الیکشن اور ما بعد
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 04 / فروری / 2024
فیض احمد فیض کو گلہ تھا اور شاید بجا بھی تھا:
نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مئے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے
اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے
فیض احمد فیض کا گلہ ذاتی اور قلبی واردات تھی۔ جبکہ ہمارا حال یہ کہ انتخابات کی تاریخ طے ہونے اور بظاہر انتظامات کے باوجود ملک بھر میں یقین کی بہار بے یقینی کی دھند میں اترنے کے راستے ڈھونڈ رہی ہے ۔ ملک کے دو صوبوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گردی کی متعدد وارداتیں ہوئیں۔ کئی انتخابی امیدوار اور معصوم شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے بار بار اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ۔ سینٹ میں قرارداد کے ذریعے اور جے یو آئی نے واشگاف انداز میں خراب موسم اور دہشت گردی کی بنا پر انتخابات کو موخر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
دہشت گردی کی وارداتوں کے سبب الیکشن کمیشن کے ارکان سے منسوب بیان بھی میڈیا کی زینت بنے کہ ’کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ اور یہ کہ الیکشن کمیشن کو امن و امان کا جائزہ لے گا۔ علاوہ ازیں سوشل اور مین سٹریم میڈیا پر تحفظات، اندیشوں اور مفروضوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اپنی جگہ جاری رہا ۔ اس اعتبار سے یہ منفرد ملکی الیکشن ہیں کہ عین ایک ہفتہ پہلے تک اس کے انعقاد کے بارے میں یقین کی بہار نہیں اتری ۔
الیکشن کمیشن نے دو روز قبل ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں کے پی کے اور بلوچستان کے آئی جیز کو بالخصوص مدعو کیا ۔ اس پس منظر میں الیکشن کے التوا کی خبریں پوری شدت سے گردش کرنے لگیں ۔ احباب میں سے کچھ ایک دوسرے سے تفنن طبع کی خاطر یا کافی لوگ مکمل سنجیدگی سے یہ سوال کرتے پائے گئے کہ الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں!
دوسری جانب سیاسی میدان میں انتخابی گہما گہمی بالاخر ہفتے ڈیڑھ سے جلسوں کی حد تک زور پکڑ رہی ہے۔ میدان میں موجود دونوں مین سٹریم پارٹیز یعنی نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے جلسوں کی رونق لگائی ہے۔ منشور بھی پیش کر دیے گئے ہیں۔ تاہم جلسوں میں منشور سے کہیں زیادہ حسب معمول ایک دوسرے پر دشنام طرازی پر زور ہے۔ منشور کا ذکر صرف وعدہ افزائی کی حد تک ہے، ورنہ جلسوں کی تقاریر کا تمام تر محور ایک دوسرے پر دشنام طرازی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری مصر ہیں کہ چوتھی بار وزیراعظم بننے کے امیدوار کی بجائے ایک نوجوان امیدوار منتخب کیا جائے۔
نون لیگ کے جلسوں میں تمام لیڈرشپ کا رخ، اس ایک پارٹی کی طرف ہے جس کے پاس نہ نشان موجود ہے اور نہ ہی وہ بطور پارٹی انتخاب میں ہے۔ اس کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس جماعت کے بانی اس ہفتے دو مقدمات میں بھاری سزا پا چکے لیکن اس کے باوجود نون لیگ کی تمام لیڈرشپ کا روئے سخن اسی ایک شخص اور ایک جماعت کی طرف ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مین سٹریم میڈیا پر پی ٹی ائی کے بانی عمران خان کا نام لینا بھی بقول شخصے منع ہے لیکن جلسوں کی تمام رونق انہی کے نام اور ان کی پارٹی پر تنقید کے دم سے ہے ںقول فیض:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
دو دن قبل الیکشن کمیشن کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد حتمی اعلان یہی ہے کہ انتخابات ہر صورت اپنے وقت پر منعقد ہوں گے۔ وقت کی قلت، خراب موسم کے پیش نظر دور دراز علاقوں میں فضائی سہولتوں کے ذریعے انتخابی سامان پہنچایا جائے گا ۔ کور کمانڈرز کانفرنس کی جانب سے اعلامیہ بڑا واضح تھا کہ امن و امان کی صورتحال کے لیے تمام تر ریاستی انتظامات طے ہیں۔ یوں بظاہر یقین کا موسم اترنے کے اسباب بن رہے ہیں۔
الیکشن کے نتائج کیا ہوں گے؟ اس پر بحث و تمحیص زور شور سے جاری ہے۔ پی ٹی ائی کے ارکان کسی ایک انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑ رہے بلکہ آزاد حیثیت میں انتخابی میدان میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ آزاد امیدوار اپنا وزیراعظم منتخب کر سکتے ہیں اگر ایوان میں انہیں عددی اکثریت حاصل ہو ۔
جس طرح بے یقینی اب تک چھائی رہی ہے اس کے پیش نظر انتخابات کی کریڈیبلٹی کے بارے میں سوالات اپنی جگہ ہیں۔ سب سے بڑی پارٹی یعنی پی ٹی آئی کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں مل رہا۔ حکومتی دعوؤں کے برعکس جگہ جگہ پی ٹی آئی کے امیدواروں اور کارکنان کو انتظامی جبر کا سامنا ہے۔ اس ماحول میں انتخابات کی کریڈیبلٹی پر سوالات غیر فطری بھی نہیں ۔
2018 میں عین الیکشن کی شام آر ٹی ایس بیٹھ جانے کی وجہ سے انتخابات کے نتائج کے بارے میں شبہات آج تک تعاقب کر رہے ہیں۔ موجودہ انتہائی منقسم سیاسی میدان اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر اٹھائے گئے سوالات اس امر کی طرف اشارہ ہیں کہ 2024 کے انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ جو بھی ہو، نتائج کی ورکنگ بالکل شفاف ہونی چاہیے۔ تاکہ ان انتخابات کی کچھ کریڈیبلٹی قائم ہو سکے۔ انتخابی نتائج کی کریڈیبلٹی سیاسی نظام اور ان انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔
انتخابات کے بعد حکومت کے نین نقش کیا ہوں گے؟ اس پر جتنی زبانیں اتنے بول، جتنی خواہشیں اتنے ہی خواہشوں کے گھوڑے، تاہم ایک امر طے ہے کہ جس منقسم اور منتقمانہ سیاسی ماحول میں انتخابات ہو رہے ہیں، کوئی ایک بھی سیاسی پارٹی شاید ہی سادہ اکثریت حاصل کر پائے۔ سادہ اکثریت کی موجودگی میں بھی نئی حکومت کو سیاسی میدان میں بھرپور عوامی تائید ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ تاہم اگر مخلوط حکومت بنی تو ملک کو درپیش معاشی ، انتظامی اور سیاسی چیلنجز کو نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
ملک اس وقت سیاسی بحران کے علاوہ قومی یک جہتی اور ہم اہنگی کے فقدان سے بھی دوچار ہے۔ گلگت بلستستان میں پچھلے تین ہفتوں سے گندم کی قیمت بڑھائے جانے پر دھرنا دیا جا رہا تھا ۔ مقامی حکومت نے بالآخر مظاہرین کے مطالبے کے آگے سر تسلیم خم کیا اور دھرنا مظاہرین منتشر ہوئے۔ مین سٹریم اور سوشل میڈیا الیکشن کی ہاہا کار میں اتنا مصروف رہا کہ یہ اہم خبر کم ہی جگہ اور توجہ پا سکی۔ اسی طرح بلوچستان میں امن عامہ کے مسائل تشویش ناک حد تک بڑھے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی تناؤ ملنے معاملات کو مزید الجھایا۔ وہ تو شکر ہے کہ دونوں ممالک نے تدبر اور تحمل سے معاملات کو بروقت سنبھال لیا ۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ اپنی جگہ توجہ طلب اور حل طلب ہے۔ کوئٹہ سے جبری گمشدگیوں کی آواز اٹھانے کے لیے اسلام اباد آئے مظاہرین اپنا دھرنا ختم کرکے واپس جا چکے لیکن کوئٹہ میں ایک بڑے جلسہ عام میں عوامی جوش و خروش اس امر کا غماز تھا کہ غم و غصہ گیا نہیں بلکہ کہیں نہ کہیں ابل رہا ہے۔ نئی حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ تمام وفاقی اکائیوں کے درمیان میں ہم آہنگی اور اعتماد کے رشتے کو بحال کرے۔ ماضی کی طرح چند علاقائی سیاسی کرداروں سے معاملات طے کرنے اور انہیں انتظامی اور مالیاتی مفادات پہنچا کر اصل عوامی مسائل اور غم و غصہ ختم ہونے کا نہیں ۔
نئی حکومت کو دوسرا بڑا چیلنج معاشی میدان میں ہوگا۔ گزشتہ دو سال سے پاکستان کی معاشی کیفیت دگرگوں اور بے یقینی کا شکار ہے۔ شرح مبادلہ بار بار کمزور ہونے کے بعد پچھلے کئی ماہ سے منظم طریقے سے کنٹرول کی جا رہی ہے۔ برآمدات میں معمولی سا اضافہ ہوا ہے، تجارتی خسارہ تمام سرکاری کوششوں کے بعد بمشکل کنٹرول کیا جا رہا ہے تاکہ آئی ایم ایف کا اگلا ریویو کامیاب ہو سکے۔ نئی حکومت کے سامنے سب سے پہلا معاشی چیلنج آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے پروگرام کا حصول ہوگا۔ اس پروگرام کی شرائط حسب معمول آسان نہیں ہوں گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ان سخت شرائط کے ساتھ حکومت کا دوسرا بڑا چیلنج صنعتی جمود کو توڑنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اب تک کا سیاسی نظام رئیل اسٹیٹ اور سرکاری سرپرستی کی صورت میں معیشت کو چلانے پر استوار رہا ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بہت کم رہا جبکہ بجٹ خسارہ ہمیشہ بڑھتا رہا۔ تجارتی اور جاری مالیاتی خسارہ بے قابو رہا ۔
اس لیے ماضی کے سرپرستانہ سیاسی طور اطوار اور شاہانہ انداز میں سیاسی حلیفوں کو نوازنے، نوکریاں بانٹنے اور دکھاوے کے انفراسٹرکچر پروجیکٹ کی عیاشی اب ممکن نہیں ہوگی۔ ملکی معیشت کو نئی ڈگر پر ڈالنے کے سوا چارہ کار نہیں۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے عالی دماغوں کے پاس ماضی کے آزمودہ نسخوں کے علاوہ نئے نسخے موجود نہیں۔ اور نہ ہی اپنے طریق بدلنے کی ان کے ہاں کوئی مجبوری یا خواہش ہے۔ ایسی صورت میں معیشت لشٹم پشٹم اگر پرانی ڈگر پر چلتی رہی تو وقت گزارا تو ضرور ہوگا لیکن معیشت اور گورننس میں کسی انقلابی تبدیلی کی توقع عبث ہے۔
اب تجزیے اور اندیشے رہے ایک طرف، انتخاب کا میدان بھی سامنے ہے اور انتخابی گھوڑے بھی۔۔۔ دیکھئے اور اپنا ووٹ ضرور ڈالئے۔