عمران خان سائفر سے کھیلنا بند کریں!

تحریک انصاف کے  بانی چئیرمین عمران خان نے  ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن سے بھیجے  گئے  سائفر  میں  پاکستانی حکومت کے خلاف ایک غیر ملک  کی سازش کا انکشاف تھا۔’ میں نے اس وقت بھی متنبہ کیا تھا کہ اگر اس معاملہ پر شدید ردعمل نہ دیا گیا تو مستقبل میں کوئی بھی وزیر اعظم کسی بھی ملک کے سامنے خود مختاری سے کھڑا نہیں ہوسکے گا بلکہ پرویز مشرف کی طرح ا  یک  ہی فون پر ڈھیر ہوجائے گا‘۔

عمران خان نے ایکس پر ایک تازہ  پیغام میں ایک بار پھر  اپنے خلاف سائفر، توشہ خانہ اور عدت  کی مدت میں شادی کے مقدمات کو بے بنیاد،  گھٹیا اور سیاسی مقاصد سے ہراساں کرنے کا ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ  سائفر کیس کے علاوہ توشہ خانہ کیس میں بھی انہیں طول المدت سزائیں دی جاچکی ہیں۔ جبکہ عدت کیس پر اڈیالہ جیل میں سماعت جاری ہے۔  خیال کیا جارہا ہے کہ اس مقدمے میں بھی انہیں سزا دی جاسکتی ہے اور یہ فیصلہ  8 فروری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے آسکتا ہے۔

عمران خان کو تین مقدمات میں سزائیں ہوچکی ہیں۔   اگست میں ایک ٹرائل کورٹ نے انہیں توشہ خانہ  کے تحائف سے ہونے والی آمدنی  کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر تین سال قید کی سزا دی تھی جسے بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کردیا تھا تاہم اس عدالتی  حکم کو  ختم کرنے کی اپیل منظور نہیں کی  تھی۔   منگل 30 جنوری کو خصوصی عدالت نے انہیں اور شاہ محمود قریشی کو  سائفر کیس میں 10، 10 سال  قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں  قرار دیا کہ  دونوں نے بطور وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اپنے عہد کی خلاف ورزی کی۔ عمران خان نے سائفر وزارت خارجہ کو واپس نہیں بھیجا۔ سائفر کے معاملے سے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پراثر پڑا، جس سے دشمنوں کو فائدہ ہوا۔ پاکستان اور امریکا کے تعلق کو نقصان پہنچایا گیا۔  انہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت سزائیں دی گئیں۔

بدھ کے روز توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14، 14سال قید  اور 78 کروڑ روپے فی کس جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔   آج توشہ خانہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری ہو گیا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ’ملزمان نے فراڈ کے ذریعے پبلک پراپرٹی حاصل کی۔ بانی پی ٹی آئی  عمران خان اور بشریٰ بی بی نے وزیراعظم آفس کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک ارب 57 کروڑ 33 لاکھ 20 ہزار روپے کا مالی فائدہ حاصل کیا‘۔ دونوں فیصلوں میں ملزمان کی طرف سے عدم تعاون اور بدتمیزی کرنے اور وکلا کی طرف سے تعطل کے ہتھکنڈے اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔   عمران خان اس کے برعکس یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے وکلا کو  جان بوجھ کر جرح کرنے اور اپنا دفاع پیش کرنے کا حق نہیں دیا گیا کیوں کہ  سزائیں دینے کا فیصلہ پہلے ہی کہیں اور ہوچکا تھا۔  

ایکس پر تازہ بیان میں عمران خان نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں عدت کیس میں بھی سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ  یہ ہتھکنڈے عوام کو مایوس کرنے کے لیے اختیار کیے جارہے ہیں البتہ انہیں پریشان ہونے کی بجائے 8 فروری کو ووٹ کی طاقت سے ا ن حربوں کا جواب دینا چاہئے۔ ہر شخص کو    سنگین الزامات میں سزا پانے کے بعد اسے مسترد کرنے کا  حق حاصل ہے اور وہ اعلیٰ عدالتوں سے انصاف کا طالب ہوسکتا ہے۔ تاہم   اس وقت عمران خان پر ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے، بطور وزیر اعظم  حلف کی خلاف ورزی  اور سرکاری حیثیت کا فائدہ اٹھا کر کثیر وسائل حاصل کرنے کا الزام ثابت کیا گیا ہے۔ اس طرح عمران خان نے  ملک  سے اپنی  لازوال  وفاداری اور غیرمتزلزل ایمانداری کا جو تاثر قائم کیا تھا، اس پر بہر حال دھبہ لگ چکا ہے۔  انہیں اگر عدت کیس میں بھی سزا ہوجاتی ہے تو ان کی اخلاقی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان لگے گا۔

البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب تک  کسی مقدمہ کا حتمی فیصلہ نہ آجائے اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت  اس فیصلے کی توثیق  نہ کردے ، اس وقت تک  کسی شخص کو ان الزامات کا مرتکب قرار دینا  ناجائز اور بداخلاقی  ہوگی۔  البتہ  نواز شریف  کو احتساب عدالت سے سزا ملنے  کے بعد  سے عمران خان نے    سیاسی مخالفت میں  سخت ترین الفاظ استعمال کیے۔   ہائی کورٹ نے اگرچہ تمام الزامات سے  نواز شریف کو بری کردیا ہے لیکن عمران خان ان فیصلوں کو ویسے  ہی سیاسی فیصلہ سمجھتے ہیں جیسے وہ اپنے خلاف آنے والے عدالتی احکامات کو بے بنیاد اور   بیہودہ کہتے ہیں۔  عمران خان کے سیاسی فلسفہ کی بنیاد   یہ اصول ہے کہ ان کے سوا باقی سب بے ایمان اور ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والے ہیں۔ ان کے اسی رویہ نے ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ اگر گزشتہ سال اقتدار سے محروم ہونے کے بعد وہ کسی سیاسی لیڈر کی طرح پارلیمانی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرتے اور قومی اسمبلی سے استعفے نہ دیتے اور بعد میں پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتیں توڑ کر غیر ضروری بحران پیدا کرنے کی کوشش نہ کرتے تو شاید انہیں  اور ان کی پارٹی کو موجودہ پریشان کن صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

عمران خان نے سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے لیے مفاہمت  اور متوازن طریقہ اختیار کرنے کی بجائے دشنام طرازی اور تصادم کا  راستہ اختیار کیا۔  وہ  جب تک یہ کام  سیاسی لیڈروں کے خلاف کرتے رہے، اس وقت اسے سیاسی مہم جوئی سمجھ کر برداشت کیا جاتا رہا لیکن گزشتہ سال کے دوران میں انہوں نے  فوج  پر براہ راست الزام تراشی کا  آغاز کیا  ۔ اپنے کارکنوں میں پھیلائی گئی اسی نفرت  و  ہیجان کے باعث بالآخر  سانحہ9 مئی ہوگیا۔ عمران خان نے اس واقعہ کی سنگینی کوسمجھنے اور اپنی پارٹی کو سیاسی طور سے بچانے  کی بجائے الٹا فوج پر  الزام تراشی شروع کردی کہ  9 مئی کا واقعہ  جعلی فلیگ آپریشن تھا اور اس کا  مقصد  تحریک انصاف   کوپھنسانا تھا۔  گویا وہ اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کرنے اور اصلاح احوال کی بجائے فوج پر  الزام لگا رہے ہیں کہ اس نے خود ہی لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس  پر حملہ کروایا،  متعدد دوسری دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچایا اور شہدا کی یادگاروں  کی بے حرمتی کی۔ یہ ایسا  مؤقف ہے جو مسلسل عمران خان کی سیاسی و قانونی مشکلات میں اضافہ کرتا رہے گا۔ ایسی صورت میں نہ تو کوئی سیاسی پارٹی  ان کی حمایت کرسکتی ہے اور نہ ہی عمران خان کسی بھی عدالتی فورم پر اپنے دعوؤں کو شواہد و دستاویزات کے ساتھ ثابت کرسکتے ہیں ۔  فوج کے خلاف سیاسی مقبولیت کے لیے بے بنیاد بیان بازی سے عمران خان سمیت کوئی بھی سیاست دان فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

ملکی سیاست میں فوج یا اس کے اداروں کی مداخلت ایک اصولی سیاسی و آئینی بحث ہے جس کا  سانحہ 9 مئی جیسے کسی وقوعہ سے کوئی تعلق قائم  نہیں کیا جاسکتا۔ اس بحث کو  سیاسی و پارلیمانی   فورمز پر اٹھانے اور  اصلاح احوال  کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن  قومی دفاعی ادارے کی کسی غلط حکمت عملی کو بنیاد بنا کر ، اس کے خلاف قومی رائے عامہ تیار کرنے کی کوئی بھی کوشش بہر صورت ناقابل قبول، خلاف قانون اور قوم و ملک کے  خلاف رویہ ہی سمجھی جائے گی۔ عمران خان نے تازہ بیان میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ اگرچہ ان کا مقصد اپنے  حامیوں کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں تحریک انصا ف کو کامیاب کروانے کا پیغام دینا تھا لیکن ایک قومی سیاسی لیڈر کی حیثیت میں اور ایک شہری کے طور پر انہیں قومی مفادات  اور حساسیات کا خیال بھی رکھنا چاہئے۔ ان بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرکے سیاست کرنے والا کوئی شخص  جلد یا بدیر پاکستانی عوام کی حمایت سے بھی محروم ہوجائے گا۔   سیاست دان  سے قومی تعمیر کی توقع کی جاتی ہے۔  قوم کومسلسل تصادم و بحران کی طرف دھکیلنے والا  لیڈر قومی مقصد کا نگہبان نہیں کہا جاسکتا۔

ایکس پر جاری ہونے والے تازہ بیان میں عمران خان نے خاص طور سے سفیر اسد مجید کے واشنگٹن سے بھیجے گئے سائفر کا  حوالہ دے کر اسے پاکستان کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔  اور دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح  نہ صرف ملک میں ایک قانونی (تحریک انصاف ) حکومت کو تبدیل کیا گیا بلکہ وہ اب تک اسے اقتدار سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے  اپنے بیان میں  الزام لگایا ہے کہ ’ جن آقاؤں نے ملک میں حکومت تبدیل کروائی تھی، اب انہیں خوش کرنے کے لیے مجھے گواہوں سے جرح کرنے یا اپنے گواہ پیش کرنے کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔ کیوں کہ ان ’ایجنٹوں‘ کو پتہ تھا کہ اس صورت میں  بنگال کے میر جعفر کی طرح ہماری سیاسی تاریخ  میں ایک  نئی سیاسی غداری کا راز فاش ہوجائے گا‘۔  گویا عمران خان اس بات پر مصر ہیں کہ امریکہ نے نہ صرف ان کی حکومت کا تختہ الٹنے  کی سازش کی اور پاکستانی فوج نے تابعدار ی کرتے ہوئے  اس حکم  پر عمل کیا بلکہ وہ اب تک عمران خان کے خلاف مقدمات کو شفاف طریقے سے چلنے  میں رکاوٹ ڈال رہی ہے تاکہ اس کی ’ملک دشمنی ‘ کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔

عمران خان سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا نام لے کر ان پر امریکی سازش پر عمل کروانے کا الزام لگاتے رہے ہیں تاہم آج کے بیان میں انہوں نے بین السطور براہ راست موجودہ فوجی قیادت کو ملزموں کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ عمران خان کے پاس اگر ان دعوؤں کے ثبوت موجود ہیں تو وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں  اپنی مختلف النوع درجنوں اپیلوں کے دوران ان الزامات کا ثبوت پیش کرسکتے تھے۔ لیکن دل میں آئے گمان یا وہم کو بہر حال کسی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن عمران خان انتخابات سے پہلے سیاسی کامیابی کا خواب دیکھتے ہوئے  اپنے خلاف پاکستانی فوج پر امریکہ کے ساتھ ساز باز کرنے کا جو سنگین الزام عائد کررہے ہیں ، وہ ان کی  مشکلات میں اضافہ کرے گا۔

اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عمران خان نے  کہا تھا کہ وہ اب مزید ’خطرناک ‘ ہوجائیں گے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے سائفر سے کھیلنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اس سائفر سے کھیلتے ہوئے ملکی مفاد اور قومی وقار کو فراموش کرچکے ہیں۔ یہ سیاسی طرز عمل ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہے۔ عمران  خان خود کو  قوم کا ایسا اثاثہ قرار دینے سے گریز کرنا چاہئے جسے  ’تباہ‘ کرنے کے لیے امریکہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر صف آرا ہوچکا ہے ۔ حتیٰ کہ عمران خان کو گواہ پیش کرنے اور گواہوں پر جرح کرنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ اس کا جواب انہیں اپنی اور اپنے وکلا  کی حکمت عملی میں تلاش کرنا چاہئے۔  اپنے خلاف  مقدموں کی سماعت کے دوران بار بار وکلا تبدیل کیے گئے، چھوٹےچھوٹے تکنیکی پہلو کو لے کر ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا اور  مقدموں کی کارروائی کو  ملتوی رکھنے  کی سر توڑ کوشش کی گئی۔ سائفر  و توشہ خانہ کیسوں کے فیصلوں میں بہ صراحت اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عمران خان نے  عدالت  سے تعاون  نہیں  کیا ۔ججوں نے ان کے رویہ کو  ’نامناسب‘ قرار دیا ہے۔

عمران خان ان کوتاہیوں کو دور کرکے مناسب قانونی حکمت عملی  کے ساتھ  اپنے مقدموں کی پیروی کریں۔ اگر انہوں نے ہائی کورٹ میں  بھی  یہی طرز عمل اختیار کیا تو  خصوصی عدالت  و نیب کورٹ سے جاری ہونے والے فیصلوں  کو تبدیل کروانا آسان نہیں ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ عمران خان  سچ پہچانیں، سائفر لھیلنے کا سلسلہ بند کریں اور جان لیں کہ ان کی نجات  امریکہ  پر تبری بھیجنے سے نہیں ہوگی بلکہ   انہیں اعلیٰ  عدالتوں میں خود کو بے گناہ ثابت کرنا ہوگا۔