پاکستان کی پراسراریت یا بشری بی بی کا سر چڑھ کر بولتا جادو؟
- تحریر مختار چوہدری
- جمعہ 02 / فروری / 2024
یوں تو ملک پاکستان اپنے معرض وجود میں آنے سے ہی پراسرار ملک رہا ہے۔ ہم جس کو ہیرو سمجھتے یا جس کے حوالے سے ہمیں سمجھایا جاتا ہے کہ یہ ہیرو ہے، کچھ ہی عرصہ بعد وہ ہیرو مٹی کا مادھو نکلتا ہے۔
یا ہمیں خبر ملتی ہے کہ وہ تو ایک امریکی انڈر سیکرٹری کے حکم پر ہیرو بنایا گیا تھا۔ یا یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اصل ہیرو تو وہ انڈر سیکرٹری تھا۔ امریکہ بہادر بھی اپنے کسی انڈر سیکرٹری کو زیادہ عرصہ تک عہدے پر نہیں رکھتا، اسی لیے پاکستان میں بھی ہر دور میں آنے والے انڈر سیکرٹری بدلتے رہے ہیں۔ جن دوستوں نے شہاب الدین شہاب کی کتاب "شہاب نامہ" پڑھ رکھی ہے، وہ اس وقت کے امریکی انڈر سیکرٹری کی طاقت سے واقف ہوں گے۔ لیکن آج چونکہ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے، ہر قسم کی ٹیکنالوجی میں اتنے بڑے بڑے انقلاب آ چکے ہیں کہ اب خلا سے فضا تک اور زمین سے سمندروں کی گہرائی تک بہت کچھ عیاں ہو چکا ہے۔
لیکن ہمارے ملک کو آج بھی پراسراریت میں رکھا گیا ہے۔ ہماری ’خلائی مخلوق‘ بدستور اپنی پرانی روش برقرار کرنے پر بضد ہے۔ اور اصل ہیروز (عوام) کو باندھ رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین روز میں پاکستان میں ہونے والے فیصلوں، کچھ سیاستدانوں کے بیانات اور اشاروں نے کئی خفیہ معاہدوں کی جھلک دکھائی ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام "کل تک" میں بات کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے ایک ہی سانس میں کچھ متضاد باتیں کہیں۔ فرماتے ہیں کہ موجودہ سپہ سالار کے ہوتے ہوئے سازش نہیں ہو سکتی اور وزیراعظم یقیناً نواز شریف ہی ہوں گے۔ اب اس معنی خیز جملے کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ میاں خورد کو بڑے میاں صاحب کو وزیراعظم بنانے کی یقین دہانی کروائی جا چکی ہے یا معاہدہ کیا جا چکا ہے۔ اور ساتھ ہی دل میں خوف بھی دکھائی دیتا ہے کہ کہیں کوئی چیز کروائی گئی یقین دہانی کو کمزور نہ کر دے، میاں خورد صاحب اسی سانس میں فرما گئے کہ 8 فروری کو جو فیصلہ عوام کریں گے ہم اسے قبول کریں گے۔ یعنی عوام جسے بھی منتخب کریں وہ ہمیں قبول ہوگا۔
اس سے لگتا ہے کہ پہلی یقین دہانی مشروط ہے کہ ہم آپ کو کھلا میدان دے کر ملک کی گلیاں آپ کے مرزے کے لیے سجا دیتے ہیں۔ آپ کے حریفوں کو باندھ دیتے ہیں مگر عوام کی حمایت آپ کو خود حاصل کرنا ہوگی۔ یا جو تھوڑی بہت کسر ہوگی، وہ ہم انتظامیہ اور پولنگ عملے کی مدد سے پوری کروا لیں گے۔ یا پھر ایک خدشہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انتخابات کی منڈی میں کئی دوسرے آڑھتی بھی اپنا سودا لگا کر اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ اپنی وفاداری کا یقین بھی دلا رہے ہیں۔ تو کہیں ایسا نہ ہو ہمارے ساتھ کئی دوسروں کو بھی خوش کیا جانا ہو اور ہمیں حکومت دینے سے پہلے اپاہج کرکے دوسروں کی بیساکھیوں پر کھڑا نہ کیا جائے۔ کیونکہ میاں صاحب نے اسی سانس میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ لنگڑی لولی حکومت ملک کو مشکلات سے نہیں نکال سکتی ہے۔ اس لیے ہمارے اعضا کو کچھ مضبوط کیا جائے۔
میاں صاحب اپنے تضادات کو جاری رکھتے ہوئے ایک طرف سیاسی مکالمے کو وقت کی اشد ضرورت سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے مخالفین یا ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کو مزید سختی سے باندھنے کی بات بھی کرتے ہیں۔
ادھر راولپنڈی میں ہونے والے عدالتی فیصلوں اور دی گئی سزاؤں کی پراسراریت بھی بہت گہری ہے۔ ڈیل یا ڈھیل کے ساتھ سختیوں میں اضافے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے اندر لگائی گئی تین عدالتوں میں جو افراتفری کا ماحول دیکھا گیا اور جس سرعت سے مقدمات کی سماعت اور جس عجلت میں فیصلے سنائے گئے، وہ بھی پراسراریت کی سیاہی سے لکھے لگتے ہیں۔ پوری دنیا کے عدالتی نظام میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ کسی ملزم سے حق دفاع ہی چھین لیا جائے۔ کیوبا کے اندر امریکہ کی طرف سے قائم کیے گئے عقوبت خانوں میں لگائی گئی عدالتوں میں دشمن ملک کے دہشتگردوں کو بھی حق دفاع دیا گیا۔ تو اپنے ہی ملک کے اندر ایک مقبول سیاسی راہنما اور سابق وزیراعظم کا یہ حق سلب کرنا جہاں سمجھ سے بالاتر ہے وہی پراسرار بھی۔
عام طور پر پاکستانی عدالتوں کی کارروائی دہائیوں پر محیط ہوتی ہے۔ تب جا کر کہیں کوئی فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن جج ابو الحسنات ذوالقرنین اور کئی ایکسٹینشوں والے جج محمد بشیر کی عدالتوں میں یہ انقلاب کیسے آیا کہ ملزمان کے وکلا کو موقع ہی نہ دیا گیا اور ان کی جگہ ریاست (ایک طرح سے مدعی) کی طرف سے نامزد کیے گئے وکلا سے کام چلا کر فوری فیصلے دئیے گئے۔ مزید پراسراریت یہ کہ سابق خاتون اول اپنی سزا کا پتا چلنے کے بعد حد رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ گاڑی چلوا کر اڈیالہ جیل پہنچ کر اپنی گرفتاری پیش کرتی ہے۔ مگر انہیں مختلف حیلے بہانوں سے سارا دن سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بٹھا کر گرفتاری سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ اور شام کو بنی گالہ سب جیل بن جاتی ہے اور مجرمہ کو سخت سیکیورٹی میں وہاں منتقل کیا جاتا ہے۔
اس فیصلے کی پراسراریت کی انتہا ملاحظہ کیجئے کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو اس کا علم ہی نہیں کہ تین سو کنال پر مشتمل رہائش گاہ کو سب جیل کس نے اور کیوں قرار دیا ہے؟ میڈیا کے لوگ اس کھوج میں لگے ہیں کہ بشری بی بی پر یہ عنایت اور رعایت کس نے اور کیوں کر کی ہے؟ جبکہ بشری بی بی نے کہا ہے کہ ہم بہادر لوگ ہیں، ہم جیل کی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم نے کسی سے درخواست نہیں کی کہ مجھے بنی گالہ کے اندر سزا کاٹنے دی جائے۔ اگر کسی کو شک ہے تو مجھ سے یہ سہولت واپس لے لی جائے۔ عمران خان نے بھی واضح کیا ہے کہ جب ہماری جماعت کی کئی خواتین 9 مئی کے مقدمات میں جیلوں کی صعوبتوں کا سامنا کر رہی ہیں تو ایسے میں ہم کیوں کسی رعایت کی درخواست کریں گے؟
اب ہم کیا سمجھیں کہ یہ پنکی پیرنی صاحبہ کا ’جادو‘ ہے جس نے بشری بی بی کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کر دیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہم سب کو بشری بی بی کی خدمت میں عرض کرنا چاہیے کہ ایک ایسا جادو بھی کر دو کہ ہمارا ملک مشکلات سے نکل آئے، ہمارے اوپر چھائی پراسراریت کا پردہ اٹھ جائے۔