گستاخ خان؟

2018 میں پاکستان کی سپریم کورٹ سے صادق و امین کا تصدیق نامہ لینے والا عمران خان محض 4 برس کے اندر یعنی 2022 میں چور، جھوٹا، غدار اور بدکردار ٹھہرا، کیوں؟ کیا ہم سب پاکستانی اندھے اور جاہل ہیں جنہیں اپنے درمیان رہنے والے ایک شخص کے کردار کا علم نہیں تھا؟

یا پھر ایک پاکباز اور ولی صفت انسان اپنی زندگی کے 67 برس انتہائی پرہیز گار، نیک اور شریف رہا اور اس کے بعد اس کی زندگی میں اچانک اتنی بڑی تبدیلی آئی کہ وہ اخلاق، قانون اور اپنے دین کی تمام حدود کو پھلانگ گیا؟ کیا یہ سوچنے کی بات نہیں ہے؟ کہیں راقم کو بھی اس طرح کے الٹے سیدھے سوالات پوچھنے پر غدار نہ قرار دے دیا جائے؟ لیکن ہم سوچ تو سکتے ہیں نا کہ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ ایک بندہ 67 برس تک معصوم رہے اور پھر اچانک تمام حدوں کو پار کر جائے؟

سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ عدت کے دوران نکاح تو 7 برس پہلے ہوا تھا اور ہمیں اتنی دیر بعد جا کر علم ہوا کہ عمران خان اور اس کی بیوی نے اسلامی حدود کو توڑا ہے؟ اسی طرح عمران خان پر بغیر نکاح کے بیٹی پیدا کرنے کا الزام تو کئی دہائیاں پہلے سے موجود تھا۔ اس کے باوجود بھی خان صادق و امین ٹھہرا؟ کیا ہمارے معزز ججز صاحبان اس سے لاعلم تھے؟ پاکستان میں ایک شرعی عدالت بھی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل بھی موجود ہے۔ یہ دونوں فورمز بوقت ضرورت ریاست کے کام بھی آتے ہیں۔ کیا اس وقت یہ سب سو رہے تھے۔ یا ان کی عقل گھاس چرنے چلی گئی تھی؟

عمران خان کوئی عام شہری بھی نہیں تھا کہ اس کا کردار اکثریت کی آنکھوں سے اوجھل رہتا۔ بلکہ وہ تو دنیا میں کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان کا ایک دمکتا ستارہ رہا ہے۔ یہ وہی عمران خان ہے جس کا اعتماد پاکستان کرکٹ کو عروج پر لے گیا، یہ وہی عمران خان ہے جس نے نہ صرف پاکستان کو کرکٹ میں کامیاب کیا بلکہ دنیائے کرکٹ میں غیر جانبدار ریفریوں کا قانون بنوا کر انقلاب برپا کیا تھا۔ پھر کرکٹ سے فارغ ہوا تو اپنی ماں کے نام پر سرطان کے ہسپتال کا اتنا بڑا فریضہ اپنے ذمے لے لیا جس کے مکمل ہونے کا کسی کو یقین نہ تھا۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ خان کا اعتماد اور ایمان اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک لے گیا اور اب ایک کی بجائے تین ہسپتال بن چکے ہیں، جہاں سے لاکھوں مریض مستفید ہو رہے ہیں۔

اوپر بیان کیے گئے خان کے کارناموں کا مقصد عمران خان کی تعریف سے زیادہ یہ ہے کہ خان ایک ایسا شخص ہے جس کو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور دنیا کی اکثریت بھی جانتی ہے۔ تو پھر اس کا کردار کیسے خفیہ رہ سکتا تھا؟ اگر عمران خان کو غدار ہی قرار دینا بہت ضروری تھا تو پھر بہترین موقع تو تب تھا، جب اس نے طاہر القادری کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے سرخ علاقے میں تاریخ کا سب سے لمبا دھرنا دیا اور ریاستی اداروں پر حملے کیے تھے۔ لیکن اس کے بعد خان صاحب کو صادق و امین قرار دیا گیا۔ اب عمران خان نے ایسا کیا کر دیا کہ وہ پاکستان کا بدترین شخص ٹھہرا اور اس پر سینکڑوں مقدمات قائم ہو گئے اور نہایت عجلت میں پے درپے سزائیں سنائی جا رہی ہیں؟

یا پھر یوں سمجھا جائے کہ پاکستان کے اصل مقدس دربار پر اس نے اب گستاخی کی ہے؟ یا پھر ایک ہی دربار ریاست ہے، باقی اداروں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کیونکہ ہم اس سے پہلے یہ بھی دیکھ چکے ہیں، ایک وقت میں پاکستان کا سب سے ’پلید شخص‘ آصف علی زرداری ہوتا تھا۔ نہ اس سے بڑا کوئی بدعنوان سیاستدان تھا (حالانکہ وہ تب سیاست میں کوئی خاص ملوث ہی نہیں تھا صرف بے نظیر کا شوہر تھا) اس وقت کہیں بھی کوئی جرم ہو جاتا تو پاکستان کے سارے سیاسی اور ریاستی کھوجی کھرا زرداری کے گھر لے جاتے تھے۔ بدعنوانی میں زرداری صاحب کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا نام دیا گیا تھا۔ حالانکہ اس وقت ملکی خزانوں پر راج شریفوں کا ہوتا تھا۔ اور وہ اپنے کاروبار کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے رہے تھے۔

اسی طرح گجرات کے چوہدریوں نے بھی اپنے کاروبار خوب چمکائے۔ کیا ہم اتنے ہی اندھے ہیں کہ شریفوں کی 90 کی دہائی میں کی گئی بدعنوانیوں کا علم ہمیں 2017 میں جا کر ہوا۔ 10 سال بعد تو ویسے بھی چوریوں کا حساب ہی کوئی نہیں لے سکتا ہے۔ اگر چور کو پکڑنا ہو تو رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہیے۔ یا پھر مال لے کر جاتے ہوئے راستے میں روک لینا چاہیے۔ کم از کم وہ مال معدے میں جانے سے پہلے ہی برآمد ہو سکتا ہے۔ معدے سے ہو کر گٹر میں بہا دینے کے بعد تو پھر گند میں ہاتھ مارنے کے مترادف ہی رہ جاتا ہے۔ حاصل تو کچھ نہیں ہو سکتا۔

اگر متذکرہ بالا سوالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں جرم صرف ریاست کے خلاف گستاخی ہوتا ہے۔ اور تو کوئی جرم نہیں ہوتا اور ریاست باوردی ہو کر جناح ہاؤس تک محدود ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی کاروبار ایمانداری سے نہیں ہو رہا (سیاست اور مذہب بھی کاروبار ہیں)۔ وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ ایمانداری کا بھاؤ بہت کم ہے۔ البتہ ریاست کی تعریفیں، ریاستی ترانے اور ریاست کی خدمت کا بھاو ہمیشہ ہی تیز رہتا ہے۔ لہذا جس نے جو بھی کاروبار کرنا ہے وہ ریاست کی خدمت کرے اور ریاست کے اشاروں کو سمجھے اگر ایسا نہیں کر سکتا تو اپنا ٹھیلا اٹھا کر کسی اور ملک چلا جائے۔ یا پھر اپنا منہ بند کرکے کوئی محنت مزدوری کرے۔

اگر آپ ریاست کے تابعدار ہیں تو پھر آپ کا سودا ہاتھوں ہاتھ بکے گا اور آپ کو کوئی ٹیکس کا سوال بھی نہیں پوچھے گا۔ پھر آپ خواب بیچیں، دین فروخت کریں یا سیاست کی ہٹی کھولیں، سب کچھ چلے گا بلکہ دوڑے گا۔ اگر آپ سیاست میں نئی دکان کھول کر جلدی ترقی چاہتے ہیں تو اپنی دکان کے ساتھ پاک سر زمین، استحکام پاکستان جیسے الفاظ کا استعمال کریں۔ ہماری ریاست باوردی ہے، اس لیے وردی کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ اسی قانون کی خلاف ورزی پر اس وقت سب سے بڑا چور، جھوٹا، بدکردار اور بدعنوان عمران خان اور اس کی جماعت کے تمام لوگ جن کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ مٹھی بھر شرپسند کہلاتے ہیں۔