گیان واپی مسجد

برطانیہ میں انگریزوں کو ہم نے کبھی نہ مذہب اور نہ سیاست پر کوئی بات کرتے ہوئے پایا اور نہ کبھی ان باتوں میں بحث کرتے ہوئے۔اس کی وجہ شاید ان کا ملحد ہونا ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ مذہب لوگوں کا اپنا ذاتی معاملہ ہے تو اس سلسلے میں بات یا بحث کرکے کسی کی دل شکنی نہ کی جائے۔

ویسے یہ  بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کی آڑ میں ایک طبقہ کسی کو نیچا دکھانا چاہتا ہے یا کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا چاہتا ہے۔ جو کہ اخلاقی طور پر ایک ناقابلِ قبول عمل ہے۔لیکن ایسے لوگوں کے برعکس انگریزوں کے منہ سلے رہتے ہیں اور وہ مذہب تو کیا سیاست پر بھی گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں۔جبکہ تقابلی طور پر ہم ہندوستان کی بات کرتے ہیں تووہاں ہر محفل میں سیاست اور مذہب کا بھوت لوگوں پر سوار رہتا ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں سیاسی اور مذہبی طور پر لوگ کتنے حساس اور جذباتی ہیں۔نیز لوگوں کو ورغلانے کے لیے ٹیلی ویژن اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا پر بھی ایک خاص ایجنڈے کے تحت مذہبی اور سیاسی موضوعات میں متنازعہ گوشے کو اجاگر کیا جاتا ہے اور لوگوں کے جزبات کو بھڑکایا جاتا ہے۔

گویا مذہب کی سیاست سے عام انسان متاثر ہورہا ہے۔ جبکہ دیکھا جائے تو عام انسان کے معمول میں دن بھر کی مشقت کے بعد گھر پہنچنا اور اپنے پریوار کے ساتھ وقت گزارنا ہے لیکن مذہبی اور سیاسی مباحثے نے انہیں بھی اتنا الجھا دیا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی آلودگی سے گھر کے ماحول کو بھی آلودہ کر رہے ہیں۔ مجھے تو آج تک بابری مسجد کی شہادت یاد ہے جب انتہا پسند ہندوؤں نے منظم طریقے سے بابری مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا تھا۔ اس وقت میں کلکتہ میں تھا اور ڈر و خوف کا ایسا ماحول تھا کہ کئی روز تک ہم سب پریشان گھروں میں قید رہے۔ تاہم کلکتہ کے مسلمانوں نے ضبط و تحمل سے کام لیتے ہوئے ماحول کومزید خراب ہونے نہیں دیاجب کہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں تعصب اور انتہا پسندی کے جنون نے ہزاروں مسلمانوں کی جان لے لی۔

حال ہی میں یہ خبر نظر سے گزری کہ ہندو عبادت گزاروں نے بھارتی شہر وارانسی میں 17ویں صدی کی گیان واپی مسجد کے اندر پوجا کرنا شروع کر دیاہے اور ایسا عدالتی حکم کے بعد ہوا۔ایسا لگتا ہے کہ آج کل عدالتوں میں آستھا پر فیصلے ہورہے ہیں۔جب کہ یہ جگہ کئی دہائیوں سے متنازعہ ہے۔وارانسی میں گیان واپی مسجد مسلمانوں کی متعدد عبادت گاہوں میں سے ایک ہے جس پر وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت یافتہ دائیں بازو کے ہندو گروپوں نے کئی دہائیوں سے دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔وارانسی بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش، مودی کا پارلیمانی حلقہ ہے جس پر بی جے پی کی حکومت ہے۔

لیکن اب صورت حال بالکل مختلف ہوچکی ہے۔ مسلم مخالف سرگرمیوں کو بڑھانا مودی کے ہندوستان میں ایک عام رجحان بن گیا ہے اور اس صورت حال نے ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک عجیب الجھن پیدا کر دی ہے۔ کیونکہ ریاستی اور قومی سطح پر پر انتطامیہ نے اس لعنت کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی ہے اور اپنے رویے سے انتہا پسندوں کو بڑھاوا دے رہی ہے۔

1947میں انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی قیادت میں ہندوتوا کے حامی لوگوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کر دی۔ آر ایس ایس نے دراصل یہ مہم 1925میں اپنے قیام کے فوراً بعد شروع کر دی تھا۔اور غالباً یہ ان کالائحہ عمل ہی تھا جس نے کئی دہائیوں بعد آج سارے ہندوستان میں ہندوتوا کی لہر پھیلا دی ہے۔اور لوگ اقلیت فرقے کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔

سبھی پریشان ہیں کہ یہ نفرت کی سیاست کب ختم ہو گی۔ میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے ہندوستان کے مسلمان کئی طبقوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک طبقہ اب بھی ہندوؤں کے ساتھ رہ کر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ تو وہیں دوسرا طبقہ مذہب سے دور ہو کر اپنے روشن خیالات سے لوگوں کو مذہبی جنون سے پرہیز کرنے کی صلاح دے رہا ہے۔وہیں ایک اور طبقہ اس بات سے پریشان ہے کہ مندر مسجد کی سیاست کیا گل کھلائے گی۔ وہیں ایک اورطبقہ مسلمانوں کے مذہب، مدرسے، اور اسلامی رسومات کے حملے سے بھی کافی تشویش میں مبتلا ہے۔

فی الحال ہندوستان میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو اس بات کا علم ہے کہ  ان کواگر حکومت بنانی ہے تو واحد راستہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا ہوگا تاکہ وہ اپنی حکومت قائم رکھ سکے۔ اسی منشا و مقصد کے تحت وہ ہندوستان میں آئے دن کبھی مندر تو کبھی مسجد، تو کبھی مدرسے کی تعلیم، تو کبھی مغلیہ حکومت وغیرہ کامنفی ذکر کر کے، اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔

مسلمان تو ضبط و تحمل سے کام لے رہے ہیں اور باشعور لوگ مسلمانوں کو سمجھا بھی رہے ہیں۔ لیکن مسلمان ضبط و تحمل کے باوجود پریشان ہیں اور نت نئے خدشات میں گھرے رہتے ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں اقلیت کو  عدم تحفظ کا احساس ہونا افسوس ناک ہے۔لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ انسانیت کو مقدم سمجھنے والے گنگا جمنی تہذیب کا پرچم پھر بلند کریں گے اور تفریقی نظام ان کے اتحاد کے سامنے ختم ہوجائے گا۔