود سرکاری نوکروں کی تنخواہیں ڈبل کر دوں گا۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ ہماری قومی معیشت اس وقت کس قدر دگرگوں حالت میں آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دبی ہوئی سسکیاں لے رہی ہے۔ لہذا لیڈران کو اس حوالے سے بات کرنی چاہیے کہ ہم ایسے کون سے اقدامات کریں گے جن سے سسکیاں لیتی تباہ حال ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو سکے۔ اسی سے ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات اور دہشت گردی جیسے ایشوز بھی زیر اثر آجائیں گے۔ امن عامہ کے ساتھ لبرل اور ٹالرنٹ سوسائٹی کے تقاضے بھی سامنے آئیں گے جہاں بیرونی انویسٹمنٹ کے لیے سازگار ماحول بن سکے، جہاں انڈسٹری کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق میں تعلیمی ادارے تشکیل پا سکیں ہسپتال بن سکیں۔ نعرے بازی اور جنونیت پر مبنی کلچر کا خاتمہ ہو سکے، ہماری صنعت کے ساتھ ساتھ ہماری زراعت بھی پھل پھول سکے۔ زمینداروں کے ساتھ ہمارے کسانوں کے حالات بہتر ہو سکیں۔
اسی طرح ہمارا ایک بڑا قومی مسئلہ ہے کہ یہاں ائین اور قانون کی حکمرانی ہو۔ اسی سے نہ صرف یہ کہ سماجی سطح پر لا قانونیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے بلکہ ملکی قومی سطح پر سیاسی استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ تمام ادارے اور محکمے اپنی اپنی معینہ آئینی حدود میں رہ کر خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔ ہماری موجودہ انتخابی مہم میں ایک طرف جہاں یہ مثبت پہلو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ انڈیا دشمنی کے نعروں کا کلی خاتمہ ہو چکا ہے بلکہ تمام ہمسایوں سے اچھے تعلقات قائم کرنے کا بیانیہ غیر متنازع ہے۔ وہیں مذہبی وجنونی نعروں میں بھی ٹھہراؤ آگیا ہے۔ ایک وقت تھا جب انتخابی مہم میں مذہب کے بے دریغ سیاسی استعمال کا پروپگینڈا چھایا ہوتا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ خالصتاً مذہبی پارٹیاں بھی عوامی مسائل کو ہی ووٹ لینے کے لیے فوکس کیے ہوئے ہیں۔ البتہ ذاتیات پر حملے اب بھی ہو رہے ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت یہ اصول طے ہونا چاہیے کہ ایک دوسرے کے خلاف منافرت بھری تقاریر کی بجائے ہر کوئی قومی تعمیر و ترقی کا اپنا ویژن یا پروگرام پیش کرے۔ اس وقت اس حوالے سے سب سے بڑھ کر بے چینی سندھ کی پارٹی کے ایسے شخص میں ہے جو شاید ان دنوں خود کو جناح فورتھ کے روپ میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ اپنی نا تجربہ کاری و اناڑی پن کو ہی یہ کہتے ہوئے اپنا بڑا کریڈٹ خیال کر رہا ہے کہ میں حقیقی نوجوان ہوں، لہذا تمام نوجوان میرے کیمپ میں آ جائیں۔
وہ اپنی مخصوص تعلیم و تربیت میں باتیں جیسی مرضی کرے مگر سیاسی و تہذیبی آداب ملحوظ خاطر رہنے چاہیں۔ جمہوریت میں اپنا سیاسی جثہ دیکھ کر بات کرنی مناسب ہوتی ہے۔ ہمارے لوگ اتنے بھی بیو قوف یا احمق نہیں رہے کہ یہاں پنجاب میں کھڑے ہو کر کوئی یہ کہہ رہا ہو کہ میں لاہور کو کراچی بنا دوں گا۔ حالانکہ پچھلے طویل برسوں میں کراچی کا جو حشر کیا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ یوں اس پر سوالات تو اٹھیں گے۔ مخالفین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ سندھ میں 15 سال حکومت کرنے والی پارٹی اپنے 15 منصوبے نہیں بتا سکتی، ان کے اپنے کرموں کی وجہ سے پنجاب میں ان کی جو حیثیت رہ گئی ہے، وہ سب پر واضح ہے۔ ن لیگ کی انتخابی مہم اگرچہ آئیڈیل قرار نہیں دی جا سکتی مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین پر یوں نام لے کر اس نوع کی تنقید کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ تنقید کرتے ہوئے اپنے کسی بھی سیاسی مخالف کا نام نہ لیں۔
میڈیا کے اس دور میں عوام اشاروں کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔ جماعت اسلامی کو نہ جانے کس سیانے نے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ کسی سے انتخابی الائنس کیے بغیر بھی کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کر سکتی ہے، بلکہ اسمبلی میں اس کی جو حیثیت تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے اس وقت ہماری تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں علاقائی پارٹیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ کن صوبوں اور حلقوں میں کس کی کیا پوزیشن ہوگی اور ہمارا اگلا سیاسی سیٹ اپ کیا بنتا دکھتا ہے، نیز پی ٹی آئی کے آزاد ارکان کا سیاسی فائدہ کون اٹھائے گا اس کا جائزہ اگلے کالم میں۔