خصوصی عدالت کی جلد بازی نے ناانصافی کا نیا باب رقم کیا
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 30 / جنوری / 2024
خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں سزا سنا دی ہے۔ اگرچہ یہ انجام نوشتہ دیوار تھا لیکن گزشتہ چند روز کے دوران میں مقدمہ نمٹانے کے لیے خاص طور سے جس عجلت کا مظاہرہ کیا گیا ، اس سے اس مقدمہ کی ساری کارروائی مشکوک ہوگئی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ خصوصی عدالت کو اس جلد بازی کی کیا ضرورت تھی، البتہ عدالتی عجلت نے ناانصافی کا ایک نیا باب ضرور رقم کیا ہے۔
دونوں لیڈر بہر صورت جیل میں بند تھے اور اگر اعلی عدالتیں توشہ خانہ کیس کی طرح سائفر کیس میں سزا معطل کر بھی دیں تو بھی حکام کے پاس عمران خان کو قید رکھنے کے لیے وہی زور ذبردستی کے ہتھکنڈے موجود ہیں، جو اب تک اختیار کیے جاتے رہے ہیں۔ سائفر کیس امریکہ سے بھیجے گئے ایک خفیہ سفارتی مراسلہ کے مندرجات عام کرنے ، انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور وزیر اعظم کے طور پر ملنے والی نقل گم یالاپتہ کرنے کے الزام میں قائم کیا گیا تھا۔ اس مقدمہ میں جن اہم گواہوں کے بیانات کو بنیاد بنایا گیا ہے ان میں عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، خفیہ مراسلہ بھیجنے والے سابق سفیر اسد مجید اور سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود شامل ہیں۔ ان تینوں کی گواہی اس مقدمہ میں بنیادی اہمیت کی حامل تھی۔ ان تینوں افسروں نے سائفر بھیجنے، وصول کرنے اور اسے وزیر اعظم تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ البتہ چند دن پہلے ان گواہوں پر جرح کے موقع پر عمران خان کے نامزد وکیلوں نے عدالتی کارروائی میں شرکت نہیں کی اور عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے عدالتی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی کے ذریعے کسی بھی طرح مقدمہ کی کارروائی معطل کروانے کی کوشش کی۔
اس پس منظر میں جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے فوری طور سے وزارت قانون سے رابطہ کرکے دونوں ’ملزموں‘ کے لئے سرکار کے نامزد وکلائے صفائی کا اہتمام کیا اور ایک دو روز میں ان اہم گواہوں پر جرح مکمل کرکے مقدمہ کی کارروائی کو انجام تک پہنچا دیا۔ ایک طرف عمران خان ، شاہ محمود قریشی اور ان کے وکلا کے طرزعمل سے یہ واضح ہورہا تھا کہ وہ مقدمہ کوسست روی کاشکار کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی طرح انتخابات سے پہلے مقدمے کا فیصلہ نہ ہو لیکن دوسری طرف خصوصی عدالت کے جج کو اس بات کی جلدی تھی کہ مقدمہ کی کارروائی جلد از جلد مکمل ہو اور وہ ملزموں کو سزا دے کر اپنے فرض منصبی سے فراغت پائیں۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے فرض تو بخوبی ادا کیا ہے لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ کسی بھی عدالت کا کام محض سزا دینا نہیں ہوتا بلکہ اس کا بنیادی فرض قانون و طریقہ کار کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔
اس بحث سے قطع نظر کہ عمران خان یا شاہ محمود قریشی نے کس حد تک قانون شکنی کی، ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے اور ایک اہم سرکاری دستاویز غائب کرنے میں کردار ادا کیا، عدالتی کارروائی میں کی گئی عجلت کی وجہ سے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا رہے گا کہ خصوصی عدالت کو کس بات کی جلدی تھی۔ ملک میں عام انتخابات ایک اہم وقوعہ ہیں۔ عمران خان کو اگرچہ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن وہ تحریک انصاف کے بانی چئیرمین اور مقبول لیڈر کے طور پر انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اس پس منظر میں عمران خان کو سزا دینے میں بدحواسی کی حد تک جلد بازی کا مظاہرہ بلاشبہ اس تاثر کو قوی کرے گا کہ کچھ قوتیں کسی بھی قیمت پر انتخابات سے پہلے عمران خان کو سزا دلوانا چاہتی تھیں۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی سربراہی میں قائم کی گئی خصوصی عدالت نے محض اس خواہش کو پورا کرنے میں عجلت کی ہے۔ میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں سامنے آنے لگی تھیں کہ عمران خان کو سائفر کیس میں فروری کے پہلے ہفتے میں سزا سنا دی جائے گی۔ البتہ جج صاحب نے سوموار کو رات گئے تک سماعت کرکے آج 30 جنوری کو سزادے کر ان پیشین گوئیوں کو ’غلط‘ ثابت کردیا کہ سائفر کیس کا فیصلہ فروری کے پہلے ہفتے میں انتخابات کے انعقادسے پہلے سنایا جائے گا۔
اسی لیے عمران خان کو ایکس پر جاری ایک بیان میں یہ دعویٰ کرنے کا موقع بھی ملا کہ مجھے معلوم تھا کہ اس مقدمہ کا کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ منصوبہ ساز گھبرا گئے ہیں اور اسے (کیس کو) قانونی قواعد و ضوابط مکمل کیے بغیر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ٹرائل نہیں بلکہ فکسڈ میچ ہے جس کا نتیجہ لندن پلان کے کرداروں ، منصوبہ سازوں اور ان کے مہروں نے پہلے سے طے کررکھا تھا۔ اسی لئے مجھے اس کیس کے فیصلے کا پہلے سے علم ہے‘۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اس کیس میں مجھے سخت سزا سنا کر آپ کو اشتعال دلایا جائے تاکہ آپ سڑکوں پہ نکل کر احتجاج کریں ۔ اس میں اپنے نامعلوم شامل کر کے نو مئی کی طرز پہ ایک دوسرا جعلی فلیگ آپریشن کرکے وہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جائے جو پہلے فالس فلیگ آپریشن سے حاصل نہیں ہو پائے۔ دوسرا وہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ لوگ مایوس اور بددل ہو کر 8 فروری کو گھروں میں بیٹھے رہیں۔ میرے پاکستانیو! یہی آپ کی جنگ ہے اور یہی آپ کامتحان ہے کہ آپ نے پرامن رہتے ہوئے ہر ظلم کا بدلہ 8 فروری کو اپنے ووٹ سے لینا ہے‘۔
مقدمہ کی کارروائی میں شریک ہونے والی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی فیصلہ کا اعلان ہونے کے بعد میڈیاسے بات کرتے ہوئے یہی دعویٰ کیا ہے کہ جج کو ہدایات موصول ہورہی تھیں۔ اور یہ فیصلہ کسی سازش کے تحت کیا گیاہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عمران خان کو ’غیر منصفانہ‘ سزا دینے کا بدلہ لینے کے لیے 8 فروری کو سو فیصد لوگ باہر نکلیں اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو کامیاب کروا کے ملک کے مقبول لیڈر کے خلاف سازش کو ناکام بنا دیں۔ تحریک انصاف کے دیگرلیڈروں نے بھی خصوصی عدالت کے فیصلہ کے بعد اسی قسم کے جذبات کا اظہارکیا ہے ۔ پارٹی لیڈر گوہر علی خان اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے اپنے کارکنوں سے پر امن رہنے اور کوئی ایسا احتجاج نہ کرنے کی اپیل کہ ہے جس کی وجہ سے حکومت کو تحریک انصاف پرپابندی لگانے یا کریک ڈاؤن کرنے کا موقع مل جائے۔ پارٹی قیادت مسلسل یہ تاثر دے رہی ہے کہ اس ’ظلم و زیادتی‘ کا حساب 8 فروری کو لیا جائے گا۔
جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مقدمہ کی کارروائی سمیٹتے ہوئے عمران خان کو مخاطب کرکے پوچھا کہ ’خان صاحب اس آسان سوال کا جواب دیں کہ سائفر کہاں ہے؟‘ عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنے بیان میں بھی کہا ہے کہ سائفر میرے دفتر میں تھا، وہاں سے کہاں گیا مجھے معلوم نہیں۔ قانونی شق 342 کے تحت اپنی صفائی میں بیان دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’ ان کے سرکاری معاون (اے ڈی سی) میں سے کسی ایک نے سابق فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایما پر سائفر چوری کیا۔ سائفر وزیراعظم آفس میں تھا جس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور سیکریٹری پروٹوکول پر آتی ہے‘۔ جج ابوالحسنات نے عمران خان کا جواب سننے کے بعد فوری طور سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس ، دس سال قید کی سزا کا مختصر فیصلہ سنایا اور عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔ اس سے یہ تو واضح ہورہا ہے کہ عمران خان کو سائفر گم کرنے پر سزا دی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ شاہ محمود قریشی کو کس الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ان سے 342 کے تحت بیان ہی نہیں لیا گیا اور جج نے جلدی میں سزا کا اعلان کردیا۔
پاکستان میں سیاسی لیڈروں کوسزائیں دینے کے حوالے سے عدالتوں کی تایخ قابل تحسین نہیں ہے ۔ خاص طور سے نچلے درجے پر کام کرنے والی ٹرائل کورٹس ایسے فیصلے صادر کرتی رہی ہیں جنہیں یا تو اعلیٰ عدلیہ ہی تبدیل کردیتی ہے یا پھر تارٰیخ ان فیصلوں کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ ثابت کردیتی ہے۔ جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کے معاملہ میں ہؤا تھا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کی توثیق کی اور بھٹو کو پھانسی دے دی گئی لیکن بعد میں قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد میں اسے انصاف کے قتل کا نام دیا۔ اب اس فیصلہ کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ حال ہی میں ایک اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو متعدد مقدمات میں ملنے والی سزائیں یکے بعد دیگرے ختم کرکے انہیں انتخاب میں حصہ لینے کا حق دیا گیا ہے۔ لیکن اسی دوران میں ایک دوسرے سابق وزیر اعظم کو جیل میں بند کرکے ماضی میں اختیار کیے جانے والے ریاستی جبر کے طریقے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس طرح ملکی نظام عدل کے بارے میں مباحث مزید شدت اختیارکریں گے اور اس سے قطع نظر کہ قانون کی تشریح کے مطابق عمران خان و شاہ محمود قریشی سے کوئی جرم سرزد ہؤا یا نہیں، عام طور سے اسے عدالتی ناانصافی کا نام دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرلی تھی ۔ لیکن یہ دونوں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود رہا نہیں ہوسکے۔ اس فیصلہ میں سپریم کورٹ نے سائفر کیس کی بنیاد پر بھی سوال اٹھائے تھے ۔ اس فیصلہ کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سائفر کیس میں عمران خان کو سزا دینے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ تاہم جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کے حکم سے واضح ہؤا ہے کہ خصوصی عدالت مقدمہ میں ان کمزوریوں کا سراغ نہیں لگا سکی جو سپریم کورٹ کو مقدمے کے شواہد میں دکھائی دیے تھے۔ اور انہوں نے دونوں ملزموں کو طویل سزا دینے کا حکم دے دیا۔
اس مقدمہ کو اگر شفافیت سے چلایا جاتا اور عمران خان و شاہ محمود قریشی کے وکلا کی طرف تعطل کے ہتھکنڈوں پر جلد بازی میں حکم جاری کرکے ان دونوں کو اپنے دفاع کے حق سے محروم نہ کیا جاتا تو شاید کسی عدالتی حکم پر اتنا شدید منفی رد عمل سامنے نہ آتا۔ خصوصی عدالت کی کارروائی سے واضح ہؤا ہے کہ کسی بھی قیمت پر سزا دینا مطلوب تھا۔ یہ مقدمہ ملکی انتخاب میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اسی طرح ہتھکنڈے کے طور پر استعمال ہؤا ہے جیسا کہ عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے ایک خفیہ سفارتی مراسلہ کے متن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔ اگر عمران خان کا طریقہ غلط تھا تو خصوصی عدالت کے ذریعے عمران خان کو سزا دلوانے کا طریقہ بھی جائز اور مناسب نہیں ہے۔ اس فیصلہ کا اگر موجودہ عام انتخابات کے نتائج پر کوئی خاص اثر نہ بھی مرتب ہو لیکن ملکی سیاست اور عدالتی نظام کی حرمت ضرور مجروح ہوئی ہے۔
ملک میں ہر تھوڑی مدت کے بعد کسی نہ کسی پارٹی اور لیڈر کو سزا دینے اور سیاست سے باہر رکھنے کا طریقہ جمہوریت کا خواب تو منتشر کرہی رہا ہے لیکن اب ان طریقوں سے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ باقاعدہ خلیج اور بداعتمادی کی شکل اختیار کرچکاہے۔ کوئی بھی نظام بداعتمادی، مایوسی اور بے بسی کی ایسی کیفیت میں کوئی قومی مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔ اس مزاج کو تبدیل کرنا پڑے گا لیکن ابھی تک یہی طے نہیں ہوپارہا کہ جبر کے اس ماحول میں کون بارش کا پہلا قطرہ بنے گا۔