بلاول بھٹو: روشن دماغ سیاست دان

سابق صدر آصف علی زرداری مقتدر حلقوں کے اندرونی معاملات کو قریب و دور سے  دیکھنے کے باوصف بساطِ  سیاست پر ان کے مہرے لگانے کی ترتیب سے ہی جان لیتے ہیں کہ ان کی طرف سے کس قسم کی چالیں چلی جاسکتی ہیں۔

اور سیاست دانوں  کو کس طرح کا چکمہ دے کر اس جال میں پھانسا جائے گا جس کے سنہری تارو و پود ان کے لئے کسی بھی وقت پھانسی کا پھندا بنانے میں انہیں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔ طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگانے والے بھٹو کو پھانسی لگا کر عوامی طاقت کے غبارے سے ہوا نکال دی گئی اور یہ باور کرا دیا گیا کہ عوامی طاقت یا دستوری قوت کچھ نہیں ہوتی کہ طاقت ہی قانون ہے اور جسے یہ زعم ہو کہ اس کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ہے جو اسے دستوری تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا وہ آئین کے تحت تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لا کر جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ جب چاہے یہ تجربہ بھی کر دیکھے اور پھر سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ کس طرح اقامے سے پانامہ نکال کر جیل کا پاجامہ پہنا دیا گیا۔

یہ اسرار جاننے والے زرداری نے 2008 کے انتخابات میں خود کو صدر کے منصب پر فائز کرانے کے لئے بڑی چال چلی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ  اسٹیبلشمنٹ کو اتنا بڑا چیلنج دے سکتے ہیں۔ مگر آصف علی  زرداری نے اس ایک چال سے طاقتوروں کو چوکنا کر دیا جبکہ سیاسی ماہرین کو اپنے بارے میں اندازوں کی غلطی کا احساس دلا کر خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اور یہ حیرت اس وقت پُر مسرت استعجاب میں بدل گئی جب صدر مملکت کی حیثیت میں آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے آمرانہ ہتھکنڈوں سے غصب کردہ اختیارات 18ویں ترمیم کے ذریعے عوام کے منتخب نمائندوں کے ایوانوں کو واپس کرکے اپنی سیاسی بصیرت اور فہم و فراست کا سکہ جما دیا۔  زرداری صاحب کو ہلکا لینے والے حریفانِ آفتاب کو بھی اس نعرے پر یقین کرتے ہی بنی کہ ایک زرداری سب پر بھاری..... 

زرداری صاحب کی متعارف کروائی گئی اٹھارویں ترمیم کا ہی کمال ہے کہ 2008 کے بعد اس خوش فہمی کا شکار ہونے والوں کے ارمان پورے ہونے کے راستے مسدود ہوگئے کہ صرف دس سال ہی  جمہوری نظام کو دے کر پھر سے زمامِ اقتدار حاصل کر لی جائے گی.... مگر جنہیں اقتدار کا نشہ ایک بار چڑھ جائے، انہیں بے شک عوام کی نفرت و حقارت کا سامنا کرنا پڑے یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے،  وہ پھر سے برسرِ اقتدار آنے کیلئے ہر ممکن کوشش ضرور کرتا ہے۔ اس کے لئے اسے جس طرح کے بھی جوکھم سے گزرنا پڑے وہ پروا نہیں کرتا۔

آج کا سیاسی منظر نامہ پل پل صدا لگاتا ہے ، دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو، مگر شاہانہ کروفر کے مزے لینے کی ہوس اقتدار عقل و خرد کو بری طرح مغلوب کئے ہر لمحہ اُکساتی ہے کہ چڑھ جا بیٹا سُولی رام بھلی کرے گا۔ چند جرنیلوں اور ججوں کی ملی بھگت سے ایک اوسط درجے کی ذہنیت کے حامل کھلاڑی کو اس کی ریکارڈ بک میں درج ماضی کی کامیابیوں کو معیار بنا کر میدان سیاست میں اسے سپورٹ کرنے کی ٹھان لی گئی۔ اور ایسا کرنے والے اس کا بیس سالہ سیاسی دورانیہ یکسر فراموش کر گئے جو اس کی سیاسی ناکامیوں سے عبارت تھا اور اس کے حصے کی واحد سیاسی کامیابی میانوالی کی قومی اسمبلی کی نشست تھی جو اس وقت کے فوجی سربراہ حکومت نے کمال مہربانی سے اسے عطا کی تھی۔ کیونکہ ان کے پاس دستیاب معلومات بتا رہی تھیں کہ موصوف کی تو اپنے گھر سے منتخب ہونے کی اوقات نہیں۔ مگر 2018 کے انتخابات میں اس شخص کو سربراہ حکومت بنا کر ظل سبحانی کا درجہ دینے والوں کو اس وقت اپنی غلطی کا بری طرح احساس ہوا جب اس نے اپنی حرکات و سکنات سے ثابت کیا کہ  موصوف تو خود کو سچ مچ کا بادشاہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

جب تک یہ بات سمجھ میں آئی اور حضرت کو تاش کا بادشاہ بنانے کی پالیسی وضع کرکے عمل درآمد کی کوشش کی جانے لگی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بادشاہ اپنے خوشامدیوں کے جلو میں نادیدہ پوشاک پہنے لباسِ فطرت میں عقل و خرد سے بیگانہ ہجوم میں سڑکوں پر آکر اودھم مچا نے لگا۔ یہ عجیب و غریب صورتحال ناگوار حدوں کو پہنچی تو خلعتِ فاخرہ پر ہوائے تند سے اڑنے والی گرد و غبار میں شامل غلاظت کے چھینٹے پڑنے لگے تو پھر شیشے کے کمروں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھتی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ان حیران آنکھوں میں اترنے والے مناظر کا حصہ لوگ روایتی ہتھکنڈوں پر اتر کر سیاست کے میدان میں ہلچل مچانے والے کو سب و شتم کا نشانہ بنا کر ہجوم میں سے کسی ایسے بچے کی تلاش میں سرگرداں تھے جو بادشاہ ننگا ہے‘ کا آوازہ لگا سکے۔ مگر وہ بچہ تو کب کا تالیاں بجاتے ان بچوں میں شامل تھا جو خود فطری لباسوں میں بادشاہ کے حق میں نعرہ زن تھے۔ 

ایسے میں وادی مہران سے ایک نوجوان کی آواز نے سب کو چونکا دیا جو نئے جوش و جذبے کے ساتھ عقل و خرد سے عاری بے سمت ہجوم کو تباہی کے دہانے تک پہنچنے سے پہلے روکنے کیلئے اپنی پوری توانائی کے ساتھ سامنے آن کھڑا ہوا۔ یہ نوجوان بلاول بھٹو زرداری ہے جو اس ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ہے جس نے کئی دہائیوں پہلے آزادی موہوم لکھ کر مستقبل کے اس منظر نامے کی جھلک دکھلا دی تھی جو بعد میں حقیقت پر مبنی ثابت ہوا۔ اسے اپنے سیاسی پیغمبرانہ بیانیے کی بھاری قیمت چکانا پڑی مگر وہ اپنی جان دے کر بھی اس قوم کو بے نظیر بھٹو جیسی رہنما دے گیا جس نے باپ کی طرح اس قوم کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کی کوشش میں جامِ شہادت نوش کیا۔ جاتے جاتے عوام دشمنوں کو بے نقاب کر گئی جو آج اس کے سیاسی وارث بلاول بھٹو کی راہ میں مزاحم ہیں۔ وہ بلاول جس نےنانا کی طرح کم عمر وزیر خارجہ بن کر دنیا سے اپنے ویژنری ہونے کی داد لی اور ان برے وقتوں میں پاکستان کا روشن چہرہ بن کر عالمی منظر نامے میں پاکستان کا مثبت امیج ابھارنے میں کامیاب ہوا جب پاکستان مخالف علاقائی قوتیں بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر ہماری سالمیت کے درپے تھیں۔ اور جنہیں اقتدار سے نکلنے والے سرکش شخص کی عاقبت نااندیش سوچ پر مبنی حمایت حاصل تھی۔ ان اندرونی وبیرونی درپیش چیلنجز کے ساتھ کامیابی سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے پاکستان کی بھرپور خدمت کرنے پر اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نے برملا جواں سالہ بلاول کی سوچ اور سیاسی ویژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل  میں اگر مخلوط حکومت بنی تو وہ پھر بلاول کو وزیر خارجہ دیکھنا پسندکریں گے۔

مگر آج وہ انتخابی سیاست میں بلاول کے سیاسی بیانات کے طور پر دیےگئے سیاسی مناظرے کے چیلنج پر جوابی وار کر رہے ہیں جبکہ بلاول ماہر سیاست دان کی طرح روشن خیال ہونے کا عملی ثبوت یوں فراہم کر رہا ہے کہ وہ اپنی حریف سیاسی جماعت کے اس لیڈر کو بھی جیل سے رہائی دلانے کیلئے آواز بلند کر رہا ہے جسے انتخاب سے پہلے بھٹو بنانے کی افواہیں گردش میں ہیں۔ وہ اس دہانے پر کھڑا بھی اپنے پیروکاروں کو  بلاول سے دور رہنے کی ہدایت کر رہا ہے۔ اس شخص کے ذہنی توازن بگڑنے کی خبروں پر اس کا یہ طرز عمل مہر تصدیق ثبت کر رہا ہے جبکہ بلاول روشن مستقبل کی علامت کے طور پر سیاسی منظر نامے کو درخشاں کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ 

تازہ ترین غزل پڑھ لیجیے :

رستہ گیا جو آنکھ سے،  منزل بھی کھو گئی 

بارش نقوشِ پا کی نشانی بھی دھو گئی 

عجلت میں خالی ہاتھ ہی گھر سے نکل پڑے 

جوگی کی بات بے طرح  دل میں سمو گئی 

اُس نے دھکیلا رات کی جانب جو آفتاب 

شامِ الم غروب کا منظر بھگو گئی 

اُس نے خوشی کے ساتھ بچھڑنے کی بات کی 

اک قہقہے سے زندگی رنجور ہو گئی 

جاتے سمے وہ سینے سے جب بھینچ کر لگا

منزل قریب آ کے بہت دور ہو گئی

صوتِ غنائے درد کا لپکا پلٹ گیا 

جب آنسوؤں کے ساتھ وہ تنہائی رو گئی 

وہ جو غمِ فراق کی صورت ملی ہمیں 

اک کہکشاں چراغ کی لَو میں پرو گئی 

دہلیز پہ فقیر کی آمد  کے تھے نشاں 

اک آگہی شعار کی تقدیر تو گئی 

اصغر حریمِ عشق کی دیوار کیا گری 

گریہ کناں کی ماتمی قسمت ہی سو گئی