پاکستان ایرانی وزرائے خارجہ میں باہمی تعلقات مستحکم کرنے پر اتفاق

  • سوموار 29 / جنوری / 2024

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان دوست ہمسایہ ملک ہیں۔ ایران سے دیرینہ ثقافتی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ مضبوط تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللّہیان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران باہمی مفاد کے مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ مضبوط تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ ایران سے تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینےکے خواہاں ہیں، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ضرورت ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک سیاسی اور سیکیورٹی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ دہشت گردی دونوں ممالک کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ملکی سلامتی اور خودمختاری کا احترام اولین ترجیح ہے۔ ہم سرحدوں پر معاشی مواقع پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرا اور مضبوط سفارتی تعلق ہے۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان میں مقیم افراد کو ایک ہی قوم سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ اہم برادرانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان کے ساتھ جغرافیائی تعلقات بھی اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی ہمارے لیے مقدم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران دہشت گردوں کو کوئی موقع نہیں دیں گے۔ دہشت گردوں نے ایران کوبہت نقصان پہنچایا، بارڈر پر موجود دہشت گرد دونوں ممالک کی سلامتی کےلیے خطرہ ہیں۔ مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر گفتگو ہوئی۔ بارڈر پر موجود تجارتی مراکز کو فعال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔ دہشت گردوں کومشترکہ سلامتی کونقصان پہنچانے نہیں دیں گے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان تعمیری اور مضبوط تعلقات ہیں۔

قبل ازیں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے وزارتِ خارجہ میں ملاقات کی اور پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے باہمی احترام اور مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے اجتماعی نقطہ نظر کی بنیاد پر امن اور خوشحالی کے باہمی مطلوبہ اہداف کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔