سابق اور موجودہ شوہر کی لڑائی کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 02 / فروری / 2024
غیر شرعی نکاح کیس میں دورانِ سماعت بشریٰ بی بی، جن کی شہرت پنکی پیرنی کے نام سے ہے، ان کے سابق شوہر خاور مانیکا اور موجودہ شوہر جنہیں ان دنوں بانی پی ٹی آئی بولاجاتا ہے آپس میں لڑ پڑے۔
پچھلے بنچ پر بیٹھی بشریٰ بی بی بھی لڑائی میں کود پڑیں اور اپنے سابق شوہر کو لعن طعن کرتی رہیں۔ سابق شوہر خاور مانیکا نے موجودہ شوہر سابق کھلاڑی پر الزامات کی بھرمار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شیطان شخص ہے اس نے میرا ہنستا بستا گھر تباہ کردیا۔ بشریٰ بی بی کی بے وفائی سے میری ایک بیٹی کو طلاق ہوگئی، ایک بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر ری ہیبلیٹیشن سنٹر میں زیرِ علاج ہے۔ دونوں کے درمیان ناجائز تعلقات 2014 کے دھرنے سے شروع ہوئے۔ یہ سب سے پہلے بطور مرید دم کروانے ہمارے گھر آیا تھا۔ میں بے بس تھا اس لیے خاموش رہا۔
خاور مانیکا نے اپنی سابق بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچے سوال کرتے تھک گئے ہیں مگر تم نے جواب نہیں دیا۔ چھوٹی بیٹی رات کو اُٹھ اُٹھ کر روتی ہے۔ تم لوگوں نے میرا گھر اور میرے بچے برباد کردیے۔ بانی پی ٹی آئی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمہیں یہ سب چھ سال بعد کیوں یاد آیا ہے؟ عدالت قرآن منگوائے ہاتھ رکھ کر حلف دیں گے۔ خاور مانیکا بھی ہاتھ رکھے میں نے تو بشریٰ کو نکاح کے دن دیکھا۔ اس پر خاور مانیکا نے کہا تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خدا سے ڈرو۔ تم نے میرا گھر برباد کردیا۔ تم سے نہیں جج سے بات کررہا ہوں۔ میں قرآن پر حلف اُٹھانے کو تیار ہوں۔
اس پر جج نے کہا کہ اگر یہ قرآن پر حلف دیتا ہے تو آپ لوگوں کا حقِ جرح ختم ہوجائے گا۔ اس پر سابق کھلاڑی نے کہا کہ نہیں جرح ضروری ہے۔ انٹی کرپشن کی حراست میں اس کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا ہے۔ ایک وکیل نے خاور مانیکا کو مارنے اور عدالت سے باہر پھینکنے کی دھمکی بھی دی اور سابق کھلاڑی کی بہنوں نے جملہ کسا کہ ”یہ کیا گند ہے؟“۔ جس پر سابق شوہر نے کہا کہ گند تمہارے بھائی نے کیا ہے، تمہاری نسل ہی گندی ہے۔ دوران
متذکرہ بالا تمام باتیں ہمارے قومی میڈیا میں صراحت کے ساتھ چھپ رہی ہیں۔ کوئی امر مخفی نہیں رہا۔ خاورمانیکا کے پرانے گھریلو ملازم لطیف کے علاوہ سابق کھلاڑی کے قریبی ساتھی عون چوہدری کے بیانات بھی عدالتی ریکارڈ پر آچکے ہیں۔ اور ان پر طویل ترین جرح بھی ہوچکی ہے۔ دورانِ عدت نکاح کے ریفرنس سے دس دس گھنٹے طویل عدالتی کارروائی ہورہی ہے۔ اس سب کا کیا نتیجہ نکلے گا اور کس کو کیا سزا ہوسکتی ہے۔ اس پر آنے سے پہلے یہ درویش دورانِ عدت نکاح کے قانونی پہلو کی وضاحت چاہتا ہے۔
کیونکہ ہمارے میڈیا میں پیہم جس نوع کی بحثیں آرہی ہیں، خیال تھا کہ ہمارے روایتی مذہبی حلقوں کی طرف سے ضرور سوالات اٹھائے جائیں گے مگر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ درویش ملکی عائلی قوانین یا فیملی لاز پر نہ صرف باریک نظر رکھتا ہے بلکہ طویل برسوں تک سینکڑوں یونین کونسلز میں بحیثیت چیئرمین مصالحتی کونسل ان گنت مقدمات کو سنتا اور ان پر فیصلے صادر کرتا رہا ہے۔ اور یہاں یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ ہمارے ملکی قانون میں عائلی ضوابط کے مطابق طلاق کا ایک طریقِ کار طے کردیا گیا ہے جو امیر غریب طاقتور یا کمزور ہر پاکستانی کے لیے یکساں ہے۔ اگرچہ ہمارے علما میں اس حوالے سے فقہی اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ اور وہ 1961 میں نافدالعمل ہونے والے فیملی لاز پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے قوانین میں ان اعتراضات یا تحفظات کی کوئی اہمیت اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہمارا عائلی سسٹم رائج الوقت فیملی لاز کا پابند ہے، جس کے مطابق کوئی بھی شخص جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے، چاہے وہ ایک ایک کرکے دے یا تینوں طلاقیں یکبارگی دے جنہیں طلاق مغلظہ قرار دیا جاتا ہے۔ فقہ حنفی کی رو سے وہ نافذ العمل ہیں۔
ہمارے عائلی قوانین ہر دو طریقوں کے باوجود کسی بھی طلاق کو فوری طور پر نافذ العمل تسلیم نہیں کرتے۔ اس کے لیے تین طہر کی قرآنی ہدایت کے مطابق تین ماہ کی شرط رکھ دی گئی ہے۔ یعنی کوئی بھی طلاق چاہے یکبارگی کیوں نہ ہو، ان کا نفاذ بہرصورت نوے دن پورے ہونے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ اس دوران چاہے ایک دن قبل 89 ویں دن ہی صلح ہوجائے تو طلاق کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت عائلی قوانین میں مصالحتی کونسل کی تشکیل کی گئی جس میں عورت کا ولی اور مرد کا نمائندہ بھی شامل ہوتا ہے۔ مصالحتی کونسل کا چیئرمین فریقین کو پوری طرح سننے کے بعد صلح صفائی کروانے اور فریقین کی مرضی سے طلاق کو ختم کرنے کا استحقاق رکھتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں نوے روز سے پہلے طلاق کو طلاق نہیں سمجھا جاسکتا اور درویش اس حوالے سے قرآن، سنہ اور تمام فقہی سکولز آف تھاٹ کے اختلافی نقطۂ ہائےنظر پر تفصیلی بحث کرسکتا ہے جس کی اس کالم میں گنجائش نہیں ہے۔ ایوبی دور سے نافذ العمل ہمارے یہ عائلی قوانین بالخصوص خواتین کے حوالے سے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں اور ان میں مزید اصلاح کی گنجائش بھی موجود ہے کیونکہ یہ قوانین محض نکاحوں یا طلاقوں تک محدود نہیں ہیں۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ خاور مانیکا نے اپنی بیوی بشریٰ بی بی یا پنکی پیرنی کو طلاق 14نومبر کے روز دی تھی طلاق نامے پر یہ تاریخ ثبت ہے۔ یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ اس کا اندراج یونین کونسل میں کس تاریخ کو ہوا؟ اگر اسی تاریخ کو ہوا تب بھی اس کے مؤثر ہونے کی تاریخ 14فروری سے قبل ممکن نہیں ہے۔ اس دوران ہمارا قانون مرد کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے۔ اور بیوی کو قطعی یہ حق نہیں ہے کہ وہ طلاق مؤثر ہونے یا اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیے بغیر دوسرے مرد سے شادی رچالے۔ اگر وہ ایسے کرے گی تو ہمارے عائلی قوانین کے مطابق نکاح کے اوپر نکاح یا ناجائز تعلق کی مرتکب گردانی جائے گی۔
رہ گیا عدت کا سوال وہ ایک قطعی مختلف اور الگ بحث ہےاور اس کی مدت کا فقہی تعین بھی الگ سے ہے جس کی قانونی بحث یہاں سرے سے ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔ نیز یہ بحث شرعی تقاضوں کے حوالوں سے نہیں ملکی قوانین کے حوالے سے ہونی چاہیے، جن کی رو سے یہ امر واضح ہے کہ یہ نکاح جو یکم جنوری کو کیا گیا اس کی گنجائش 14 فروری سے قبل نہ تھی۔ سابق شوہر، سابق کھلاڑی پر ناجائز تعلقات یا زناکاری کا جو الزام لگارہا ہے، یہ بھی حدود کے ضمن میں نہیں آتا ہے۔ کیونکہ حدود کے کیس میں تزکیہ الشہود پر پورے اترنے والے عاقل بالغ مسلمان چار مردوں جیسی جو شرائط لگائی گئی ہیں، ان پر کوئی کیس پورا اتر ہی نہیں سکتا۔ اور نہ ہی زنا کی حد جاری ہوسکتی ہے۔ سوائے اس کے کہ فریقین اس کا اقبال و اقرار کرلیں جس سے وہ انکاری ہیں۔ بلکہ سابق کھلاڑی تو حلف اٹھارہا ہے کہ اس نے بشریٰ بی بی کا چہرہ تو دیکھا ہی نکاح والے دن ہے۔
حالانکہ نکاح کی خواہش اگر پہلے سے تھی تو شرع اس حوالے سے واضح ہے اور مرد کو اس حوالے سے ملنے یا دیکھنے کا حق دیتی ہے۔ اس ملک بدنصیب میں شاید ہی کوئی دیانتدار شخص ہو جوسابق کھلاڑی کے اس انوکھے دعوے کو اگرچہ وہ حلف پر ہے، تسلیم کرلے کہ اس نے اتنی ملاقاتوں کے باوجود اسے دیکھا تک نہ ہو۔ سابق کھلاڑی کی پوری زندگی پر نظر ڈالی جائے تو یہ دعویٰ مضحکہ خیز محسوس ہوگا۔ سابق شوہر نے ناجائز تعلقات کا جو الزام لگایا ہے، وہ اگرچہ حدود کے معیار پر پورا نہیں اترتا مگر تعزیر کے تحت شہادتوں کا جائزہ لیاجاسکتا ہے۔ ویسے دیکھاجائے تو سابق کھلاڑی اور پنکی پیرنی صاحبہ کو جتنی سزائیں بامشقت پہلے ہی سنائی جاچکی ہیں، وہ بھی کم نہیں ہیں۔ اس نوع کے مزید کیسز اٹھائے گئے تو بات سیتاوائٹ سے ہوتے ہوئے ٹیریان تک بھی جاسکتی ہے۔ لہٰذا پرہیز ہی بہتر ہے۔