پاکستان کے ا نتخابات اور آزاد کشمیر میں درپیش سیاسی امتحان

پاکستان کی قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں ۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی انتخابی مہم میں ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہوئے  مرکز میں حکومت بنانے کی کوشش میں ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی سندھ اور مسلم لیگ ن پنجاب میں اپنی اپنی حکومت بنانے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان سے محرومی کے بعد اپنے لیڈر عمران خان کی دومقدمات میں قید اور نااہلی کی سزا کی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار الگ الگ انتخابی نشانات کے ساتھ انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے زیر عتاب آنے کے بعد تحریک انصاف سے الگ ہو کر استحکام پاکستان کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنا کر انتخابات لڑنے والوں سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں ہی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ انتخابات میں ان کے کامیاب امیدوار حکومت بنانے کے لئے ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ تاہم اس بات کا انحصار اس بات پہ ہے کہ انتخابات میں کون سی جماعت قومی اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ آئندہ حکومت کے لئے کس کا ساتھ دینے کا انتخاب کرتی ہے۔

مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے انتخابات کے حوالے سے اپنے اپنے منشور کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں سب سے طویل انتخابی منشور مسلم لیگ ن کا ہے جس میں مختلف شعبوں کی پالیسی کے موضوعات کی ایک طویل فہرست شامل ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنی منشور کمیٹی کے قیام کے 2مہینے25دن کے بعد27جنوری کو انتخابی منشور کا اعلان کیا اور اس انتخابی منشور کو عوام تک پہنچانے کے لئے دو ہفتے سے بھی کم کا وقت میسر ہے۔ جس طرح جب انسان کا  پیٹ خالی ہو تو اس کی اولین ترجیح پیٹ بھرنا بن جاتی ہے، اسی طرح عوام اس بات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان پر موجود شدید معاشی دباؤ کی صورتحال کس طرح بہتری کی جانب مائل ہو سکتی ہے۔

ڈالر تقریبا پونے تین سو، پیٹرول تقریباً پونے تین سو روپے فی لیٹر، بجلی و گیس کی گراں قیمتیں اور ان میں مسلسل اضافہ، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شہریوں کو کھانے کے لالے پڑ چکے ہیں۔ آخر نئی حکومت اس صورتحال میں کیسے بہتری لائے گی جب کہ آئی ایم ایف  کی شرائط بھی مسلط ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف تجربے اور رہنمائی کے حوالے سے اگلے وزیر اعظم کے لئے بہترین انتخاب ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہونے کی صورت اس کی معاشی ٹیم وہی ہوگی جو  پی ڈی ایم  حکومت کی رخصتی کے وقت تھی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت بلاشبہ کسی بھی دوسری جماعت سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی تاہم اس کا سب سے بڑا متحان عوام کو ذلت آمیز معاشی دباؤ سے نجات دلانے کا ہی ہو گا۔

آزا د کشمیر کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما بھی اپنی اپنی جماعت کی کامیابی کے لئے پاکستان کے مختلف حلقوں کے دورے کر رہے ہیں۔ تین چار دن پہلے مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہوئے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سیکرٹری جنرل طارق فاروق چودھری اور سنیئر نائب صدر مشتاق منہاس بھی موجود تھے۔ یوں مسلم کانفرنس کی طرف سے  پاکستان کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی حمایت کا اعلان تو کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا مسلم کانفرنس کی یہ حمایت آزاد کشمیر میں بھی قائم ہوئی ہے؟

آزاد کشمیر میں اس وقت سب سے بڑا پارلیمانی سیاسی گروپ وزیر اعظم چودھری انوار الحق کی سربراہی میں قائم ہے جنہوں نے تحریک انصاف آزاد کشمیر سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے  نئی حکومت کے قیام کے لئے ایک گروپ کی شکل اختیار کی ۔ چند ہفتے قبل تک ایسی اطلاعات سامنے آتی رہیں کہ آزادکشمیر میں وزیر اعظم چودھری انوار الحق کی سربراہی میں ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی جائے گی لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق اور ان کا سیاسی پارلیمانی گروپ پاکستان کے انتخابات میں کس سیاسی جماعت کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ ایک اہم معاملہ ہے کیونکہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے اثرات آزاد کشمیر حکومت پہ بھی مرتب ہوں گے۔

اب تک تو معاملات کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوئے بغیر چلتے رہے ہیں لیکن اب وہ وقت قریب آ چکا ہے کہ جب وزیر اعظم چودھری انوا رالحق اور ان کے پارلیمانی سیاسی گروپ کو  اس بات کا انتخاب کرنا ہے کہ وہ پاکستان کی کس سیاسی جماعت کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی اتحادی حکومت میں شامل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے لئے بھی امتحان کا وقت قریب آ چکا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں سے کسی ایک کی حکومت بنے گی اور دوسری جماعت اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ اس صورتحال میں آزاد کشمیر کی اتحادی حکومت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا بدستور شامل رہنا، سیاسی اور اخلاقی حوالے سے بھی مشکل ہو جائے گا۔