اردن میں ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک
صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈرون حملے کے بعد جوابی کارراوئی کرے گا۔ اس حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
امریکہ میں برسر اقتدار ڈیموکریٹس اورحزب اختلاف کے ریپلکنز دونوں نے جوابی کاروائی پر زوردیا ہے۔ صدر نے اپنے پہلے ردعمل میں ہی گزشتہ رات ہونے والے اس حملے کا ذمہ دار ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں کو قرار دیا تھا۔
اسرائیل اور حماس کی غزہ میں جاری جنگ کے دوران مشرق وسطی میں ملیشیا گروپوں نے گزشتہ کئی ماہ میں امریکی فورسز پر حملے کیے لیکن ایسا پہلی بار ہے کہ کسی حملے میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں ۔
دو امریکی اہلکاروں نے اردن میں اس فوجی تنصیب کی ٹاور 22 کے نام سے شناخت کی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ اردن میں کیے جانے والے ڈرون کےحملے سے زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد کم از کم 34 ہو گئی ہے۔ ایک اور اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس واقعہ میں ایک بڑے ڈرون سے ایک اڈے پر حملہ کیا گیا۔
اردن میں ٹاور 22 کے نام سے شناخت کیا جانے والا اڈہ شام کی سرحد کے ساتھ ہے اور اس کا استعمال زیادہ تر ایسے فوجی کرتے ہیں جو اردن کی افواج کے لیے مشورے اور معاونت کے مشن پر ہیں۔
صدر جو بائیڈن نے اس حملے کے ردعمل میں ایک تحریری بیان میں کہا، امریکہ اس حملے کے ذمہ داروں کو جواب دے گا اور اس کے لیے وقت اور طریقہ کار کا تعین ہم خود کریں گے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہم امریکہ، اپنے فوجی دستوں اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔
امریکی عہدیدار اس نتیجے پر پہنچے تھےکہ اس حملے میں ایران کے متعدد حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں میں سے ایک اس حملے کا ذمہ دار ہے۔ اس دوران نے اردن میں ڈرون حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔