ہمارے اقتدار کی تکون اور عوام؟

دنیا بھر کی جمہوریتوں کا چلن اس یونیورسل اصول پر ہے کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“۔ لیکن اس تضادستان میں طاقت کا سرچشمہ وہ ہے جس کے ہاتھ میں لٹھ یا ڈنڈا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ڈنڈا پیر ہے بگڑے تگڑے لوگوں کا۔

اگر کسی کو شک ہے تو بے شک 9 مئی والوں سے پوچھ لے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری پوری سیاست لٹھ برداروں کی خوشنودی کے لیے بڑھ چڑھ کر مسابقت میں ہے۔ وہ بھی جوان کے تازہ بہ تازہ منظورنظر ہیں، جو اس مقتدر دیوتا کا طواف کرتے ہوئے گنگنا رہے ہیں کہ ”قسمت سے مل گئے ہو تو اب جدا یا خفا نہ ہونا“۔ دوسری کیٹگری میں وہ ہیں جو منظور نظر ہونے کے لیے دن رات کا فرق کیے بغیر طرح طرح کے پاپڑ بیل رہے ہیں اور پیشروؤں سے بڑھ کر کوئے یار کا طواف کرتے ہوئے ہنس ہنس کر گا رہے ہیں ”جینا تیری گلی میں ہے مرنا تیری گلی میں“۔ اور جو رائندہ درگاہ ہو چکے ہیں، ٹریجڈی گیت گنگنا وہ بھی ایسے ہی رہے ہیں ”غریب جان کر ہم کو نہ ٹھکرا دینا، تمہی نے دردیا ہے تمہی دوا دینا“۔ یا یہ کہ”تمہاری نظر کیوں خفا ہو گئی، خطا بخش دو اگر خطا ہو گئی‘‘۔

ہمارے اس خطہ بدنصیب کے باسیوں نے اتنی بربادی کروا لی ہے لیکن اپنی جنونیت سے باز پھر بھی نہیں آرہے ہیں۔ شعور اور دانش سے شاید ان کو خدا واسطے کا بیر ہے۔ شاید اسی لیے ایک بہن کلبلا رہی ہے کہ میرے بھائی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہا اور سیانے یہ پوچھ رہے ہیں کہ بی بی اس ناہنجار کا ذہنی توازن ٹھیک تھا کب؟ اگرٹھیک ہوتا تو وہ جیسے تیسے بھی اقتدار کے سنگھاسن پر براجماں ہو گیا تھا تو کیا اس کے بعد ہی کچھ نہ کچھ عقل کو استعمال میں نہ لاتا؟ حوصلے سے کام لیتا اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف اپنی زبان کو لگام دیتا جبکہ اس نے تو اس سے بھی چار قدم آگے بڑھ کر اسی کو ”میوں میوں“ شروع کر دی۔ جس کی وہ بلی تھی اور خود کو بلی کی بجائے الیکشن والا نہیں سچ مچ کا جنگل والا شیرسمجھنا شروع کر دیا جو جسے چاہے چیر پھاڑ دے۔

اب وہ کس منہ سے اس نوع کی تڑیاں لگا رہا ہے کہ کارکنو! میرے لیے باہر سڑکوں پر نکلو جو امیدوار باہر نہیں نکلیں گے ان کے ٹکٹ تبدیل کر دوں گا۔ سچ ہی کہتے ہیں کہ رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔ ہمارے اقتدار کی تین تکونیں طاقت، عدالت اور سیاست اس وقت سرگرم عمل ‎ ہیں اور تینوں کی کارگزاری سے اس وقت میڈیا میں رونقیں لگی ہوئی ہیں۔ جن سطح بینوں کو انتخابی سرگرمیاں نہیں دکھتی تھیں، اب وہ بھی ان کے مظاہر بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں کی صورت ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ طاقتوروں نے بھی نوید سنا دی ہے کہ ان کی تعینات کردہ کوئیک رسپانس فورس دو لاکھ72 ہزاراہلکاران پر مشتمل ہوگی۔ یہ آرمڈ فورس انتخابی حلقوں میں فوری سرگرمی دکھائے گی کسی کو ایسی جرات یا اجازت نہیں دی جائے گی کہ انتخابی کھلواڑ کرے یا قانون کو ہاتھ میں لے۔

 ‎ جہاں تک ہماری عدالت عظمیٰ کا معاملہ ہے وہ اپنے قبلے کی سمت درست کرتے ہوئے اس قدر صراط مستقیم پر شاید کبھی نہ تھی جس قدر اب ہے۔ ہمارے موجودہ قاضی القضا کی سخت جانفشانی کا فیضان ہے کہ پہلی مرتبہ سپریم جوڈیشری پر مقدمات کا نیا بوجھ بڑھنے کی بجائے پہلا بوجھ کم ہوا ہے۔ قاضی صاحب فرما رہے ہیں کہ عوام کے پیسے سے چلنے والا ہر ادارہ عوام کو جوابدہ ہے، اس لیے معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرما رہے ہیں کہ محتاط چلنا ہوگا کہیں اداروں میں آئینی توازن خراب نہ ہو جائے۔ البتہ سابقہ حکومت میں ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر براجماں رہنے والا قاسم سوری جس طرح آئینی بحران کی وجہ بنا اس کے خلاف ضرور کاروائی ہونی چاہیے۔ اسے بلا کر یہ پوچھا جانا چاہیے کہ جب آئین واضح ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اسمبلی کسی صورت نہیں توڑی جا سکتی، تو اس نے کس بنیاد پر غیر ملکی سازش کے جھوٹے اور جعلی افسانوں کو اندھوں کی طرح استعمال کیا اور ننگی آئین شکنی کرتے ہوئے عوامی امنگوں کے ترجمان ادارے کا کریا کرم کر ڈالا۔ جبکہ بہ حیثیت ممبر قومی اسمبلی خود اتنے برسوں سے ایک ناجائز و ناروا سٹے پر چل رہا تھا۔

جس غیر ملکی سازش کو بنیاد بنا کر اتنا بڑا کھلواڑ کیا گیا، اس کی قلعی تو حال ہی میں اس سائفر کے خالق یا تحریر کرنے والے پاکستان کے امریکا میں سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ اسد مجید خان نے آفیشل سیکرٹریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں یہ کہتے ہوئے کھول دی ہے کہ میرے بھیجے گئے سائفر میں سازش یا تھریٹ جیسے الفاظ کا کوئی ریفرنس موجود نہ تھا۔ البتہ بعد ازاں اس سائفر کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے جس طرح استعمال کیا گیا، اس سے پاک امریکا تعلقات یا سفارت کاری کو دھچکا لگا۔ اڈیالہ جیل میں جب ڈاکٹر اسد مجید خان اپنا بیان ریکارڈ کروا رہے تھے تب پہلے تو ہمارے سابق کھلاڑی اس کی تصدیق میں بلے بلے کرتے رہے لیکن جب اصل سچائی بیان کی تو مخالفانہ بولنے لگ گئے۔ اسد مجید نے یہ بھی بتایا کہ 7مارچ کو ڈونلڈ لو سے پاکستانی مشن کی ملاقات ہوئی اور فریقین کو معلوم تھا کہ منٹس آف دی میٹنگ ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ میں نے اس گفتگو کو سائفر ٹیلی گرام کی شکل میں 8 مارچ کو وزارت خارجہ میں ارسال کیا اور 25 مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی مجھے بلایا گیا جہاں متفقہ طور پر سائفر کے ڈیمارش کا فیصلہ ہوا۔

انہی دنوں کی بات ہے جب درویش نے ڈاکٹر اسد مجید سے استفسار کیا کہ ہمارا کھلاڑی تو کہہ رہا ہے کہ وہ سائفر کے ساتھ کھیلے گا تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ آپ کا کھلاڑی کس کس کے  ساتھ نہیں کھیل رہا ہے۔ تب اس نوع کے سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں کہ ہمارا کھلاڑی ایسا کون سا تیس مارخاں ہے جسے ہٹانے کے لیے امریکا جیسی سپر پاور کو سازشیں کرنا پڑیں۔ محض اپنا جثہ بڑا دکھانے کے لیے دور دراز کی لایعنی کوڑیاں لاتے ہوئے ایک فضول قسم کا فسانہ گھڑا گیا اور نہ صرف اپنے منتخب اداروں کو توڑ دیا گیا بلکہ پاک امریکا تعلقات میں ایک نوع کی بدگمانی ڈال دی گئی۔ یقیناً یہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملک دشمنی کی حرکت تھی۔ ہمارے چیف جسٹس قاضی صاحب کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ کھلی آئین شکنی کرتے ہوئے اسمبلی توڑنے جیسا شدید اقدام اٹھانے والے شخص کو انصاف کی عدالت میں بلا کر پوچھا جانا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس بھیانک کھیل میں سوری اکیلا نہیں، اس کا پارٹی چیئرمین تو رہا ایک طرف اس صدر کو کیا کہا جائے جس نے اس غیر آئینی اقدام کی فوری تائید کرتے ہوئے عمل درآمد بھی کروا دیا۔

اگرچہ سپریم جوڈیشری کے پانچ معزز ججز نے غیر آئینی اقدام کو ریورس کر دیا لیکن اس چیف کے متعلق قانون کیا کہتا ہے جس نے قطعی ناروا طور پر بلوچستان ہائیکورٹ کے واضح فیصلے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ہارے ہوئے شخص کو نا انصافی سے اتنے برس ممبر قومی اسمبلی بنائے رکھا۔ باایں حالات یہ امر واضح ہے کہ یہاں آئیڈیل جمہوریت نہ کبھی آئی ہے اور نہ شاید آئے گی۔ لہذا ہم نے ان حقائق اور مجبوریوں کے ساتھ ہی آگے چلناہے۔ یہاں طاقت اور عدالت کے ساتھ ساتھ ہی سیاست نے بھی آگے بڑھنا ہے۔ ہماری جمہوری بہتری محض اس صورت ہو سکتی ہے جب یہاں سیاست اپنی پوری طاقت سے اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر چلنے کے قابل ہو سکے۔ یہاں تو طاقتوروں نے اپنے مفادات کی خاطر دو تہائی اکثریت والی عوامی جمہوری و سیاسی حکومتوں کو چلتا کیا، مانگے تانگے کی بیساکھیوں والے سیاسی اناڑیوں، مداریوں یا بچہ جمہوروں کی کیا حیثیت ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ 8 فروری کو دو تہائی اکثریت والی مضبوط سیاسی و جمہوری حکومت قائم کرنے کے لیے ہمارے عوام اپنا کردار ادا کریں۔ وہ بہروپیوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آئے بغیر مہر لگاتے وقت محض ملک و قوم کے مفاد کو مقدم رکھیں۔ کئی مفادات کے پجاری محض اپنی انتخابی جیت کے لیے عوام کو جعلی سبز باغ دکھانے کی ذہنیت رکھتے ہیں جبکہ عوام کا فرض ہے کہ وہ ہر سیاست دان کی سابقہ کارکردگی ملاحظہ کرتے ہوئے حمایت یا مخالفت کرے۔