پنجاب میں نمونیا سے 9 روز میں 100 سے زائد بچے جاں بحق
پنجاب میں نمونیا کے سبب رواں سال کے دوران مرنے والے بچوں کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی جب کہ گزشتہ 9 روز کے دوران 100 سے زائد بچے دم توڑ گئے۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران نمونیا کے 764 نئےکیسزرپورٹ ہوئے۔ لاہورمیں ایک روز کےدوران 178 نئے کیسزسامنے آئے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں رواں سال نمونیا سے اب تک 18 ہزار804 کیسزسامنےآئے جس کے باعث 303 اموات رپورٹ ہوئیں۔
پنجاب میں نمونیا نے خوفناک صورتحال اختیار کرلی ہے جہاں اس بیماری کے باعث اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ 9 روز کے درمیان 100 سے زائد بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نمونیا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ رواں سال موسمِ سرما میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسموگ بھی ہے۔ نمونیا پھیپھڑوں کے اندر انفیکشن کو کہا جاتا ہے۔ نمونیا کے زیادہ تر کیس وائرس کی وجہ سے ہوتے ہں اور یہ نزلہ و زکام کی علامات کے بعد ظاہر ہو سکتا ہے۔ نمونیا ہلکا یا سنگین ہو سکتا ہے، عام طور پر 5 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔
نمونیا اگر کسی صحت مند انسان کو ہو تو وہ اس کا مقابلہ با آسانی کرسکتا ہے مگر بچوں کے لیے اس سے نمٹنا بعض اوقات انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ بچوں کو نمونیا ہونے کی وجوہات میں انہیں دودھ پلانے کی کمی، آلودگی، غذائیت کی کمی، ٹھنڈ میں زیادہ دیر تک رہنا اور کمزور مدافعتی نظام شامل ہے۔