جنرل چنتخابات اور قومی سوچ!

گو کہ پاکستان میں انتخابات کی جگہ چنتخابات ہی ہوتے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی خاندانی کمپنیاں ہیں۔ لیکن پھر بھی کم از کم کسی منشور یا کسی منصوبہ بندی کا اظہار تو ہونا چاہیے نا!

کسی اصول کے تحت ہی سیاست ہوتی ہے اور کوئی تو منشور ہوتا ہے جس کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ کیا پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت نے کسی بھی حوالے سے کسی جامع پالیسی کا اعلان کیا ہے؟ کسی بھی لیڈر نے پاکستان کی ڈوبتی معیشت کی بہتری کا کوئی پروگرام پیش کیا ہے؟ کیا کسی نے ملک کو عدم استحکام سے نکالنے کی کوئی تجویز سامنے رکھی ہے؟ کیا کسی کے پاس لنگڑی لولی جمہوریت کی ٹانگوں پر کوئی پٹی پلستر کی بات کی ہے؟

اس وقت پاکستان کی معاشی پالیسی یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ شرح سود پاکستان میں ہے۔ جس کی وجہ سے ریاست پاکستان کو اپنے قرضوں پر 5 کھرب کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے مرکزی بینکوں نے جو شرح سود مقرر کر رکھی ہے وہ 6 سے 7 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ چین میں 5۔3 کے لگ بھگ رہتی ہے۔ یورپ کے زیادہ تر ممالک میں بھی 3 کے لگ بھگ ہے۔ ہمارے مرکزی بینک کی پالیسیاں کون بناتا ہے جو اپنے ہی ملک کے خلاف ہیں؟ جتنا ہمارے دفاع اور دوسرے سرکاری اخراجات پر خرچ ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ ہم سود پر خرچ کر رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں تقریباً اڑھائی کروڑ سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم ہیں اور 7 کروڑ سے زائد لوگ علاج کی استطاعت سے محروم ہیں۔ پاکستان کی آبادی بڑھانے کی شرح بھی دنیا میں سب سے اوپر والے چند ممالک میں آتی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور سرکاری ہسپتالوں کی جو حالت زار ہے اس پر میں کیا لکھوں، ہر بندہ جانتا ہے۔ ہمارا ملک مختلف گروہوں میں تقسیم ہے۔ کہیں علاقائی تعصب کی وبا پھیلائی گئی ہے تو کہیں مذہبی منافرت کا ناسور پھیلا ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بیچ نفرت اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ ملک میں بیروزگاری، بے یقینی اور افراتفری کے ماحول کو دیکھتے ہوئے ہمارے نوجوان ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار نوجوانوں کا ہوتا ہے۔

پڑھے لکھے نوجوان نئے نئے آئیڈیاز کے ساتھ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے تازہ اور توانا خون میں جوش و جذبہ اور کام کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔ وہ زندگی میں آگے بڑھنے کی خواہش لیے محنت کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے پالے پوسے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اغیار کے حوالے کر کے ان کی ترقی میں مدد دے رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم کماؤ پتروں کو دوسرے ممالک کے حوالے کر کے اپنا ملک کھانے والوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں ایک بچے کی پیدائش سے کام کرنے کی عمر تک پہنچنے پر 5 لاکھ ڈالر سے زیادہ ریاست خرچ کرتی ہے، پھر جا کر وہ کما کر کچھ ملک کو دیتا ہے۔ جبکہ ہم اپنے بچوں کو کمانے کے قابل بنا کر ان ممالک کے حوالے کر دیتے ہیں جہاں وہ جاتے ہی کما کر اس ملک کو ٹیکس دینا شروع کر دیتے ہیں۔

ملکوں کی ترقی ہمیشہ توازن کے ساتھ ہوتی ہے۔ یعنی ہماری پیدوار کتنی ہے اور ہمارے اخراجات کیا ہیں۔ یا ہماری ضروریات کتنی ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں کسی بھی شعبے کی کوئی پالیسی ہے نہ کوئی توازن ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ہم زرعی اجناس کے لیے دوسرے ممالک کے مرہون منت ہیں اور قیمتی زرمبادلہ کا ضیاع الگ ہے۔ پاکستان کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے نہ خام مال کی، پھر بھی ہماری صنعت زوال پذیر کیوں ہے؟ ہمارا عدالتی نظام اس قدر بوسیدہ ہے کہ عام آدمی انصاف کے لیے دہائیوں دوڑ لگاتا ہے اور لاکھوں خرچ کرتا ہے لیکن انصاف سے پھر بھی مرحوم رہتا ہے۔ لوگوں کا اپنے عدالتی نظام پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔

اسی طرح دوسرے تمام ریاستی ادارے انحطاط کا شکار ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا راہنما نے ان تمام مسائل کے حل کا کوئی پروگرام دیا ہو یا کسی ایک شعبے کی پالیسی کا ذکر کیا ہو۔ بس وہی پرانی گھسی پٹی سیاست، کہ ملک کو فلاں نے ڈبویا، ملکی معیشت فلاں نے تباہ کی اور فلاں مجھ سے زیادہ بدعنوانی میں ملوث رہا ہے۔ یا پھر عوام کو مفت بجلی یا خیرات دینے کے مژدے سنائے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ یہ سب کچھ آئے گا کہاں سے اور کیسے؟ دوسری طرف تمام سیاستدانوں کی دوڑ راولپنڈی کی طرف ہے۔ سب کا ایک ہی ایمان کہ اقتدار کی بھیک وہی سے ملنی ہے۔ یا پھر بین الاقوامی قوتوں اور مالی اداروں کو خوش کیسے کرنا ہے۔ کیونکہ ہمارے سیاستدانوں کی سوچ ڈنگ لگانے کی ہوتی ہے۔ جتنے ماہ کے لیے بھی اقتدار مل جائے کچھ مال بنا ہی لیں گے اور پھر بیرون ملک موج کریں گے۔

اب عوام بھی وقتی اور ذاتی مفادات کے اسیر ہو چکے ہیں۔ وہ بھی کسی کا منشور دیکھتے ہیں نہ نظریہ پرکھتے ہیں۔ بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ قبولیت کس کے پاس ہے اور ہمیں بریانی کی پلیٹ کدھر سے ملے گی۔ کیا اس طرح ملک چل سکے گا؟ کب تک آپ غیر ملکی بیساکھیوں کے سہارے سفر کرو گے؟ پچیس کروڑ کی آبادی کے ایٹمی ملک کے باشندو کچھ تو شرم کرو، آپ

 لولے لنگڑے ہو، نہ اندھے ہو تو پھر کیوں نہیں سوچتے کہ ہم جو کھاتے ہیں اس کی پیدوار کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے؟ تم کب تک اغیار کے مسلط کردہ لٹیروں کے ہاتھوں لٹتے رہو گے؟ اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ووٹ ڈالنے سے انکار تو کر سکتے ہو نا۔ اس طرح سارا بوجھ تو چننے والوں کے کاندھوں پر تو جائے گا نا!