یہ اسیری بھی کیا اسیری ہے

مقبولیت کا خمار ہو کہ شہرت کا بخار، ہمارے ملک میں گردن توڑ بخار سے زیادہ خطرناک بلکہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔ قائد اعظم، قائد ملت، قائد عوام، محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بے نظیر بھٹو ہر کسی لیڈر کو اپنی شہرت و مقبولیت کی قیمت چکانا پڑی ہے۔

حیرت انگیز طور پر قیمت چکانے والے سادہ پوش لوگ تھے جن کی اکثریت نے عوامی اکثریت کی حمایت یا نمائندگی کے سراب زار میں سرگرانی کی اور بادِ صرصر کے تند و تیز طوفانی تھپیڑوں کی اذیت کی نذر ہوگئے۔ جبکہ خوش پوش طبقے کے لوگوں نے سادہ لوح افراد سے ہمیشہ ان کی مقبولیت کا خراج وصول کیا۔ یہ خراج ویسے تو حیثیت ومرتبہ دیکھ کر وصول کیا جاتا تھا مگر بعض اوقات، بندے کی اوقات بھی درجہ بندی کا فیصلہ کروا دیتی تھی۔ اس زُمرے میں آنے والے لوگ سماجی اعتبار سے کسی شمار قطار میں نہیں آتے تھے لیکن مرن دا شوق انہیں شہر کی طرف کھینچ لاتا۔ اور یہ بات تو عالمی سچائی ہے کہ شوق دا کوئی مُل نہیں ہوتا۔

ایسے انمول ہیرے جب تک کوئلے کی کان میں رہیں تب تک محفوظ و مامون رہتے ہیں لیکن اگر وہ پہاڑ کی کان سے کسی حسینہ کے کان تک کے سفر کا سوچیں بھی تو انہیں نانی یاد کرانے والے بلا توقف روک لیتے ہیں۔ نانی کی وراثت میں سے بُندے، چوڑیاں، کڑے ملیں نہ ملیں، ہتھ کڑیاں اور بیڑیاں ضرور حصے آ جاتی ہیں۔ اور یہ حصہ بقدر جثہ نہیں بلکہ بقدر غصہ ہوتا ہے۔ زبردست کا غصہ،  کتنی شدت اور دورانیے کا ہو، یہ تو زیر دست کی قسمت اور نصیب پر منحصر ہے۔ نصیب جو قلعے کے زندان جیسا تنگ و تاریک بھی ہوسکتا ہے اور لونڈی بنا کر لائی گئی کسی جمال یافتہ پری وش کی تقدیر کی طرح اجلا بھی۔

ہمارے زیادہ تر لوگوں کا سفر تو کُوئے یار سے سوئے دار تک کا ہی رہا ہے جس کی راہ میں اور بھی بہت سخت مقام آتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ آنکھ کا تارا ہوتے ہیں۔ وہ اسیر بھی ہوجائیں تو انہیں خصوصی مراعات اور سہولیات کی بلا توقف فراہمی اسیری کا احساس تک نہیں ہونے دیتی۔ فرق صرف یہ ہوتا کہ وہ اپنے محلوں میں جس طرح پہلے من مرضی سے رہتے تھے، انہیں محلوں میں سرکار کی حسبِ منشا رہنا پڑتا ہے۔ دنیاوی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پہلے بھی وہ سرکاری خزانے پر ہی بوجھ ہوتے تھے، دورانِ اسیری سرکار پر یہ بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ کہ حفاظتی حصار میں اہلکاروں کی نفری میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ طبی سہولیات کے لئے سرکاری ڈاکٹر اور معاون عملہ ہمہ وقت تیار رکھنا پڑتا ہے۔ گھر کے اندر شاہانہ طرز زندگی کے کرو فر میں یوں بہتری آجاتی ہے کہ ذاتی خرچے پر رکھے گئے خدمت گاروں کے ساتھ سب جیل کا مستعد عملہ بھی میسر آجاتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں دشمنوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ذاتی حفاظتی گارڈز کی جگہ سرکاری فورسز کا جو عملہ پہلے سے ہی متعین ہوتا ہے، اس کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔

خفیہ کیمروں کی آنکھ سے پہلے کوئی کب بچا ہوتا ہے جو عشرت کدے کے سب جیل قرار پانے کے بعد اس پر اعتراض کیا جائے! اعتراض تو ان بے بس و لاچار لوگوں کی طرف سے آتا ہے جن کی آزادی عالمی استعمار کی پروردہ حکومتوں نے غصب کر رکھی ہے، جنہیں زندگی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے بھوک کی شدت نہیں اپنی جیب کی حالت دیکھنا پڑتی ہے۔ یہ احساس ہی جن کی بھوک مار دیتا ہے کہ انہوں نے اگر شکم سیر ہو کر کھا لیا تو بچے بھوکے رہ جائیں گے۔ اور سب اہلِ خانہ نے اگر پیٹ بھر لیا تو پہلے سے ہی ہلکی جیب بالکل ہلکی پھلکی ہو جائے گی۔ یہ بھی کوئی دیسی گھی میں پکے دیسی مرغ و دیسی بکرے کے گوشت کی عیاشی کے نتیجے میں نہیں بلکہ دال سبزی کے ساتھ زہر مار کی گئی ملاوٹ شدہ آٹے کی روٹی پر آنے والے اخراجات کی وجہ سے ہوگی۔ کیونکہ آج کے دور میں بازار سے دستیاب آٹے کی روٹی جیل میں قیدیوں کو ملنے والے آٹے کی روٹی سے ابتر ہوتی ہے، جسے دال سبزی کی ہانڈی بنا کر پاپی پیٹ میں اتارنا سفید پوش حساس والدین کے نزدیک پاپ سے کم نہیں جنہیں ادراک ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو زہر کھلا رہے ہیں۔

کیونکہ غربت کے مارے گھروں میں پکانے کے لئے نہ صاف ستھری دال سبزی لا سکتے ہیں نہ ہی معیاری آٹا اور گھی، جسے پکانے کے لئے صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ مہنگی سوئی یا ایل پی جی گیس جلاتے ہوئے خاتون خانہ خود کتنی جل بھن رہی ہوتی ہے، اس کا اندازہ بچوں کو کھانا برتاتے ہوئے انہیں بلاوجہ ڈانٹنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ بچے ماں کی طرف سے دی گئی ایک ڈیڑھ روٹی اور تھوڑے سے سالن پر ہی اکتفا کرنا سیکھ لیں۔ عام آدمی کو درپیش اس بدتر صورت حال کے ذمہ دار حکمران ٹولے کے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اقتدار میں آنے کی باریاں باندھ رکھی ہیں۔ اقتدار سے نکلنے والے آوازہ تو لگاتے ہیں کہ کُوئے یار سے نکلے تو سُوئے دار چلے مگر یہ آوازہ ان خاک نشینوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے لگایا جاتا ہے جو لُوٹ کا مال ٹھکانے لگانے کے لئے اقتدار میں وقفہ لینے والوں کے فریب میں آجاتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ لوگ تو طے شدہ مدت کے بعد اگلی باری لینے پویلین (جیل) سے تازہ دم ہو کر نکلتے ہیں۔

اس عرصے میں پویلین میں بیٹھ کر عیاشی کرنے والے باہر کی دنیا تک اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم کی جعلی کہانیاں اپنے کارندوں کو ڈکٹیٹ کرواتے رہتے ہیں تاکہ ان کا بھی دانہ پانی چلتا رہے اور یہ بھی لوگوں کے ذہنوں پر مسلسل سوار رہیں۔ کون نہیں جانتا کہ تھوڑے بہت اثرو رسوخ والا ملزم، مجرم قرار پانے پر جیل بھی آتا ہے تو جیلر سے بھی زیادہ رعب و دبدبہ کے ساتھ پُر تعیش زندگی کے مزے لُوٹتا ہے۔ تھوڑی بہت کسر محسوس کرے تو اپنے محل کو ہی سب جیل قرار دلوا لیتا ہے۔ تازہ ترین مثال بشری بی بی کی ہے جو چودہ سال کی سزا پانے کے چند گھنٹوں بعد ہی بنی گالا کے محل میں بھیج دی گئی ہیں۔ دیکھئے ان کے مجازی خدا کو اپنے پاس بلانے کے لئے لگایا جانے والا چلہ کب ثمر بار ہوتا ہے۔

ایک نظم پڑھ لیجئے جو خاک نشینوں کی حالت زار کے تناظر میں ہے:

کُنجِ زنداں

علمِ قیافہ کے ماہر نے

آنکھوں کی ترتیب بدلی ہوئی دیکھ کراشارا کیا

کہ کانوں کے پیچھے لگی آنکھ موتیا بند ہے

اور گردن

جو طوقِ ہزیمت سے جھکتی چلی جا رہی ہے

اس کے حلقوم میں ایسے کانٹے چبھے ہیں

کہ جو سنگِ خارا سے کچھ اور بڑھ کے اذیت رساں ہیں

صدا کار اپنی ہی آواز سے ڈر گیا ہے

صامت کے سوزن سے

خاموش ہونٹوں کو ٹانکے لگا یہ دہن

کُنجِ زنداں بنا ہے

کہ جس میں زباں قید ہے

تکلم بھی محبوس ہے

اور کانوں کے پردوں سے آواز کا داخلہ بند ہے

سوچوں،خیالوں کے رستوں پہ ناکے لگے ہیں

کہ الفاظ جملوں کی لڑیاں بنانے سے پہلے ہی دھر لیں

اور ان سارے حرفوں پہ

تشکیلِ معنی کی تعزیر جاری کریں

جن کی جڑت سے

اوراقِ سادہ پہ نظمیں جنم لے رہی ہیں

وہ نظمیں کہ جن سے

بصیرت کی چنگاریاں پھوٹتی ہیں

جو نظمِ جہاں کا یہ بوسیدہ سسٹم

جلانے کو لپکی پڑی ہیں

حروفِ تہجی کی ترتیب میں

ایسا کوئی خلا ہی نہیں ہے

کہ جس میں کسی حرفِ نو کے سمانے کی گنجائش ہو!