عراق اور شام کے بعد یمن میں امریکی حملے

  • اتوار 04 / فروری / 2024

امریکہ اور برطانیہ نے یمن میں 13 مقامات پر حوثی جنگجوؤں کے 36 ٹھکانوں پر مشترکہ حملے کیے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے جمعے کے روز شام اور عراق میں 85 اہداف پر حملے کیے۔

امریکہ کی جانب سے یہ ردِعمل امریکی فوجی اڈے پر مہلک ڈرون حملے کے جواب میں آیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے کہا ہے کہ حالیہ حملے ’کشیدگی میں اضافہ نہیں ہیں‘ اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملے ’غیر قانونی اور ناقابل قبول‘ ہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں نے نومبر میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی تھی۔ شپنگ کمپنیوں نے بحیرہ احمر کا استعمال بند کر دیا ہے ، جو عام طور پر عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 15فیصد ہوتا ہے۔ اس کے بجائے جنوبی افریقہ کے ارد گرد ایک طویل راستہ استعمال کر رہے ہیں۔

حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم  بہت سے حملہ آور بحری جہازوں کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عراق اور شام پر جمعے کی رات ہونے والے امریکی حملے متوقع طور پر احتیاط سے کیے گئے تھے لیکن یہ گزشتہ ماہ کیے جانے والے حملوں سے کچھ بڑھ کر تھے۔ تاہم یہ ایران پر براہ راست حملہ نہیں تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالیہ عدم استحکام کے پیچھے زیادہ تر ایران کی طاقت ملوث رہی ہے۔