تیس مار خاں کی کہانی ختم شد؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 31 / جنوری / 2024
سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر خصوصی عدالت نے ہمارے تیس مار خاں کھلاڑی کو ایک گدی نشین سمیت دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے تو اس پر مختلف النوع چہ مگوئیاں ہورہی ہیں۔ طرح طرح کے سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔
حالانکہ درویش کو دس سے چودہ سال کی سزا ہوتی دکھتی رہی ہے۔ کہاجارہا ہے کہ اس میں بڑے جھول ہیں۔ وکلا صفائی 342کے مطابق پیش نہیں ہوئے۔ مناسب جرح نہیں ہوئی، پورا موقع نہیں دیا گیا۔ جلد بازی سے کام لیا گیا۔ لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ خود کردہ راعلاج نیست۔ آپ لوگوں نے چال چلی کہ ہمارے وکلا عدالت میں پیش نہیں ہوں گے تو معاملہ لٹک کر رہ جائے گا۔ اس کا نقصان خود آپ ہی کو ہوا۔ انہوں نے قانون کے مطابق سرکاری وکلا صفائی کی تقرری کرتے ہوئے کیس کے بدیہی تقاضے پورے کرلیے۔
سائفر تحریر کرنے والے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر اسد مجید خاں، سابق فارن سیکرٹری سہیل محمود اور پرنسپل سیکرٹری سمیت اٹھارہ واضح و ٹھوس شہادتیں سامنے آگئیں۔ اس امر میں کیا شک ہے کہ آپ نے قومی و ریاستی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر قربان کردیا۔ کیا آپ نے یہ حلف نہیں اٹھایا تھا کہ میں اس عہدے پر براجمان ہوکر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی پابندی کروں گا۔ اور پھر وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا، آپ نے بھرے عوامی جلسوں میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا، سائفر کو یا اس کی کاپی کو جلسوں میں لہرا لہرا کر کہا کہ امریکا نے پاکستان کے خلاف سازش کی ہے۔ حالانکہ کیس کی پروسیڈنگزمیں یہ بات ثابت ہوگئی کہ سازش والی کوئی بات سائفر میں سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ نہ ہی دھمکایا گیا تھا۔
البتہ آپ کی اتنی بڑی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے دو ممالک کے درمیان نہ صرف یہ کہ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں بلکہ تعلقات میں خرابی ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی۔ پھر اس لغو و بیہودہ پروپیگنڈے کے ذریعے قومی اسمبلی توڑنے جیسا قطعی غیر آئینی و شرپسندانہ اقدام اٹھادیا گیا۔ اس طرح محض ذاتی مفاد کی خاطر پورے سسٹم کو مفلوج کرنے کی یہ مکروہ و مجرمانہ حرکت تھی۔ قانون کی کسوٹی پر پورا اترتے ہوئے اپیلوں میں یہ کیس کتنا مضبوط ثابت ہوتا ہے، یہ بعد کی بات ہے لیکن قومی نقطۂ نظر سے اگر ملاحظہ کریں تو یہ ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا اس لیے بھی بنتی تھی کہ کل کلاں کوئی اور موقع پرست لیڈری کا بھوکا دعوے دار اس نوع کی جسارت نہ کرسکے۔
آپ کے ساتھ تو جو کچھ ہوا وہ آپ کے اپنے کرموں کا پھل تھا اور اس ملکِ بدنصیب میں پہلی مرتبہ کسی شخص کو خالص آئینی تقاضوں اور شقوں کی مطابقت میں عدم اعتماد کرتے ہوئے منتخب و بالادست ادارے نے فارغ کیا۔ جبکہ آپ سے قبل ایسے منتخب وزرائے اعظم کی مثالیں موجود ہیں جنہیں قطعی غیر آئینی و غیر جمہوری اسلوب میں اسٹیبلشمنٹ نے ان کے عہدوں سے ہٹایا۔ لیکن انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود کبھی اس نوع کی حرکت نہیں کی کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کریں یا اپنے حلف کو توڑیں۔ اب ایسی ہی صورتحال توشہ خانہ کیس کے حوالے سے بھی سامنے آگئی ہے۔ تیس مار خان عرف سابق کھلاڑی اور بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کو کرپشن کے الزمات ثابت ہونے پر چودہ چودہ سال کی سزاہوگئی ہے۔ انہوں نے مختلف دوست ممالک سے ملنے والے ایک سو آٹھ قیمتی تحائف میں غبن کیا اور یوں سخت سزا کے حقدار ٹھیرے۔
ان سزاؤں کے 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اگرچہ کچھ احباب اس نوع کا پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ سزائیں سنائے جانے پر پی ٹی آئی کے آزاد امیدواران کو ہمدردی کا ووٹ ملے گا مگر درویش کی نظر میں ہمدردی کا ووٹ ہرگز نہیں ملے گا۔ بلکہ پہلے سے موجود ہمدردی پر بھی ڈینٹ پڑے گا جو لوگ ہار یا جیت کے حوالے سے گومگو کی پوزیشن میں تھے انہیں بھی یقین ہوجائے گا کہ جیت کی جو تھوڑی بہت گنجائش تھی، وہ بھی اب ختم ہوکر رہ گئی ہے۔
ہمارے بہت سے احباب کو سابق کھلاڑی، اس کی پارٹی اور سیاست کے حوالے سے غلط فہمیاں رہی ہیں بلکہ اب بھی نہ صرف ہمارے سوشل میڈیا بلکہ قومی میڈیا میں بھی اس نوع کا اچھا خاصا پروپیگنڈا چھایا ہوا ہے کہ جیسے یہ کھلاڑی نہ جانے کون سا تیس مار خاں ہے۔ اور نہ جانے عوام میں اس کی کس قدر مقبولیت ہے۔ جھوٹے و جعلی پروپیگنڈے کبھی حقائق کا سامنا نہیں کرسکتے۔ یہ درویش روزِ اول سے بیان کرتا چلا آرہا ہے کہ ہمارا یہ جناح تھرڈ جتنا بھی تیس مار خاں بناکر پیش کیاجاتا ہے، اس حد تک تو بات مانی جاسکتی ہے کہ ایک کرکٹر کی حیثیت سے اس نے ضرور شہرت کمائی۔ اگرچہ تب بھی کسی چیلنج کے موقع پر اس کا پٹھہ چڑھا ہی رہتا تھا۔ اور اس نے ہمیشہ اپنی انا پرستی یا ”میں میں“ کے شوق میں اپنی ذات کو ٹیم پر فوقیت دیے رکھی۔
جس کے اپنے مفاسد و نقصانات تھے جب اس کو کیپٹن بنایا گیا۔ تب بھی فیصلہ میرٹ پر نہیں تگڑی سفارش پر تھا۔ درویش نے ربع صدی قبل لکھا کہ جیسا تیسا بھی وہ کرکٹ کا کھلاڑی ضرور ہے مگر سیاست کا اناڑی ہے۔ ایسا اناڑی جو وقت کے ساتھ کچھ سیکھنے سے ہمیشہ کیلیے قاصر ہے اور قاصر رہے گا۔ کیونکہ سیکھتا وہ ہے جس کے اندر اسے ہضم یا جذب کرنے کی صلاحیت ہو۔ جبکہ یہ شخص ہمیشہ ایک پلے بوائے کی لائف جیا ہے۔ اور اقتدار کا حریص وہ کسی بڑے مشن یا مقصد کے لیے ہرگز نہیں ہے۔ صرف اپنی انا کی تسکین یا غرور و تکبر کو بڑھاوا دینے کے لیے ہے۔ یوٹرن کے بادشاہ کی زندگی کا کوئی اصول ہے، نہ ضابطہ، کرپشن کرپشن چلانے والے کی اصلیت حال ہی میں ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے نکال دی ہے۔ بلاشبہ ہم شوباز حکومت کو گھٹیا اور غیر معیاری حکومت لکھتے اور بولتے چلے آرہے ہیں، جس کا کام محض چاپلوسی تھا مگر اس کے باوجود کس قدر شرم کی بات ہے کہ اس عالمی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق تیس مار خاں کی حکومت شوباز حکومت سے بھی زیادہ کرپٹ حکومت تھی۔ اس نام نہاد صادق و امین کی حکومت میں پاکستان کا گھٹیا نمبر ایک سو چالیس تھا جو شہباز حکومت میں کم ہوکر ایک سوتینتیس ہوگیا یعنی سات فیصد بہتری ہوئی۔
درویش یہاں پوری ذمہ داری سے تحریر کیے دیتا ہے کہ یہ شخص یا اس کی سیاست قصۂ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔ لہٰذا بہتر ہے دوسروں کو دھمکانے کے لیے وہ حکمرانی کے جعلی خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ اس کی پارٹی بھی کوئی سیاسی جماعت نہیں محض ایک پریشر گروپ تھا جس کے نام نہاد پریشر کا غبارہ بھی 9 مئی کے بعد پھٹ چکا ہے۔ تیس مار خاں کتنی اپیلیں کرچکا ہے احتجاج کیلیے، اگر اس پریشر گروپ میں کوئی دم خم ہوتا تو نکلتے باہر سڑکوں پر۔ جو لوگ کہتے تھے کہ کھلاڑی کی گرفتاری ہماری ریڈ لائن ہے، آج اس کو جس طرح سزائیں سنائی جارہی ہیں آج وہ سب جوشیلے انقلابی کارکنان کدھر ہیں؟ آتے باہر اور جس طرح کبھی غیبی اشاروں پر دھرنے سجائے جاتے تھے، آج آئیں اور بیٹھیں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے پر لیکن 9مئی کے بعد ان سب کی خود کھلاڑی نے جس طرح تذلیل کی ہے۔ اس کے بعد وہ بیچارے مار کھانے کیوں نکلیں۔ الیکشن کے حوالے سے ہمارے جن احباب کو ہنوز شبہات ہیں، وہ جمع خاطر رکھیں۔ 8 فروری زیادہ دور نہیں، انہیں دن کو تارے دکھائی دیں نہ دیں رات کو ضرور نظر آجائیں گے۔