انتخابی وعدے: تقریر کی لذت بجا مگر۔۔۔
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 28 / جنوری / 2024
انتخابات ہونے والے ہیں تاہم انتخابی نتائج کے بارے میں ہمیں کوئی خاص فکر نہیں ہے۔ وجہ بہت سادہ ہے جب بھی فکر مند ہوئے نتائج مختلف نکلے، سو فکر کرنا چھوڑ دیا:
رات دن گردش میں ہیں آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
ایک تو سیاست دان اس موسم میں اتنا ’سچ‘ بولتے ہیں کہ خوب رونق لگی رہتی ہے۔ انتخابی مہم میں دلچسپی کی دوسری وجہ انتخابی وعدے وعید ہیں۔ ہمارے ہاں پچھلے 35/ 40 سالوں سے سیاست دانوں کی کم و بیش ایک ہی کھیپ سیاست میں غالب ہے۔ ان میں سے بڑی جماعتوں کو کئی بار حکومت میں کا موقع ملا ۔ انہیں حکمرانی اور عوام کی خدمت کے ارمان نکالنے کا موقع ملا لیکن انتخابی مہم کے دوران ان کی تقریروں سے محسوس ہوتا ہے، گور پیا کوئی ہور کے مصداق وہ کوئی اور تھا جس نے قوم پر مصائب اتارے ۔ اس لئے اب ’وہ‘ وعدوں کی ایک نئی بہار کے نقیب بنے ان سب مصائب کو تہس نہس کرنے نکلے ہیں۔ ایسے وعدوں کی جو بہار سننے اور دیکھنے میں آتی ہے اس کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ ان وعدوں پر کچھ لمحوں کے لیے اگر یقین کر لیا جائے تو سمجھئے کہ فیض کے ہاں بھٹکتی ہوئی سحر کو جائے قرار ملا کہ ملا :
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمیں موقع دیں پاکستان میں 30 لاکھ گھر بنا کر خواتین کو مالکانہ حقوق اور نوجوانوں کو روزگار کے لیے سہولتیں دیں گے ۔ یوتھ کارڈ لے کر آئیں گے۔ چھ ماہ میں مفت علاج کا ہسپتال بنا کر دکھاؤں گا۔ حکومت ملی تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کریں گے۔ مستحق لوگوں کو 300 یونٹ تک بجلی مفت دلواؤں گا۔
ن لیگ کے نواز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کو تکلیف میں دیکھ کر مجھے جتنی تکلیف ہوتی ہے میں بیان ہی نہیں کر سکتا۔ ہم اس نظام کو بدلیں گے، میرے دل کو سکون تب ملے گا جب آپ کو نوکریاں ملیں گی، آپ کے گھروں میں روشنی کے چراغ جلیں گے۔ لوگ بجلی گیس کے بلوں سے پریشان ہیں، مہنگائی سے پریشان ہے، پاکستان کا یہ حشر نواز شریف کے جانے کے بعد ہوا۔ ہم اس نظام کو بدلیں گے۔ ہم وہ کام کر کے جائیں گے جو تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔ نواز شریف جو وعدہ کرتا ہے وہ پورا کرتا ہے۔ میں وہ نہیں جس نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا یہ ہمارا شیوہ نہیں۔
پی ٹی ائی کو معمول کی انتخابی مہم چلانے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔ اسے اپنی شناخت کے لیےصبح و شام جگہ جگہ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ بلا نشان واپس لیے جانے کے بعد جماعتی طور پر الیکشن لڑنا اس کے لیے ناممکن ہوا۔ انتظامی ماحول پہلے ہی اس کے لیے مشکلات سے اٹا ہوا ہے۔ اس عالم میں کہاں کا منشور اور کیسے وعدے۔۔۔
انتخابی وعدے سننا دل کو بھلا لگتا ہے لیکن کیا کیجئے کہ پاسبان عقل مزہ کرکرا کیے دیتا ہے۔ سوال اٹھتے ہیں کہ اپنے اپنے وقت میں بڑی جماعتوں کو بھرپور مواقع ملے، وعدے پورے کرنے کا بھرپور وقت بھی ملا، اس وقت ایسی کون سی مجبوریاں حرز جاں بنیں کہ ان وعدوں کا عشر عشیر بھی پورا نہ ہو سکا۔ آج ان وعدوں پر یقین کر بھی لیا جائے تو اخر کیسے معلوم ہو کہ ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے راتوں رات ان جماعتوں کے پاس ایسا کون سا نسخہ کیمیا ہاتھ آ گیا جو پہلے موجود نہ تھا۔
بقول فیض پہلی محبت کی باتیں اپنی جگہ لیکن لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے۔۔۔۔ ملک کی موجودہ معاشی اور سماجی صورت حال اس قدر پیچیدہ اور مخدوش ہے کہ لوگ نا امید ہو رہے ہیں۔ دور کیا جانا بجلی اور گیس ہر گھر کی شب و روز کی ضرورت ہے لیکن بجلی اور گیس کے سیکٹر میں پچھلے 30/ 35 سال کے دوران جو بد انتظامیاں اور بد عنوانیاں ہوئیں ان کے فوائد سمیٹنے والے اپنی اپنی تجوریاں بھر کر یہ جا وہ جا لیکن آج ملکی معیشت کو 5.7 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیٹ کا سامنا ہے ، جس میں بجلی کا سرکلر ڈیٹ 2.7 ٹریلین روپے اور گیس کا تین ٹریلین روپے ہے۔ سرکلر ڈیٹ کے اس پہاڑ کا تناسب جی ڈی پی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ جی ڈی پی کا 5.4 فیصد ہے۔ بار بار قیمتیں بڑھانے کے باوجود یہ سرکلر ڈیٹ تو قابو میں نہیں آیا لیکن عوام قابو میں ہوتے ہوتے اب اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ ان کی برداشت بے قابو ہونے کو ہے۔
ملکی معیشت اور سیاست کا دوسرا اہم ترین مسئلہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا ہے ۔ پچھلے 25 سال کے دوران بیرونی قرضوں کا بوجھ شیطان کی آنت کی طرح بڑھا ہے۔ حکومتیں اپنے وسائل میں اضافہ کرنے سے گریزاں رہیں جبکہ اخراجات میں شاہانہ انداز کی خوگر پر عمل پیرا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹیکس جی ڈی پی تناسب 10 فیصد سے نہیں بڑھ پایا جس کے نتیجے میں بجٹ خسارے نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ عالمی تجارت میں برآمدات مسلسل جمود کا شکار رہیں۔ جبکہ درامدات میں مسلسل اضافہ رہا۔ اس متضاد معاشی جلن کے سبب تجارتی خسارہ اور مالیاتی جاری خسارہ دھیرے دھیرے اب اس مقام پر ہے کہ قرضوں کا پہاڑ 128 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اصل واپس کرنے کی مجبوری اور سود کی ادائیگی کے بعد خزانے میں کچھ بچتا ہی نہیں ۔ سو پچھلی دو دہائیوں سے تمام حکومتوں کا ایک ہی چلن ہے، پچھلا اتاریں اور نیا قرض سر پہ چڑھا لیں۔ اسی سبب پاکستان کے بجٹ کا سب سے بڑا خرچہ قرضوں کی اور سود کی ادائیگی ہے ۔ سیاست دانوں کے ان وعدوں میں کہیں یہ نکثہ نہیں ہے کہ جو ہوا سو ہوا ، مستقبل میں ان کے پاس کیا منصوبہ ہے کہ خساروں کے اس عذاب سے چھٹکارا مل سکے۔
کہنے کو تو مسائل اور بھی بہت ہیں۔ بنگلہ دیش کی آبادی ایک زمانے میں پاکستان سے زیادہ تھی لیکن بنگلہ دیش نے اپنی آبادی کنٹرول کرلی جبکہ پاکستان کو کوئی فکر نہیں۔ سالانہ آبادی بڑھ رہی ہے اور وسائل کمیاب ہیں۔ اس کے اثرات سیاست معیشت اور پورے سماجی ڈھانچے پر انتہائی منفی مرتب ہو رہے ہیں۔ پچھلے 25 سال کے دوران صنعتی ترقی بمشکل 3.9 فیصد رہی جبکہ زراعت میں اوسط ترقی اس سے بھی کم رہی. دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کے رجحان نے نئے مسائل کو جنم دیا ہے. شہروں میں رہنا مشکل اور ایک مسلسل آزمائش بنتا جا رہا ہے۔
انتخابی وعدوں کی بہار میں عقل عیار کے یہ سوال ہمارا مزہ کرکرا کر دیتے ہیں لیکن کیا کریں پانچ سال کے بعد آئی بہار کے مزے لینا بھی ضروری ہے اور شب و روز کے مصائب کا سامنا کرنے کی مجبوری بھی ہے۔ ایسے میں خواہش ہے کہ کوئی تو ہو جو اس گھن چکر سے نکالنے کا راستہ سجھائے ۔
نتخابی وعدے اچھی غزل کی طرح ہیں لیکن کیا کیجئے کہ غزل کا لطف مشاعرے اور مطالعے کی حد تک تو لیا جا سکتا ہے مگر غزلیں چولہا روٹی کے کام نہیں آتیں۔ زندگی کے مصائب کا سامنا کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ بد قسمتی سے اس چارہ گری کی طرف کوئی توجہ نظر آتی ہے نہ اہلیت اور شاید نہ ضرورت ۔ یہی صورت رہی تو اندیشہ ہے کہ اس انتخاب کی کوکھ سے بھی ایک اور رائیگاں سفر برآمد نہ ہو۔