اتوار کا فلاپ شو اور اسٹبلشمنٹ سے صلح کی باتیں

عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف اتوار کے روز ملک میں کسی بھی جگہ پر کوئی  مؤثر سیاسی مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔ کراچی میں پارٹی کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجہ میں متعدد افراد گرفتار  ہوئے۔ گزشتہ سال 9 مئی  کے بعد تحریک انصاف نے  پہلی بار سیاسی  طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اہتمام کیا تھا لیکن  ناکامی کی وجہ انتظامیہ کی مداخلت اور پارٹی کے  خلاف انتقامی کارروائیوں کو قرار دیا جارہا ہے۔

اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اگرچہ  عمران خان نے  دعویٰ  کیا کہ ’تمام پابندیوں کے باوجود ہمارے کارکن ملک بھر میں نکلے جس پر میں انہیں مبارک باد اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘۔ انتخابات سے چند روز پہلے پارٹی کارکنوں  کو مستعد رکھنے کے لیے کسی بھی سیاسی لیڈر کو حوصلہ افزا باتیں ہی کرنا چاہئیں۔ اس تناظر میں     اتوار  کے ’سیاسی  پاور شو‘ کے حوالے سے عمران خا ن کی باتیں درست ہوسکتی ہیں لیکن زمینی حقائق ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کرتے۔  یہ الزام تسلیم کرنے کے باوجود کہ تحریک انصاف کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں اور  اس کے متعدد لیڈر قید ہیں یا  گرفتاری کے خوف سے زیر زمین ہیں لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت تسلسل سے ملک کی سب سے بڑی  اور مقبول پارٹی ہونے  کی دعویدار ہے۔  ایسی کسی بھی سیاسی تنظیم  کو  انتظامی مشکلات اور ناموافق حالات کے باوجود پارٹی کے بانی چئیرمین کی ہدایت اور خواہش پر بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ اتوار کے روز  مشاہدے میں آنے والی ناکامی تحریک انصاف کی پارٹی  تنظیم  ہی کی ناکامی نہیں ہے بلکہ یہ ان دعوؤں کی بھی  نفی کرتی ہے  کہ ملک کے ووٹر باقی سب پارٹیوں کو مسترد کرکے اب صرف عمران خان کے پیچھے کھڑے ہیں۔

اتوار کو ملک بھر میں سیاسی مظاہرے کرنے اور  پارٹی کی مقبولیت ثابت کرنے کا حکم براہ راست عمران خان نے جیل سے دیا تھا۔  یہ وہی پارٹی ہے جو 9 مئی کو  ملک کے عسکری اداروں سے ٹکر لینے کے بعد سے  سیاسی موجودگی کا کوئی قابل ذکر مظاہرہ نہیں کرسکی۔ حالانکہ  پارٹی کی ’ریڈ لائن ‘ قرار  دیے گئے عمران خان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا اور  انہیں ایک کے بعد دوسرے کیس میں  مسلسل قید میں رکھا جارہا ہے۔ انہیں انتخابات لڑنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی لیکن  8 فروری کے روز  سب کو حیران کرنے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی  اپنے محبوب لیڈر کی خواہش کے برعکس اپنی بھرپور سیاسی موجودگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔  البتہ سوشل میڈیا کی حد تک یہ دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے کہ  تحریک انصاف تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود 8 فروری کو بڑے بڑے برج الٹ دے گی اور تین چوتھائی نہیں تو دو تہائی اکثریت ضرور حاصل کرلے گی ۔ اور اس پارلیمانی طاقت کی بنیاد پر   دوررس آئینی ترامیم کرے گی۔

ان ترامیم کا اعلان پارٹی کے لیڈر بیرسٹر گوہر علی نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے کیا ہے۔  پارٹی چاہتی ہے کہ وزیر اعظم اور سینیٹ کے آدھے ارکان براہ راست ووٹ کے ذریعے چنے جائیں اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مدت میں ایک ایک سال کمی کردی جائے۔  تاہم یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے  جس سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے، تحریک انصاف   اسے سامنے لانے  میں ناکام رہی ہے۔ اس کے باوجود  پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن سے  یہ بھرم ضرور قائم ہؤا تھا کہ طاقت ور حلقے  پی ٹی آئی کی اسٹریٹ پاور سے خائف ہیں، اسی لیے اس کے لیڈروں اور کارکنوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور پارٹی کے لیے نت نئی مشکلات  کھڑی کی جارہی ہیں۔  اس صورت حال میں  سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا میں بھی قابل ذکر تعداد میں صحافی و تجزیہ نگار پارٹی کی حمایت میں اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔  اور  اس کی مقبولیت اور عوامی پزیرائی کا تاثر وسیع بنیاد پر عام کیا جاتا رہا ہے۔ البتہ اتوار کے مظاہرے کے بعد اس  تاثر کے غبارے سے  ہوا نکل گئی ہے۔ یہ انتخاب سے پہلے تحریک انصاف کی شدید ناکامی ہے۔

عمران خان نے  بڑی توقع کے ساتھ پارٹی کو اتوار کے روز بھرپور  طریقے سے ہر حلقہ انتخاب  اور ہر شہر و قصبہ میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ایسے مظاہرے سے فیصلہ ساز قوتوں پر اپنی مقبولیت کی دھاک بٹھائی  جاسکے گی اور اگر انتخاب میں کامیابی نہ بھی حاصل ہوئی تو بھی کم از کم پارٹی لیڈروں کے لیے کچھ سہولتیں حاصل کی جاسکیں گی۔ اسٹبلشمنٹ  کو جب یہ اندازہ ہوگا کہ تحریک انصاف تمام تر ’مظالم‘ کے باوجود  سیاسی طور سے عوام کے دلوں میں گھر  کیے ہوئے ہے تو وہ ضرور کوئی سہولت دینے پر آمادہ ہوں گے۔ اگر کسی پارٹی کے پاس  فعال تنظیم موجود ہو اور اس کے دوسرے و تیسرے درجے کے لیڈر   اعلیٰ قیادت کی غیر موجودگی میں پارٹی ڈھانچے  کو مستحکم رکھتے ہوئے عوام تک رسائی رکھتے ہوں تو سیاسی طاقت کا ایسا مظاہرہ کامیاب بنایا جاسکتا تھا۔

یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ انتخاب سے چند روز پہلے ایسے مظاہرے سے مختلف حلقوں  میں پارٹی کے امیدوار اور ان کے کارکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کی وجہ سے  گرفتار ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں پارٹی  پولنگ والے دن ووٹنگ کے عمل میں بھرپور حصہ لینے اور اس کی نگرانی کے لیے اہم ورک فورس سے محروم ہوجائے گی۔ اس لیے شاید  اس موقع پر  اپنے کارکنوں کو سیاسی تصادم کی طرف دھکیلنے کی پالیسی درست نہیں ہوگی۔  لیکن  تحریک انصاف کو چند ہزار لوگ بھی سڑکوں پر لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔  ووٹر، سیاسی لیڈر، اسٹبلشمنٹ اور میڈیا اپنے اپنے طور پر پارٹی کی اس ناکامی سے نتائج اخذ کریں گے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس ناکامی  کے بعد  تحریک انصاف کی مقبولیت اور تخت  یاتختہ والے  دعوؤں پر یقین کرنے والوں کی تعداد کم ہوجائے گی۔ اس کا نتیجہ پارٹی کو ملنے والے ووٹوں پر بھی مرتب ہوگا۔ پاکستانی ووٹروں کی بہت بڑی تعداد صرف اسی پارٹی یا امیدوار کو ووٹ دینے کی عادی ہے جس کی کامیابی یقینی ہو۔

اس ناکامی کے علاوہ آج عمران خان نے اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ’اسٹیبشلمنٹ ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں اور ہمارے اوپر ریڈ لائن ڈال دی گئی ہے‘۔  ان کا کہنا تھا کہ  ہم تو اسٹبلشمنٹ سے بات چیت کرکے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان اس سے پہلے بھی عسکری قیادت سے بات چیت کی ایسی ہی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم ناکام سیاسی پاور شو کے فوری بعد ایک بار پھر اسٹبلشمنٹ کی ناراضی کا حوالہ دے کر عمران خان نے  واضح کیا ہے کہ ان کی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد کیا ہے۔  حالانکہ اس سے پہلے بیرسٹر گوہر علی میڈیا  کی طرف سے  جیل میں عمران خان سے  اسٹبلشمنٹ کے نمائیندوں کی ممکنہ ملاقاتوں کے حوالے سے سوالوں کے جواب میں کہتے رہے ہیں کہ ایسی کوئی  ملاقات نہیں ہوئی اور  ’ہمارا لیڈر ایسی کسی ملاقات کے موڈ میں بھی نہیں ہے‘۔ البتہ آج عمران خان کا بیان اس  پردہ پوشی کا راز افشا کررہا ہے۔

عمران خان کی ساری سیاسی حکمت عملی  اس گمان پر استور رہی ہے کہ وہ عام میں بے حد مقبول ہیں۔  ملک میں  چونکہ مقبولیت ماپنے کا کوئی قابل اعتبار پیمانہ موجود نہیں ہے ، اس  لیے یہ  تاثر  زبانی دعوؤں، بیانات، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور پارٹی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے  سے قائم کیا جاتا ہے۔ لیکن اب پارٹی ایک مقررہ روز باقاعدہ اعلان کے باوجود جب سیاسی موجودگی کا اظہار کرنے میں ناکام رہتی ہے اور اس کا  بانی چئیرمین اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو محنت سے تیار کی گئی مقبولیت کی ساکھ ختم نہیں تو  ماند ضرور پڑی ہے۔

عمران خان احتجاج کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ وہ 9 مئی کو تحریک انصاف کو پھنسانے کے لیے ’جعلی فلیگ آپریشن‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ یعنی وہ اس دن ہونے والے جرائم  پر افسوس کرنے کی بجائے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ  یہ کام انہی لوگوں نے کیا تھا جو تحریک انصاف پر اس کا الزام لگا رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ   جب بھی مفاہمت یا مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو ان کا مقصود اسٹبلشمنٹ ہی ہوتی ہے۔ وہ سیاسی پارٹیوں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ انہیں اپنی سیاسی بقا کی جد و جہد  میں ساتھ دینے پر آمادہ  کریں۔ عمران خان کا احتجاج دھمکیوں  تک محدود ہے ۔ یعنی  تڑی لگاؤ، اگر کوئی ڈر گیا تو ٹھیک نہیں تو  بیٹھ کر بات کرنے کی خواہش ظاہر کردو۔ ایسا کرتے ہوئے عمران خان یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جس اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایک بار پھر ہنی مون شروع کرنا چاہتے ہیں، وہ   بوجوہ  ان سے فاصلہ کرچکی ہے جسے پاٹنے کے لیے اب عمران خان کو  کوئی ایسی حکمت عملی بنانا ہوگی  جس میں اسٹبلشمنٹ ان کی بات سننے اور انہیں ’اکاموڈیٹ‘ کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ فی الوقت اس کا امکان نہیں ہے۔   تحریک انصاف  دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل بیٹھ کر  سیاسی بقا  کی کوشش کر سکتی ہے لیکن یہ راستہ عمران خان نے خود بند کیا ہؤا ہے۔

اب عمران خان فوج کے علاوہ سپریم کورٹ  اور چیف جسٹس کو براہ راست چیلنج کرنے  کا طریقہ اختیار کررہے ہیں۔ حالانکہ انہیں جان لینا چاہئے تھا کہ دھمکیوں اور دباؤ سے ملکی  آئینی   اداروں کو حمایت پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن کے  خلاف عمران خان کی مہم جوئی بری طرح ناکام رہی ہے۔ اسی منفی پالیسی کے نتیجے میں پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم ہوکر اب اپنے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کی  ہدایت کرنا پڑی ہے۔  آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے  عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہماری پارٹی کو الیکشن مہم سے روکا جارہا ہے ۔ امیدواروں اور کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے، جس کی ذمہ دار سپریم کورٹ ہے۔  چیف جسٹس کو اس بات کو سو موٹو ایکشن لینا چاہیے کیونکہ آئین کے آرٹیکل پندرہ، سولہ اور سترہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے‘۔ جب صحافی نے ان سے پوچھا کہ ’بلے کے فیصلے پر تو آپ نے سپریم کورٹ پر عدم اعتماد کردیا ہے، اب سپریم کورٹ سے ہی استدعا کررہے ہیں‘۔ اس  پر عمران خان نے کہا کہ ’سپریم کورٹ پر میں نے عدم اعتماد کیا ہے لیکن سپریم کورٹ پورے پاکستان کی ہے۔ ہمارے کارکنوں کی گرفتاری کی ذمہ داری بھی سپریم کورٹ پر ہے۔ یہ کیسا الیکشن ہے انہوں نے پورے الیکشن کو ڈس کریڈٹ کردیا ہے‘۔

بدقسمتی سے عمران خان للکارنے اور دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کو  احتجاجی سیاست سمجھتے ہیں۔ یہ طریقے اب تک ان کی مدد نہیں کرسکے۔ 8 فروری کو اگر تحریک انصاف قابل ذکر  کامیابی حاصل نہ کرسکی تو  ملکی سیاست میں ان کی موجودہ حیثیت بھی ختم ہوجائے گی۔  پھر تحریک انصاف  قابل ذکر فیکٹر  بھی نہیں  رہے گی۔ اور اگر عدالتی فیصلوں میں عمران خان کو طویل سزا ہوجاتی ہے تو تحریک انصاف کا انجام توشتہ دیوار کی طرح صاف دکھائی دے رہا ہے۔